Advertisement

ایک جنگل میں شیر، گیدڑ، لومڑی، ہرن اور بہت سے دوسرے جانور رہتے تھے۔ شیر خود کو جنگل کا سب سے بڑا اور افضل ترین جانور سمجھتا تھا اور جنگل کا بادشاہ کہلانے پر فخر محسوس کرتا تھا۔ وہ جب اور جس وقت چاہتا کسی نہ کسی جانور کو جھپٹتا اور اس کو کھا جاتا۔

Advertisement

سارے جانوروں کو ہر وقت اپنی جان کا خطرہ لگا رہتا تھا کہ نہ جانے کب اور کس وقت کس کی باری آجائے۔

ایک دن کئی جانور مل کر شیر کے پاس گئے اور باری باری کہنے لگے۔ "شیر بادشاہ تم واقعی ہمارے بادشاہ ہو اور ہم تمہاری ریایا، لیکن اگر تم ہم سب کو ایک ایک کرکے کھا جاؤگے تو تمہاری ریایا ختم ہو جائے گی پھر تم کن پر اپنی حکومت کرو گے؟”

شیر دھاڑتے ہوئے کہا۔
"ارے بے وقوفو! اگر اس جنگل میں جانور ختم ہوگئے تو میں کسی اور جنگل میں چلا جاؤں گا۔ ابھی مجھے ایسی کوئی فکر نہیں کیونکہ فی الحال اس جنگل میں بے شمار جانور ہیں جنہیں کھا کر میں کئی برس گزار سکتا ہوں”

Advertisement

یہ کہہ کر وہ ایک مرتبہ اپنی خوفناک آواز میں دھاڑا اور ان جانوروں میں سے ایک کو دبوچ کر کھا گیا۔ باقی جانور جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان جانوروں کو راستے میں لومڑی مل گئی اور انہوں نے لومڑی سے کہا۔ بی لومڑی! فوراً یہاں سے بھاگ جاؤ ورنہ شیر بادشاہ تمہیں بھی کھا جائے گا۔”

Advertisement

لومڑی بولی بھائیو گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں نے ایک ترکیب سوچی ہے اور مجھے پکا یقین ہے کہ میں اپنی اس ترکیب پر عمل کرکے اپنی اور تم سب کی جان اس نامراد سے بچا لوں گی.

ہم سب کو اس مردود سے نجات مل جائے گی۔ اگلے روز لومڑی شیر کے پاس پہنچی سلام کیا اور شیر کا حال پوچھا۔ شیراس وقت بہت بھوکا تھا لومڑی کو دیکھ کے اس کے منہ میں پانی بھر آیا کیونکہ وہ لومڑی بہت موٹی تازی تھی۔ اس نے لومڑی سے کہا۔

Advertisement

” اچھا ہوا تم خود ہی چلی آئی ہوں ورنہ آج میں تمہاری تلاش میں جانے والا تھا۔ میری کئی روز سے تم پر نظر تھی اور تمہارا گوشت کھانے کی تمنا تھی۔”

چلاک لومڑی نے جواب دیا "شیر بادشاہ میں بہت پہلے تمہارے پاس آ جاتی لیکن جب میں اس طرف آ رہی تھی تو راستے میں ایک اور شیر مجھے مل گیا اور کہنے لگا کہ میں جنگل کا بادشاہ ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ نہیں ہم ایک شیر کو اپنا بادشاہ سمجھتے ہیں تو وہ دھاڑ کر بولا۔

"کون ہے وہ میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ میں بھاگ کھڑی ہوئی اور کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچی تاکہ تمہیں یہ خبر سنا دوں کہ اس جنگل میں ایک اور بادشاہ پیدا ہو گیا ہے”

Advertisement

لومڑی کی زبانی کسی اور شیر کے متعلق سن کر اس شیر کو بڑا غصہ آیا۔ نتھنے پھلا کر کہاں ہے وہ بدمعاش میں ابھی اس کو اس کی گستاخی کی سزا دیتا ہوں۔

لومڑی نے بتایا وہ شیر ایک میل دور پہاڑی کے پاس کنویں کی منڈیر پر بیٹھا ہوا ہے اور اسی جگہ رہتا ہے۔ شیر نے کہا مجھے وہاں لے چلو تاکہ میں ابھی اور اسی وقت اس گستاخ کو مزہ چکھا دوں۔

لومڑی بولی ہاں ہاں شیربادشاہ میرے ساتھ چلئے۔ چنانچہ چالاک لومڑی اس کو اپنے ہمراہ لے کر اس طرف کو چل دی۔ راستے میں وہ شیر کے ساتھ باتیں کرتی جارہی تھی اور اس کی خوب تعریفیں کرتی جارہی تھی۔ بالآخر ایک کنویں کے پاس پہنچ کر بولی۔ "شیر بادشاہ کنویں کی منڈیر پر چڑھ جاؤ دوسرا شیر تمہیں ضرور نظر آ جائےگا۔ شیر کنویں کی دیوار پر چڑھ گیا۔ کنویں کے اندر پانی تھا اور پانی میں اس کو اپنا عکس دکھائی دیا تو اس کو وہ دوسرا شیر سمجھ بیٹھا۔

دوسرے شیر کو دیکھتے ہی غصے میں برا حال ہوگیا اور وہ اپنی خوفناک اور گرجدار آواز میں دھاڑا۔ قدرتی طور پر عکس کے اندر بھی شیر دھاڑا جس کو وہ اپنا دشمن سمجھتا تھا۔ دو تین مرتبہ یہی تماشہ ہوا آخر شیر نے شدید غصے کی حالت میں عکس والے شیر پر حملہ کرنے کے خیال سے کنویں میں چھلانگ لگادی۔کنواں کافی گہرا اور گدلے پانی سے بھرا ہوا تھا۔ بالآخر شیر کنویں کے اندر ڈوب کر مرگیا۔

Advertisement

لومڑی خوشی خوشی اپنے دوست جانوروں کے پاس پہنچی اور انہیں خوشخبری سنائی۔ میں شیر بادشاہ کو ختم کر آئی ہوں اب ہم سب کی جان محفوظ رہے گی۔ سب جانوروں نے لومڑی کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اس کی بہت تعریف کی اور کہا کہ خدا نے تمہیں سب سے زیادہ عقل ہو سمجھ دی ہے۔ سب جانوروں نے ایک جگہ جمع ہو کر خوب جشن منایا۔

واقعی لومڑی ایک بہت چالاک جانور ہے

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement