غزل

جگ میں کوئی نہ ٹُک ہنسا ہوگا
کہ نہ ہنسنے میں رو دیا ہوگا
ان نے قصداً بھی میرے نالے کو
نہ سنا ہو گا، گر سنا ہوگا
دیکھئے اب کے غم سے جی میرا
نہ بچے گا، بچے گا، کیا ہوگا
دل زمانے کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہوگا؟ جو رہ گیا ہوگا
حال مجھ غمزدہ کا جس تس نے
جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
قتل سے میرے وہ جو باز رہا
کسی بد خواہ نے کہا ہوگا
دل بھی اے درد! قطرۂ خوں تھا
آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا

تشریح

پہلا شعر

جگ میں کوئی نہ ٹُک ہنسا ہوگا
کہ نہ ہنسنے میں رو دیا ہوگا

زمانہ کسی کو خوش نہیں رہنے دیتا۔ اب شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے کہ وہ ذرا مسکرایا ہو اور زمانے نے اس کو رُلایا نہ ہو۔یعنی وہ ہنستے ہی رو نہ دیا ہو۔

دوسرا شعر

ان نے قصداً بھی میرے نالے کو
نہ سنا ہو گا، گر سنا ہوگا

محبوب عاشق کی جانب سے ہمیشہ غافل رہتا ہے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ محبوب نے ارادتاً بھی میرے نالے کو اَن سُنا کر دیا ہوگا۔گویا اس نے میری آہ وفغاں کو سُن کر بھی ‌نہ سُنا ہوگا۔

چوتھا شعر

دل زمانے کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہوگا؟ جو رہ گیا ہوگا

شاعر کہتا ہے کہ زمانہ کسی کو سکون میّسر نہیں ہونے دیتا۔ کوئی ایسا دل نہیں ہے کہ جو زمانے کے چکر سے سلامت بچا ہو۔

پانچواں شعر

حال مجھ غمزدہ کا جس تس نے
جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا

شاعر کہتا ہے کہ میں غموں کا مارا ہوا جس کسی نے بھی میرا حال سنا ہوگا وہ ضرور زاروقطار رویا ہوگا۔یعنی میری حالتِ زار کا قصہ سن کر کوئی رونے سے بچ نہیں سکتا۔

آٹھواں شعر

دل بھی اے درد! قطرۂ خوں تھا
آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ دل کو کہاں تلاش کریں۔اس کی حقیقت ایک قطرۂ خون سے زیادہ نہیں ہے اور ہم جو بے قراری کے عالم میں زار و قطار رو رہے ہیں، جو خون کے آنسو رو رہے ہیں، دل بھی اُنھیں آنسوؤں میں کہیں بہہ گیا ہوگا۔

Advertisements