Back to: محمود مظہر خاں موسی
0
| کیا بلائے جاں ، یہ کیا غم پہ اپنے ہائے چلے کوئی رسمِ یار ہر کم پہ اپنے ہائے کہ واعظِ عشق ، جاه حسرت ، وہ آہ بے تاب گو حیف شانہ نہیں، یاں کچھ دم پہ اپنے ہائے اے آ کہ کوئی یہاں ، جو بے ربط و بے سبب ہی ہوں یاس و حرماں متاع پر نم پہ اپنے ہائے فقط کہ ہے ہوش ابکے جو بے خودی یاں مجھ کو کہ ابرو جمشید ، جامِ مے جم پہ اپنے ہائے کہ موسی تھا پس قیامِ حق شہر صد بتاں میں جو چشم لا، منا ، عزىَ سو خم پہ اپنے ہائے |