Advertisement

نظم شمع اور شاعر کی تشریح

اقبال کی نظم ‘شمع اور شاعر‘ بانگ درا کی ان اہم نظموں میں سے ہے جن کا جواب جدید اردو ادب میں نہیں مل سکتا،بعض نقادوں نے اس کو بانگ درا کی بہترین نظم قرار دیا ہے۔ ممکن ہے سب لوگ اس خیال سے اتفاق نہ کرسکیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر بانگ درا میں سے بہترین تین نظمیں منتخب کی جائیں تو یہ نظم اس انتخاب میں ضرور شامل ہو گی۔اس کی چند اہم خصوصیات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

Advertisement

(١) اس میں شاعری اور فلسفہ کا امتزاج ملتا ہے
(٢) ساری نظم رمزیہ انداز میں لکھی گئی ہے، الفاظ کچھ ہیں لیکن ان سے مراد کچھ اور ہے۔
(٣)یہ اس دور کی نظم ہے جب اقبال کی اردو شاعری پر فارسی رنگ غالب آ چکا تھا. چنانچہ اس کا پہلا بند اردو کے بجائے فارسی میں ہے۔
(٤)چونکہ اس زمانے (١٩١٤) میں قبال مسلمان ملکوں کی تباہ حالی سے بہت متاثر تھے اس لئے اکثر اشعار میں سوزوگداز کی کیفیت نمایاں ہے۔مثلا یہ مصرعہ؀
تھا جنہیں ذوق تماشا وہ تو رخصت ہو گئے

Advertisement

ان جذبات کا ترجمان ہے جو عالم اسلام پر مصائب کا نزول دیکھ کر ان کے دل میں موجزن تھا۔

Advertisement

(٥)چونکہ یہ نظم انہوں نے ‘شعر گفتن’ کے لیے نہیں، بلکہ درد دل کا اظہار کرنے کے لئے لکھی تھی اس لئے اس کے اکثر بیان میں جوش بیان کی صفت پائی جاتی ہے۔

(٦)چونکہ اس نظم میں انہوں نے قوم کو عشق رسول کا پیغام دیا ہے اس لیے "شمع” کو واسطہ بنایا ہے جو سوز و دردوں کا ‘خارجی مظہر’ ہے۔ واضح ہو کہ لالہ کی طرح "شمع” اقبال کی شاعری میں ایک نشان یا علامت ہے جس طرح اکبر کی شاعری میں شیخ یاسر سید یا صاحب ہے۔

Advertisement

(٧) اگرچہ قوم کی مجرمانہ غفلت کی داستان انتہائی دردناک انداز میں بیان کی ہے لیکن اس تلخابہ کے بعد تریاق بھی مہیا کیا ہے یعنی دوبارہ سربلندی کا طریقہ بھی بتایا ہے۔

(٨)اول سے آخر تک بندش بہت چست ہے، شوکت الفاظ اور زور بیان کی صفت تحسین سے بالاتر ہے۔ہر مصرع شاعری کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے آرزو کا شائبہ نظر نہیں آتا۔پروفیسر سروری نے بالکل سچ لکھا ہے کہ یہ نظم بانگ درا کا دل ہے۔

Advertisement

تنقیدی جائزہ

چونکہ یہ نظم خاصی طویل ہے اور اقبال نے اپنے خیالات کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے اس لئے ذیل میں اس کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ طلباء ہر بند کے بنیادی تصور سے آگاہ ہوکر پوری نظم کو بآسانی سمجھ سکیں۔

پہلے بند میں شاعر نے شمع سے یہ سوال کیا ہے کہ اگرچہ میں نے بھی تیری طرح اپنے آپ کو مدتوں عشق کی آگ میں جلایا۔ لیکن اس کا سبب کیا ہے کہ میرے شعلہ کا طواف کرنے کے لیے کوئی پروانہ نہیں آیا یعنی کوئی شخص میرے جنوں کا تماشائی نہیں بنا؟

