Advertisement

ایک مرتبہ کا ذکر ہے ایک جنگل میں ایک کتا اور اس کا مالک رہتا تھا۔ کتے کا نام شیرو تھا اور اس کے مالک کا نام ڈینی تھا۔ دونوں اپنی زندگی ہنسی خوشی میں بسر کررہےتھے۔ ایک دن ڈینی کو ضروری کام کے سلسلے میں شہر جانا پڑتا ہے اور ایسے میں شیرو گھر میں اکیلا تھا۔ گھر میں کھانے پینے کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ شیرو کا بھوک سے بہت برا حال تھا وہ بھوک کی وجہ سے نڈھال ہوتا جا رہا تھا۔

Advertisement

آ خر کار وہ کھانے کی تلاش میں نکلتا ہے۔ کھانا ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ ایک مچھلی فروش کی دکان پر آ جاتا ہے۔ وہاں اس کی نظر باہر پڑی ایک مچھلی پر پڑی۔ وہ اس مچھلی کو اٹھا کر وہاں سے بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔ بھاگتے بھاگتے وہ ایک تالاب کے پاس آ جاتا ہے اور جب وہ تلاب میں اپنا عکس دیکھتا ہے تو اسے ایک اور کتا تالاب میں نظر آتا ہے اور اس کے پاس بھی ایک مچھلی ہے۔ لالچ میں آکر وہ اس سے مچھلی کو چھیننا چاہتا ہے اور جب وہ اپنا منہ کھولتا ہے تو اس کے منہ سے مچھلی تالاب میں گر جاتی ہے۔ اب اسے اپنی غلطی کا بہت احساس ہوتا ہے کیونکہ اس نے دوسری مچھلی کی لالچ میں آکر اپنی ایک مچھلی کو بھی کھو دیا۔

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں کوئی بھی کام جلد بازی میں نہیں کرنا چاہیے اور جو آپ کے پاس ہے اس میں خوش رہنا چاہیے۔ حسد اور لالچ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ کے لالچ بری بلا ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement
Advertisement