Advertisement

حرف

بنیادی طور پر حرف وہ ہے جو نہ تو کسی کا نام ہو ، نہ کسی مصدر سے مشتق ہو بلکہ یہ دوسرے حکمات کے ساتھ مل کر معنی دیتے ہیں۔ حرف کے غیر اسم اور فعل دونوں ہیں۔ جیسا کہ وہ کام پر گیا، اگر تم محنت کرتے تو کامیاب ہو جاتے۔ ان میں سے پر اور اگر ہٹا دیں تو باوجود اسم ، فاعل اور مفعول ان کے جملوں میں کوئی ربط نہیں ہو گیا اور نہ ہی صحیح معنی دیں گے۔ حروف کو چار بڑی اقسام میں تقسیم کر دیا گیا ہے:

Advertisement
  • 1۔ حروف ربط
  • 2۔ حروف عطف
  • 3۔ حروف تخصیص
  • 4۔ حروف فجائیہ

1۔حروف ربط:

​اس میں وہ حروف آتے ہیں جو ربط و رابطے کا کام دیتے ہیں جیسے: اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ میں نے صبح سے شام تک کام کیا۔
اس کی مزید دو اقسام ہیں:​حروف جار،​حروف اضافت۔

Advertisement

2۔ حروف عطف:

​حرف عطف وہ حروف ہوتے ہیں جو دو یا دو سے زیادہ لفظوں یا جملوں کو ملانے کا کام دیتے ہیں۔جیسے: سب آئے مگر وہ نہیں آیا، اگر وہ نہ آیا تو مجھے جانا پڑے گا۔ درج بالا جملوں میں مگر اور تو حروف عطف ہیں۔ اس کی مزید سات اقسام ہیں:(حروف وصل،حروف تردید، حروف استدراک، حروف استثناء، حروف علمت، حروف ببامیز)

Advertisement

3۔ حروف تخصیص:

​وہ حروف ہیں جو کسی اسم یا فعل کے ساتھ آکر اس کے معنوں میں کوئی خصوصیت پیدا کریں جیسا کہ: اکیلا، تو، شباہت، صرف، فقط، محض، نرا، ہر ہی، حال وغیرہ۔

4۔ حروف فجائیہ:

​ایسے الفاظ جو جذبے کی شدت ، غیض و غضب، حسرت و تالیف ، خوشی اور غم، نفرت وغیرہ کے موقع پر استعمال ہوتے ہیں۔ ان کو حروف فجائیہ کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ وہ حروف جو کسی کو پکارنے کے لئے استعمال ہوں وہ بھی حروف فجائیہ کہلاتے ہیں۔حروف فجائیہ کی 20 اقسام ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

Advertisement
  • 1۔ حروف ندا
  • 2۔ حروف انبساط
  • 3۔ حروف تالیف
  • 4۔ حروف مذمت و نفرت
  • 5۔ حروف تعجب
  • 6۔ حروف رنج و توبہ
  • 7۔ حروف تشبیہ
  • 8۔ حروف قسم
  • 9۔ حروف تاکید
  • 10۔ حروف اختصار
  • 11۔ حروف تشبیہ
  • 12۔ حروف استفہام
  • 13۔ حروف ایجاب
  • 14۔ حروف مفاجات
  • 15۔ حروف نفی
  • 16۔ حروف خیر مقدم
  • 17۔ حروف اضراب
  • 18۔ حروف مقدار
  • 19۔ حروف ظرفیت
  • 20۔ حروف تہنیت
تحریرمحمد ذیشان اکرم
Advertisement

Advertisement

Advertisement