Advertisement

دوسرے بند میں شمع نے پہلے تو ذات خویش اور ذات شاعر میں فرق بیان کیا ہے پھر سوال کا جواب دیا ہے کہ شاعر کے شعلہ کا طواف کوئی پروانہ کیوں نہیں کرتا، پہلا سبب یہ ہے کہ قوم کے رہنما نااہل ہیں۔

تیسرے بند میں دوسرا سبب بیان کیا ہے کہ سچے مسلمان یعنی عاشقان رسول ایک ایک کر کے رخصت ہو چکے ہیں اور موجودہ مسلمانوں کے سینے اس جذبۂ عشق سے یکسر خالی ہیں یعنی قوم مردہ ہوچکی ہے۔

Advertisement

چوتھے بند میں دوسرے سبب کی مزید توضیح کی ہے یعنی تیسرے بند میں یہ کہا ہے کہ”کاروان بے حس ہے”پوچھو تھے بند میں یہ بتایا ہے کہ "کاروان کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا”گویا بے حسی کی تشریح کر دی۔

پانچویں بند میں قوم کی پستی اور زبوں حالی پر مرثیہ خوانی کی ہے۔اگرچہ مضمون وہی ہے جو مسدس حالی میں نظم کیا گیا ہے لیکن انداز بیان جداگانہ ہے، دھن وہی ہے مگر لے ذرا تیز ہو گئی ہے۔

Advertisement

چھٹے بند میں اس مایوسی کے اثر کو زائل کیا ہے جو پانچویں بن کے پڑھنے سے قدرتی طور پر دل میں پیدا ہو سکتا ہے یعنی قوم کو امید کی جھلک دکھائی ہے اور رہنمایان قوم کو کامیابی کا مژدہ سنایا ہے۔

ساتویں بند میں مسلمانوں کو ان کے انحطاط کے اسباب سے آگاہ کیا ہے۔ اس بند میں چونکہ اجتماعیت کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے اس لیے اس بند کو شاعری اور فلسفہ کا مقام اتصال یا سنگم کہہ سکتے ہیں۔اسی صفت نے اقبال کو ہندوستان کے شعراء کی صف سے بلند کر کے شعراء کے صف میں نمایاں جگہ عطا کردی۔

Advertisement

آٹھویں بند میں قوم کو عروج کی ترکیب بتائی ہے یعنی محبت اور خودی کا درس دیا ہے جو سربلندی اور کامیابی کے لئے شرط اولین ہے۔

نویں بند میں مسلمان کو اس کی "حقیقت” سے آشنا کیا ہے، جوش بیان کے علاوہ اس بند میں شاعری اور موسیقی دونوں بغلگیر ہو گئی ہیں۔

Advertisement

دسویں بند میں مسلمان کو اس کی اصلیت سے آگاہ کیا ہے اور اس بند کا ہر مصرع بلامبالغہ "آب حیات” کا مصداق ہے اور یہ مصرع تو سارے بند کی جان ہے،”تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ سامان بھی ہے”اس مصرع میں لفظ "وہ” کی معنویت اور بلاغت الفاظ کے ذریعہ سے واضح نہیں ہو سکتی صرف ذوق سلیم ہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

Advertisement

گیارہویں بند میں جو اس نظم کا آخری بند ہے اس نکتہ کو واضح کیا ہے کہ اگر قوم مجوزہ نسخہ پر عمل کرلے، یعنی اگر عشق رسولﷺ میں سرشار ہوکر تبلیغ اسلام پر کمربستہ ہو جائے تو کیا ثمرات مرتب ہوں گےیہ لکھنا تحصیل حاصل کہ یہ بند اس ساری نظم کی جان ہے کیونکہ اقبال کی تمناؤں کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ اقبال اپنی قوم سے کیا توقع رکھتے تھے۔

Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement