غزل

قسم ہے حسرت دل ہی کے آستانے کی
ہوس ہو جی میں جو دیر و حرم میں جانے کی
طریق اپنے پہ ایک دور جام چلتا ہے
وگرنہ جو ہے،سوگردش میں ہے زمانے کی
نظر نہ کیجو تو میرے دل کے خطروں پر
نہ جی میں لائیو کچھ بات کیا دوانے کی
جفا و جوڑ اٹھانے پڑنےوالے زمانے کے
ہوس تھی جی میں کسی ناز کے اٹھانے کی
طریق ذکر تو ہے درد! یاد عالم
طرح بتا تو کچھ اپنے تئیں بھلانے کی

تشریح

پہلا شعر

قسم ہے حسرت دل ہی کے آستانے کی
ہوس ہو جی میں جو دیر و حرم میں جانے کی

شاعر کہتا ہے کہ ہم نے دیر و خرم، مندر و مسجد چھوڑ دیے ہیں۔اب ہم صرف محبوب کی جُستجو میں رہتے ہیں۔ ہمارا دل جس طرف مائل ہے اسے مندر و مسجد کی حاجت نہیں ہے۔ لہذا ہمیں اس اپنے دل کے آستان مزار ہی کی قسم ہے کہ جو اس دل میں مندر و مسجد جانے کی خواہش بھی باقی ہو۔

دوسرا شعر

طریق اپنے پہ ایک دور جام چلتا ہے
وگرنہ جو ہے،سوگردش میں ہے زمانے کی

شاعر کہتا ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے زمانے کی گردش ہی سے ہوتا ہے اپنے کیے سے تو کچھ نہیں ہوتا۔ ہمارے انداز پر تو محض شراب کا پیالہ چلتا ہے۔

تیسرا شعر

نظر نہ کیجو تو میرے دل کے خطروں پر
نہ جی میں لائیو کچھ بات کیا دوانے کی

شاعر محبوب سے مخاطب ہے۔ کہتا ہے کہ میں نے جو شکائتیں اپنے دل کے ٹوٹ جانے کی تم سے کی ہیں تم ان پر دھیان مت دینا۔ ان کو دل میں مت لانا کہ میں دیوانہ ہوں دیوانے کی بات کا کیا ہے اس پر کوئی کیوں کر غور کرے اور پریشان ہو۔

چوتھا شعر

جفا و جوڑ اٹھانے پڑنےوالے زمانے کے
ہوس تھی جی میں کسی ناز کے اٹھانے کی

شاعر کہتا ہے کہ واہ رے مقدر کہ کہاں یہ خواہش تھی کہ کسی حسین کے ناز اٹھاتے، نخرے اٹھاتے اور کہاں زمانے کے ظلم و ستم اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

پانچواں شعر

طریق ذکر تو ہے درد! یاد عالم
طرح بتا تو کچھ اپنے تئیں بھلانے کی

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ قُرآن پاک کی تلاوت کا طریقہ تو دنیا کو معلوم ہے لیکن آپ کے اس کی یاد میں بلا دینا دُنیا کو نہیں آتا۔ لہذا اے درد تو دُنیا کو کوئی ایسا طریقہ بتا دے جس سے وہ خود کو اس کی یاد میں بُھلا سکے۔

Advertisements