• سبق : ٹھیلے والا شہزادہ
  • مصنف : ” خواجہ حسن نظامی “
  • ماخوذ از : ”بیگمات کے آنسو“

تعارفِ سبق

سبق ” ٹھیلے والا شہزادہ “ کے مصنف کا نام ”خواجہ حسن نظامی“ ہے۔ یہ سبق کتاب ”بیگمات کے آنسو“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

تعارفِ مصنف

آپ کا نام علی حسن ہے اور خواجہ نظام الدین اولیاء کے خاندان سے ہونے کی بناء پر نظامی کہلائے اور "خواجہ حسن نظامی” کے نام سے شہرت پائی۔ آپ کی تعلیم معمولی تھی۔ ابتداء میں اخباروں میں مضامین لکھے، پھر لغت گوئی وغیرہ کر کے چوٹی کے ادیب بن گئے۔ آپ کا طرزِ تحریر اپنی جگہ ایک منفرد چیز ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی روانی سے اور عام بول چال کی زبان میں بڑی باتیں کر جاتے ہیں۔ آپ کی مشہور کتابیں ”غدرِ دہلی کے افسانے اور بیگمات کے آنسو“ ہیں۔

سبق کا خلاصہ

اس سبق میں مصنف ایک ٹھیلے والے شہزادے کی کہانی بیان کررہے ہیں۔ جن پر دو لوگوں کے سر پھاڑنے کا مقدمہ ہے اور وہ مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا نام ظفر سلطان ہے۔ میں مرزا بابر بہادر شاہ بادشاہ کے بھائی کا بیٹا ہوں۔ میرے دادا ہندوستان کے شہنشاہ معین الدین اکبر شاہ ثانی تھے۔ غدر کے بعد میں نے ہزاروں پریشانیاں اٹھائیں ، ملکوں ملکوں پھرتا ہوا دہلی میں آگیا اور ٹھیلا چلانے کا کام کرنے لگا۔

یہ سن کر انگریز مجسٹریٹ نے بوڑھے شہزادے کو بری کردیا کیونکہ مدعیوں کے بیان سے ظاہر تھا کہ انھوں نے نشہ کی حالت میں پہلے مدعا علیہ یعنی شہزادے پر حملہ کیا تھا۔ اور پھر بوڑھے شخص نے اس دونوں کو مار کر اپنا بدلہ پورا کیا تھا۔

اس کے بعد انگریز مجسٹریٹ نے از راہ ہمدردی بوڑھے سے کہا کہ آپ کی پینشن تو مقرر ہے پھر آپ یہ کام کیوں کرتے ہیں ؟ جس پر بوڑھے نے جواب دیا کہ ٹھیلا چلانے سے اسے تین چار روپے مل جاتے ہیں جس میں سے کچھ وہ خرچ کرتا ہے اور کچھ اسے بچ جاتا ہے۔ وہ بہت خوش ہے اور جب تک اس کے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں وہ کما کر کھانا پسند کرے گا۔
بوڑھا اپنے ٹھیلے پر اپنے آپ کو بادشاہ محسوس کرتا تھا کیونکہ وہ بیلوں پر حکومت کرتا تھا نہ کہ خود بیل بن کر محکوم بن جائے۔ اس لیے وہ لوگ جنہوں نے اپنی عمریں ایم اے، بی اے کرنے میں ضائع کیں اور اب انگریزوں کے غلام بن کر کام کررہے تھے ، شہزادہ خود کو ان سے بہتر سمجھتا تھا۔
بوڑھے شخص سے مصنف نے ملاقات کی تو انہوں نے کہا کہ میں مرزا بابر کا بیٹا ہوں۔ جب غدر پڑا تو بادشاہ وغیرہ تو مقبرہ ہمایوں گئے لیکن میں نے اپنے دوست کی طرف کرنال کا رُخ کیا۔ میرے ساتھ میری نابینا والدہ بھی تھیں۔ ہم چلتے رہے اور دشواریوں کا سامنا کرتے کرتے رات کو ایک گاؤں میں قیام کیا۔ وہاں کے لوگوں نے سویرے ہمیں لوٹ لیا اور مجھے بےہوش کر کے میری والدہ کے ساتھ جنگل میں چھوڑ آئے۔ ہم وہاں سے چلنے لگے لیکن ہم دو وقت سے بھوکے تھے اور جنگل میں جھاڑیاں بےشمار تھیں، دوپہر کے وقت میں بےہوش ہونے لگا۔ وہاں ایک گنوار آگیا اور ہم سے سامان مانگنے لگا۔

ہمارے پاس کچھ بھی نہ تھا، اس نے مجھے مار کر بے ہوش کردیا اور میرے اور والدہ کے کپڑے اتار کر لے گیا۔ جب مجھے ہوش آیا میری والدہ دم توڑ رہی تھیں۔ میں نے انھیں وہیں دفنایا اور ایک جگہ درخت کے نیچے جا کر لیٹ گیا۔ وہاں سے ایک فوجی سوار گزر رہا تھا، وہ میرا حال سن کر مجھے اپنے ساتھ چھاؤنی لے گیا اور میرا علاج کروایا۔ میں اس کے ساتھ کچھ دن مٹیالے میں رہا پھر شہر در شہر پھرنے لگا۔ جب بمبئی پہنچا تو ایک قافلے کے ساتھ مکہ چلا گیا، وہاں دس برس گزارے پھر مدینے میں پانچ برس گزارے۔ پھر دو سال بغداد میں کاٹے اور وہاں سے دہلی چلا آیا۔ پھر میں نے مزدوری شروع کردی اور پھر پیسے بچا بچا کر ٹھیلا بنالیا اور اب اسی پر میرا گزر ہوتا ہے۔
مصنف نے ان سے پوچھا وہ یہ واقعہ اپنی کتاب میں شامل کرلیں تو انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ شامل کرنے کے ساتھ یہ ضرور لکھنا کہ :
”ہر گزرنے والی بات گزرنے والا وقت اور گزرنے والی راحت و تکلیف جھوٹی اور بے اصل ہوتی ہے۔ مگر اس میں عبرت ضرور ہے۔“

اس سبق کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال : مندرجہ ذیل محاوروں اور فقروں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

الفاظجملے
رخ کرناشہزادے نے غدر پڑنے پر کرنال کا رخ کیا۔
قہقہہ لگاناہمارے نبی ﷺ قہقہہ لگا کر نہیں ہنستے تھے۔
ہاتھ ڈالناہمیں کسی کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
ترس کھاناانگریز حکومت ترس کھا کر شہزادوں کو پینشن دیتی تھی۔
ہاتھ پھیلاناہمیں اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانے چاہیے۔
گزر اوقات کرناہمیں اپنے گزر اوقات کرنے کے لیے خود محنت کرنی چاہیے۔

سوال : اب فرض کیجیے کہ آپ نے اپنی موٹر کار کسی شخص کو بیچی ہے اور اس کی قیمت آپ کو وصول ہوئی ہے۔ آپ اس کی رسید لکھیے۔

رسید
میں نے عمر خان ولد محمد اسماعیل خان صاحب سے مبلع ساٹھ ہزار روپے (۶۰۰۰۰) بہ سلسلہ فروخت موٹر کار وصول پائے اور رسید لکھ دی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
محمد عماد
(وصول کنندہ)
مورخہ ۲۱ فروری ۲۰۲۱ء