غزل

با زیچہ اطفال ہے دنیا میں آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے
جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستی اشیا مرے آگے
مت پوچھ، کہ کیا حال ہے میرا؟ ترے پیچھے
تو دیکھ، کہ کیا رنگ ہے تیرا، مرے آگے
پھر دیکھئے انداز گل افشانی گفتار
رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
نفرت کا گُماں گزرے ہے،میں رشک سے گزرا
کیوں کر کہوں،لو نام نہ ان کا مرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے،جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے
عاشق ہوں، پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لیلٰی میرے آگے
خوش ہوتے ہیں، پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
آئی شب ہجراں کی تمنا، مرے آگے
گو ہاتھ میں جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالب کو بُرا کیوں کہو؟ اچھا مرے آگے

تشریح

پہلا شعر

با زیچہ اطفال ہے دنیا میں آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

شاعر کہتا ہے کہ میں اس مقام پر ہوں کہ یہ دنیا میری نظر میں بچوں کا کھیل ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے سامنے رات دن ایک تماشا ہو رہا ہے۔ مطلب یہ کہ میں حادثات دنیا کو بچوں کا کھیل سمجھتا ہوں اور اسے دیکھ کر خوش ہو لیتا ہوں۔

دوسرا شعر

اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے

شاعر کہتا ہے کہ میں تخت سلمان، جو آسمان میں اڑا کرتا تھا، کو محض ایک کھیل حال سمجھا کرتا ہوں اور اعجاز مسیحا، کہ جو مردوں کو زندہ کرتے تھے، میرے نزدیک ایک معمولی سی بات ہے۔ یعنی دنیا اور اہل دنیا کے کمالات میری نظر میں بے وقعت ہیں،ہیچ ہیں۔

تیسرا شعر

جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستی اشیا مرے آگے

شاعر کہتا ہے کہ میں صورت الم کو محض ایک نام ہی خیال کرتا ہوں اس سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا اور اس میں اشیا کی ہستی کو وہم سے تعبیر کرتا ہوں۔ وہم اسے کہتے ہیں جس کا کوئی وجود نہ ہو۔ حاصل شعر یہ ہے کہ ذات خُدا کے سوا میں کسی کو موجود نہیں سمجھتا۔

چوتھا شعر

مت پوچھ، کہ کیا حال ہے میرا؟ ترے پیچھے
تو دیکھ، کہ کیا رنگ ہے تیرا، مرے آگے

شاعر کہتا ہے کہ مجھ سے یہ مت پوچھ کہ تیرے پیچھے میرا کیا حال ہوتا ہے بس یہ جان لے کہ جس طرح تو میرے آگے حیا اور شوخی سے شرمایا رہتا ہے اسی طرح تیرے پیچھے یعنی تیری جدائی میں، میں بے قرار رہتا ہوں۔

پانچواں شعر

پھر دیکھئے انداز گل افشانی گفتار
رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے

شاعر کہتا ہے کہ کوئی میرے سامنے ساغر و شیشہ رکھ دے، پھر دیکھئے میں کس انداز سے بات کرتا ہوں۔ میرے منہ سے کیسے پھول جھڑتے ہیں۔

چھٹا شعر

نفرت کا گُماں گزرے ہے،میں رشک سے گزرا
کیوں کر کہوں،لو نام نہ ان کا مرے آگے

شاعر کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص تیرا نام میرے سامنے لیتا ہے تو مجھے رشک کے سبب سے ناگوار گزرتا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ تیرا نام میرے سامنے نہ لے۔ کیوں کہ ایسا کہنے سے سننے والا اس غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے کہ مجھے تیرے نام سے نفرت ہے۔ لہٰذا میں ایسے رشک سے باز آیا جس سے نفرت کا گمان ہو۔

ساتواں شعر

ایماں مجھے روکے ہے،جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے

شاعر کہتا ہے کہ میں عجیب کشمکش میں پھنس گیا ہوں کہ ایک طرف کعبہ ہے اور ایک طرف گرجا۔ کُفر مجھے اپنی طرف کھینچتا ہے اور ایمان مجھے ادھر جانے سے روکتا ہے۔

آٹھواں شعر

عاشق ہوں، پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لیلٰی میرے آگے

روایت ہے، عاشق معشوق کے فریب میں آ جاتا ہے۔ لیکن شاعر کہتا ہے کہ میں ایسا عاشق ہوں جو معشوق کے فریب میں نہیں آتا بلکہ میں اسی کو فریب دیتا ہوں۔ لہٰذا یہ میری معشوق فریبی ہی کا نتیجہ ہے کہ لیلٰی میرے سامنے مجنوں کو برا کہتی ہے۔یعنی مجھے اس سے اچھا خیال کرتی ہے۔

نواں شعر

خوش ہوتے ہیں، پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
آئی شب ہجراں کی تمنا، مرے آگے

شاعر کہتا ہے وصل میں سبھی خوش ہوتے ہیں لیکن میری طرح خوشی میں مر جاتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ شب ہجراں میں جو میں اکثر مر جانے کی دُعائیں مانگا کرتا تھا وہ شب وصل میں میرے آگے آئی ہیں۔

دسواں شعر

گو ہاتھ میں جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

آخری وقت قریب ہے۔ نا طاقتی اس قدر ہے کہ ہاتھوں میں بالکل سکت نہیں رہی ہے۔وہ حرکت بھی نہیں کر سکتے۔اب شاعر کہتا ہے کہ کیا ہو اگر ہاتھوں میں حرکت کرنے کی طاقت نہیں تو۔آنکھوں میں تو ابھی دم موجود ہے۔ اس لیے شراب و ساغر کو میرے سامنے سے مت اٹھاؤ تاکہ اسے دیکھنے ہی سے میرے دل کو تسکین ہوتی رہے۔

گیارھواں شعر

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالب کو بُرا کیوں کہو؟ اچھا مرے آگے

چوں کہ غالب میرا ہم نوالہ،ہم پیالہ اور ہم راز ہے،اس لیے آپ اسے بُرا کیوں کہتے ہو۔آپ اسے برا کہتے ہیں تو گویا مجھے برا کہتے ہیں۔

Advertisements