Advertisement

غزل

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
اک شرحِ حیات ہو گئی ہے
کیا جانیے موت کیا تھی پہلے
اب میری حیات ہو گئی ہے
اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے
جس چیز کو چھو دیا ہے تو نے
اک برگ نبات ہو گئی ہے
ایک ایک صفت فراقؔ اس کی
دیکھا ہے تو ذات ہو گئی ہے

تشریح

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
اک شرحِ حیات ہو گئی ہے

شاعر کہتا ہے کہ محبوب نے جو آنکھوں آنکھوں میں بات کردی ہے وہ کوئی ایسی ویسی معمولی بات نہیں ہے بلکہ اس نے آنکھوں آنکھوں ہی سے گویا زندگی کی شرح کردی ہے۔

Advertisement
کیا جانیے موت کیا تھی پہلے
اب میری حیات ہو گئی ہے

شاعر کہتا ہے کہ محبت کرنے سے پہلے ہم کو معلوم نہیں تھا کہ موت کیا چیز ہوتی ہے۔ لیکن اب جب سے محبت کی ہے اور اس کی تکلیف سے دوچار ہوئے ہیں تو لگتا ہے کہ یہی موت جیسے ہماری حیات ہو گئی ہے۔

Advertisement
اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے

بیمار کی رات بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ تکلیف شدت اختیار کر لیتی ہے۔کیونکہ اس دور میں انسان بھی مشکلات و تکلیف سے دوچار ہے لہذا شاعر کہتا ہے کہ اس دور میں انسان کی زندگی بیمار کی رات کی طرح ہو گئی ہے۔ گویا بہت تکلیف دہ ہو گئی ہے بہت ہی خوبصورت شعر ہے۔

Advertisement
جس چیز کو چھو دیا ہے تو نے
اک برگ نبات ہو گئی ہے

معشوق، عاشق کو ایک نظر دیکھ لیتا ہے تو عاشق جی اٹھتا ہے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ اس کا یہ جادو صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ جس کسی چیز کو بھی ہاتھ لگا دیتا ہے چُھو دیتا ہے اس میں تازگی آجاتی ہے۔ وہ ایک ہرے بھرے پتے کی طرح سر سبز ہو جاتی ہے۔

ایک ایک صفت فراقؔ اس کی
دیکھا ہے تو ذات ہو گئی ہے

مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ اس کی یعنی محبوب کی ایک ایک خصوصیت کو جب غور سے دیکھا تو اس میں حقیقت ہی کا عکس دکھائی دیا ہے۔گویا وہ حقیقت ہو گئی ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement