دنیا میں کوئی بھی شاعری کا دلدادہ ایسا نہیں ہے جو ڈاکٹر کلیم عاجز کے نام سے واقفیت نہ رکھتا ہو۔ ڈاکٹر کلیم عاجز بہار کے ایک انتہائی مشہور شاعر گزرے ہیں۔ ان کے والد یا والدہ کے خاندان میں کوئی شاعر نہیں گزرا تھا۔ ان کی شاعرانہ ذوق و شوق کا آغاز بٹوارۂ ہند سے پہلے ہوا۔

ان کی ولادت 1920ء میں تیلہاڑہ نامی چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی جسے قدیم زمانے میں بدھ مت کا خانقاہ مانا جاتا تھا۔ انکے علاقے کے ایک فرقہ وارانہ قتلِ عام میں ان کے خاندان کے بیشتر افراد مار دیے گئے۔ البتہ ان کے اس غم نے انھیں دنیا سے متنفر کرنے کہ بجائے ایک بہترین انسان بنا دیا۔

ان کی ولادت 1920ء میں تیلہاڑہ نامی چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی جسے قدیم زمانے میں بدھ مت کا خانقاہ مانا جاتا تھا۔ انکے علاقے کے ایک فرقہ وارانہ قتلِ عام میں ان کے خاندان کے بیشتر افراد مار دیے گئے۔ البتہ ان کے اس غم نے انھیں دنیا سے متنفر کرنے کہ بجائے ایک بہترین انسان بنا دیا۔

ڈاکٹر کلیم عاجز کی شاعری عوام کو بے حد متاثر کرتی ہے کیونکہ انکا انداز سادہ اور معاشرتی اقدار کا حامل تھا۔ امتیازی شاعرانہ خدمات کے لیے حکومت ہند نے انھیں 1982ء میں ‘پدماشری’ کے اعزاز سے نوازا۔ ان کی غزلیں ‘جب فصل بہاراں آئی تھی’، ‘وہ جو شاعری کا سبب ہوا’، ‘خشبو ہی خشبو تھی’ اور ‘پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا’ قابلِ آفریں ہیں۔ عاجز نے کبھی کوئی ادبی یا سیاسی تحریک میں حصہ نہیں لیا لیکن وہ تہذیبی میدان میں نہایت ہی کامیاب تھے۔ ان میں یہ اہلیت تھی کہ مشاعروں میں بیسویں صدی کے نامور شاعر مثلاً فراق گورکھپوری سے توجہ ہٹا کر خود پر مرکوز کرلیں۔

فراق گورکھپوری ان کی شاعری کے شیدا تھے۔ عاجز کی کتاب ‘جب فصل بہاراں آئی تھی’ کے پچھلے صفحہ میں انھوں نے لکھا تھا، "میں سوچتا ہوں کہ میں خوش قسمت ہوں جو مجھے کلیم عاجز کی غزلیں انکی زبانی سننے کا موقع نصیب ہوا۔ جب میں نے ان کا کلام سنا، انکی شاعری نے میرے دل میں ہم آہنگی، محبت اور بے حد خوشی پیدا کردی۔ مجھے انکی شاعری سے انتہائی الفت ہے۔”

14 فروری 2015ء کو جھارکھنڈ کے شہر ہزاری باغ میں ڈاکٹر کلیم عاجز رحلت فرما گئے۔ انہیں ان کے آبائی گاؤں میں دفن کیا گیا۔