کیا بلائے جاں ، یہ کیا غم پہ اپنے ہائے

0
کیا بلائے جاں ، یہ کیا غم پہ اپنے ہائے
چلے کوئی رسمِ یار ہر کم پہ اپنے ہائے

کہ واعظِ عشق ، جاه حسرت ، وہ آہ بے تاب
گو حیف شانہ نہیں، یاں کچھ دم پہ اپنے ہائے

اے آ کہ کوئی یہاں ، جو بے ربط و بے سبب ہی
ہوں یاس و حرماں متاع پر نم پہ اپنے ہائے

فقط کہ ہے ہوش ابکے جو بے خودی یاں مجھ کو
کہ ابرو جمشید ، جامِ مے جم پہ اپنے ہائے

کہ موسی تھا پس قیامِ حق شہر صد بتاں میں
جو چشم لا، منا ، عزىَ سو خم پہ اپنے ہائے