ایک بار کا واقعہ ہے کہ ہم تین دوست صبح صبح ایک خوبصورت باغ کی سیر کی غرض سے گھر سے اپنی گاڑی لے کر نکلے۔ ہمارا ارادہ گھر سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ایک خوبصورت باغ میں سیر کر کے 12 بجے گھر واپسی کا تھا۔ چنانچہ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہم اس باغ میں پہنچ گئے اور باغ میں گھومنے کے بعد اطہر ملک نے کہا کہ یہاں سے دو تین کلو میٹر کی دوری پر ایک بہت ہی خوبصورت آبشار ہے چلیے اسے بھی دیکھ آتے ہیں۔

ساجد اور فیضان نے بھی حامی بھری اور ہم تینوں آبشار کی طرف چل دیے۔ ابھی ایک کلومیٹر آگے پہنچے تھے کہ ہماری گاڑی خراب ہوگئی۔ ہم تینوں نے بہت جدوجہد کی لیکن ہمیں گاڑی ٹھیک نہ ہو سکی۔ یہ بڑی قومی شاہراہ تھی اور بہت سے لوگ اپنی اپنی کاریں لے کر پاس سے گزر جاتے لیکن کسی نے ایک بار بھی روک کر ہماری اس سنگین مصیبت کا حالِ زار تک نہ پوچھا۔

اب شام کا وقت بھی قریب سے قریب ہوتا جا رہا تھا اور ہمیں گھر بھی جانا تھا۔ ہم تینوں بہت ہی مایوس ہو کر سڑک کے کنارے کھڑے تھے کہ اچانک ایک کار ہمارے پاس آکر رُکی اور اس میں سے میرا ایک دوست عاقب وانی نکلا۔ اس نے ہماری پریشانی کا سبب پوچھنے کے بعد اپنی گاڑی میں سے ایک رسّا نکالا اور ہماری گاڑی کے ساتھ باندھ کر ہماری گاڑی کو گھر کی طرف لے آیا۔ اس پر اطہر اور فیضان اور میں نے عاقب وانی کی اس وقتی مدد کا بہت شکریہ ادا کیا۔

سبق:

دوست وہی ہے جو مصیبت میں کام آئے