نظم گُلِ رنگیں کی تشریح

یہ نظم بھی علامہ اقبال کے پہلے شعری مجموعہ ‘بانگِ درا’ میں شامل ہے اور ہیئت کے اعتبار سے مسدس یعنی چھ مصرعوں والی نظم ہے۔علامہ اقبال نے کئی نظمیں مسدس کی ہیئت میں لکھی ہیں۔اس نظم میں بھی وہی بحر استعمال کی گئی ہے جو ان کی پہلی نظم "ہمالہ” میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس نظم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ پھول بہت دلکش ہوتا ہے لیکن اس میں تحقیق و تلاش کا مادا نہیں ہوتا اور انسان اگرچہ سراپا درد و غم ہے لیکن اس میں ادراک یعنی علم حاصل کرنے کی قوت موجود ہوتی ہے۔

دوسری بات بات جو غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ یہ نظم اس زمانے کی ہے جب علامہ اقبال فطرت کا مطالعہ کر رہے تھے اور تحقیق و تلاش میں مصروف تھے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس نظم کا موضوع بہت معمولی ہے لیکن علامہ اقبال نے اس سے بہت اعلی نکتہ پیدا کیا ہے۔ اس نظم کا انداز بھی انگریزی نظموں سے ملتا جلتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں اقبال انگریزی شعراء کا مطالعہ کر رہے تھے۔ یہ نظم چار بندوں پر مشتمل ہے جن کی تشریح ملاحظہ ہو۔

پہلا بند

اے گلاب کے حسین پھول! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیرے سینے میں دل نہیں ہے اگر دل ہوتا تو، تو بھی میری طرح سراپا تلاش اور آرزو ہوتا لیکن تیری زندگی میں کوئی آرزو نہیں پائی جاتی۔

دوسرا بند

دوسرا بند بھی پہلے بند کی مزید وضاحت کرتا ہے۔ شاعر پھول سے مخاطب ہے اور کہتا ہے کہ تو دردّ اُلفت سے واقف نہیں ہے لیکن میں تو سراپا آرزو ہوں تو مطمئن رہ میں گلچین نہیں ہوں یعنی میں تجھے شاخ سے جدا کرکے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔ میں ماہر علمِ نباتات بھی نہیں ہوں کہ پہلے تجھے شاخ سے جدا کروں ، پھر تیری پتیاں الگ کروں ، پھر ان کے ٹکڑے کروں اوردیکھوں کہ تیری پتیاں کن اجزا سے مرکب ہیں بلکہ میں تو حسن پرست یعنی عاشق فطرت ہوں ، میں تو تجھے عشق کے زاویۂ نگاہ سے دیکھتا ہوں یعنی تیرے حُسن و جمال سے لطف اندوزی کے لئے تجھ کو شاخ سے توڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

تیسرا بند

اے گل تو چپ چپ رہتا ہے یہ کیا بات ہے؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیرے سینے میں کوئی راز پوشیدہ ہے۔ کیا تجھے اپنے اصلی وطن باغ جنت سے جدائی کا خیال ستا رہا ہے؟ یہ بات بھی کسی حد تک صحیح ہے کیونکہ تیری اور میری دو نوں کی اصل یہ دنیا تو نہیں ہے ، تو بھی جنت سے آیا ہے اور میں بھی جنت ہی سے آیا ہوں لیکن ہم دونوں میں فرق بھی ہے ، وہ یہ کہ تو اپنی حالت سے بالکل مطمئن ہے مگر میں تیری خوشبو کی طرح منتشر یعنی پریشان رہتا ہوں کیونکہ میں زخمی شمشیر تحقیق و تلاش ہوں ، میرے اندر تحقیق و جستجو کا مادہ ہے اور یہ مادہ مجھے ہر وقت آمادۂ تلاش رکھتا ہے۔

چوتھا بند

بظاہر تو میری زندگی سراپا سوز و گداز ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فطرت نے میرے ساتھ ناانصافی نہیں کی ہے۔ میری یہ پریشانی ہی دراصل میرے فارغ البالی کا سنگ بنیاد ہے اور تحقیق و تلاش کے سلسلے میں جس قدر جگر سوزی اور کاوش مجھے کرنی پڑتی ہے اس کا صلہ یہ ملتا ہے کہ میرے علم میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بظاہر میں ناتواں ہوں نہ شیر کے جیسے پنجے ہیں لیکن یہی ناتوانی مجھے حفاظت کے سامان پر آمادہ کرتی ہے۔

اگرچہ میں حیران رہتا ہوں لیکن یہی حیرانی مجھے تحقیق و تلاش کرنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جستجوئے پیہم جو بظاہر مجھے پریشان رکھتی ہے اس دنیا کی ساری دلفریبی کا سبب ہے۔ اگر یہ جذبہ کارفرما نہ ہوتا تو انسان ابھی تک عالم برہنگی یعنی ننگا غاروں کے اندر ہی زندگی بسر کرتا ہوتا۔ اسی جذبۂ تحقیق نے انسان کو ترقی اور بلندی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ یعنی اسی کی بدولت تہذیبِ انسانی نے موجودہ بلند مرتبہ تک ترقی کی ہے۔

Advertisements