غزل

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اﷲ اﷲ
اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا
دل سے مٹنا تیری انکشت حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
ہے مجھے، ابر بہاری کا برس کر کھلنا
روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا
گرنہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
کیوں ہے؟ گردِ رہ جولان صبا ہو جانا
تاکہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
دیکھ برسات میں سبز آئنیہ کا ہو جانا
بخشے ہے جلوہ گل ذوق تماشا غالب!
چشم کو چاہئیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

تشریح

پہلا شعر

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

قطرہ بظاہر فنا ہوجاتا ہے تو حقیقتاً اس کی موت نہیں ہوتی بلکہ وہ اصل سے جا ملتا ہے۔یعنی وہ خود دریا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یہ اس کے لئے باعث مسرت ہوتا ہے۔اسی طرح غالب کہتے ہیں کہ جب درد سے حد گزر جاتا ہے تو انسان مر جاتا ہے۔ مر کر اس کے سب درد و الم ختم ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے معبودِ حقیقی سے جا ملتا ہے اس طرح درد کا حد سے گزرنا ہی اس کے لئے دوا ہو جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فنا ہی ہستی مقصود ہے۔

دوسرا شعر

اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اﷲ اﷲ
اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا

شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ’’اﷲ اﷲ‘‘ کلمہ تعجب ہے۔آپ کو اپنے عشاق سے کس قدر نفرت ہے کہ اب آپ ان پر جفا کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ ہم پر آپ کرم فرماتے تھے اور اب یہ عالم ہے کہ ہم آپ کی جفاؤں سے بھی محروم ہیں۔

تیسرا شعر

دل سے مٹنا تیری انکشت حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

شاعر کہتا ہے کہ ہمارے دل سے تمہاری انکشت حنائی کا خیال مٹنا بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے۔یہ اتنا ہی مشکل اور نا ممکن ہے کہ جس طرح ناخن کا گوشت سے جدا ہونا مشکل و ناممکن ہے۔مثل مشہور ہے کہ گوشت سے ناخن کبھی جدا نہیں ہوتا۔

چوتھا شعر

ہے مجھے، ابر بہاری کا برس کر کھلنا
روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا

شاعر کہتا ہے کہ غم فرقت میں روتے روتے ختم ہو جانا میرے لئے ایک معمولی بات ہے ایسی معمولی بات کہ جیسے ابر بہاری کا برس کر کھلنا۔گویا روتے روتے فنا ہونا باعثِ انبساط ہے۔

پانچواں شعر

گرنہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
کیوں ہے؟ گردِ رہ جولان صبا ہو جانا

شاعر کہتا ہے کہ اگر نگہت گل کو تیرے کوچے میں جانے کی آرزو نہیں ہے تو پھر وہ کیوں صبا کے رستے کی گرد بنانا پسند کرتی ہے۔یعنی کیا وجہ ہے کہ وہ بادِ صبا میں شامل ہو جاتی ہے۔پھولوں کی خوشبو کے ہوا میں شامل ہونے سے عیاں ہے کہ اسے ہوا کے ساتھ تیرے کوچے میں جانے کی خواہش ہے۔

چھٹا شعر

تاکہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
دیکھ برسات میں سبز آئنیہ کا ہو جانا

برسات میں چوں کہ ہوا میں نمی سی ہوتی ہے لہٰذا فولادی آئینہ زنگ آلودہ ہو جاتا ہے،جیسے آئینے کا سبز ہونا کہتے ہیں۔ غالب نے اس شعر میں ہوا بہ معنی خواہش اور ہوا دانوں استعمال کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ برسات میں فولادی آئینے پر زنگ اس لیا آجاتا ہے کیونکہ اس کو ہوائے صیقل ہے کا زنگ لگے گا تو اس کی صفائی ہو گی اس میں جلا پیدا ہوگی۔ لہٰذا خواہش اور شوق وہ چیز ہے کے فولاد کے اندر بھی موجود ہے اور وہ فولاد پر بھی اثر کرتی ہے۔

ساتواں شعر

بخشے ہے جلوہ گل ذوق تماشا غالب!
چشم کو چاہئیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

شاعر کہتا ہے جلوہ گل سے دید کا مزاق سلیم پیدا ہوتا ہے۔اس لیے انسان کی آنکھوں کو ہر کیفیت سے لطف اندوز ہونا چاہیے تاکہ شوق مطالعہ کی تربیت ہو سکے۔مطلب یہ کہ انسان کو چاہیے کہ باغ عالم میں ہر رنگ کا لطف اٹھائیں تاکہ خدا کے ہنر کو پہچان سکے۔

Advertisements