خطاب بہ جوانان اسلام کا خلاصہ

علامہ اقبال کی نظم "خطاب بہ جوانانِ اسلام” ان کے پہلے اردو شعری مجموعہ "بانگ درا” میں شامل ہے۔ اس نظم کل 12 اشعار ہیں جن کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

علامہ اقبال نے اس نظم میں مسلمان نوجوانوں سے خطاب کیا ہے اور انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ تم اپنے بزرگوں کے رائج طریقوں کو چھوڑ کر دنیا میں فلاح و بہبود حاصل نہیں کرسکتے۔ چناچہ وہ نوجوانوں سے مخاطب ہیں کہ ایک نوجوان! کبھی تو نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ تو جس قوم کا فرد ہے وہ کسی زمانے میں نہایت عظیم الشان تھی، تجھے اس قوم نے پالا ہے جس نے ایران جیسی عظیم الشان سلطنت کو پامال کر دیا تھا۔

تیرے اسلاف عرب کے صحرا سے اٹھے جہاں وہ محض شتربانی کرتے تھے لیکن اسی قوم نے تمام دنیا کو تہذیب و تمدن کے علاوہ اصول حکمرانی بھی سکھائے۔ تیرے اسلاف میں ایسی خوبیاں تھیں کہ ان کی بادشاہت میں بھی درویشی کا رنگ جھلکتا تھا۔ وہ اتنے غیرت مند تھے کہ کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کرتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ تجھے اپنے آبا ؤ اجداد اور بزرگوں سے کوئی نسبت نہیں ہے۔ تو محض باتیں ہی باتیں بناتا ہے مگر وہ جو کہتے تھے وہ سچ کر دکھاتے تھے۔

یوں اسلاف کی میراث کھو دینے سے تو محض ذلیل و خوار ہو کر رہ گیا ہے۔ حکومت تو ہے خیر ایک عارضی چیز ہے، اس کے جانے کا اتنا غم نہیں جتنا رنج اس بات کا ہے کہ آج ہمارا علمی سرمایہ یورپ کی لائبریریوں میں ہے اور وہ اس سے استفادہ کر رہے ہیں اور ہم اس سے محروم ہیں۔

بقول غنی کاشمیری! حضرت یعقوب علیہ السلام کی بدقسمتی دیکھئے کہ ان کی آنکھوں کی روشنی (حضرت یوسف علیہ السلام) نے زلیخا کی آنکھوں کو روشن کیا۔

علامہ اقبال کی یہ نظم بڑی دلکش، دل پذیر اور اثر آفرین ہے۔ علامہ اقبال نے اس میں احساسات اور دلی جذبات کا سہارا لیا ہے اور مقصد یہ ہے کہ قوم کے نوجوانوں کے اندر اپنی حالت کا اپنے آباؤ اجداد کی حالت سے موازنہ کرنے کا خیال پیدا ہو۔

Advertisements