Advertisement

اشعار کی تشریح:

خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ

یہ نظم علامہ محمد اقبال کے مجموعہ کلام "ضرب کلیم ” سے لی گئی ہے۔اس نظم کے ذریعے علامہ اقبال نے خود شناسی کے فلسفے کو بیان کیا ہے اور ایک مومن کا طرز حیات کیا ہونا چاہیے، اقبال نے بیان کیا ہے۔ شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ خود کی شناخت کی پوشیدہ صلاحیتوں کو جاننے کا راز یا خود کی اصلاح یا تزکیہ نفس کا راز ایک ہی بات یعنی توحید میں پوشیدہ ہے کہ ایک خدا کے سوا سب غیر اللہ کی نفی کرکے صرف ایک حقیقی اللہ کے احکامات کی پیروی کی جائے۔جیسے تلوار کو فساں پر چڑھا کر اس کی دھار تیز کی جاتی ہے اور اسے صحیح معنوں میں تلوار بنایا جاتا ہے۔ ایسے ہی خود کی صلاحیتوں کو صرف ایک خدا کے احکامات کی پیروی کرکے مرتبۂ کمال پر پہنچایا جا سکتا ہے۔ یعنی جس طرح تلوار کی تیز دھاری تب تک ممکن نہیں ہے جب تک اسے تلوار تیز کرنے والے پتھر پر رگڑا نہ جائے بالکل اسی طرح ایک مومن بھی اپنی خودی کو تب ہی پہچان سکتا ہے جب وہ کامل مومن ہو گا یعنی ایک خدا کے احکامات کی پیروی کو عمل میں لائے گا۔

Advertisement
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں نمرود نے خدائی کا دعوی کیا تھا اور اللہ کے بندوں کو بتوں اور اپنی پرستش پر مجبور کیا تھا اور بعد ازاں یہی نمرود حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا بالکل اسی طرح موجودہ زمانے میں کئی نمرود پیدا ہوگئے ہیں جو ایک مومن کو اطاعت کے راستے سے بھٹکا کر غیر اللہ کی جانب راغب کرتے ہیں۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں حضرت ابراہیم جیسے کامل مومن کی تلاش ہے جو دور حاضر کے نمرودوں کا خاتمہ کرے۔ یہ دنیا ایک صنم کدہ ہے جس کی پرستش ایک مومن کبھی بھی نہیں کرتا ہے۔ کیونکہ پرستش اور اطاعت کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے تو بندہ مومن کو صرف اسی کے احکامات کی پیروی کرنی چاہیے۔یہی ایک حقیقی مومن کی پہچان ہے کہ وہ اللہ اور رسول صلی وعلیہ وسلم کے احکامات کی پیروی کرے۔

Advertisement
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ

اس شعر میں علامہ اقبال نے دور حاضر کے انسان کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ اس نے خود کو اس فانی دنیا کا اثیر بنا لیا ہے اور اس دنیا سے دل لگا لیا ہے۔وہ زمینی خداؤں کی اطاعت کو اپنی کامیابی مانتا اور اور انہی سے دولت، عزت اور ترقی کی امید استوار کرتا ہے۔ اس انسان نے خود کو کھلے دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے۔جبکہ اس فریب بھری دنیا میں تو نفع و نقصان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ سب فانی چیزیں ہیں کیونکہ بندہ مومن کیلئے اللہ کے سوا نہ کوئی معبود ہے، نہ مقصد، نہ ہی کوئی اور مطلب وہ کسی خیر خدا کے آگے نہیں جھکتا ہے۔ توحید کے ماننے والا صرف اللہ ہی کی عبادت اور صرف اس کے احکامات کی اطاعت کرتا ہے اور اسی کی رضا کو اپنا مقصد اور اسی سے اپنی ساری حاجتیں رکھتا ہے۔

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں نظر آنے والی ہر ظاہری شے، رشتے،احساسات غرض سب کچھ عارضی ہے۔ان عارضی اسباب کی خاطر ہم اللہ کے احکامات سے غفلت برتتے ہیں۔یہ سب انسان کی تخلیق ہیں اور انسان انہی کی محبت میں گرفتار ہے۔ یہ سب حقیقت نہیں بلکہ ہمارا گمان اور وہم ہیں اول حقیقت تو ایک ہی ذات ہے۔ایک کامل مومن بس اسی کی اطاعت کو خود پر لازم کرتا ہے اسی کا حصول اس کے لیے سب کچھ ہے۔

Advertisement
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ انسان کی عقل بھی ہمیشہ سے زمان و مکاں کی پرستش میں لگی ہوئی ہے۔ ہم ہر وقت خود کو اسی کی بحث میں اور تکاش میں مصروف پاتے ہیں جبکہ اصل میں اس زماں و مکاں کی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت ایک ہی ذات ہے اور وہ ذات باری تعالٰی ہے۔وہی وجود حقیقی ہے۔

Advertisement
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ لا الہ الااللہ ایک ایسا نغمہ ہے جو توحید کا درس دیتا ہے اور اس نغمے پر کسی وقت اور جگہ کی قید نہیں ہے۔ بہار ہو یا خزاں مون ہر وقت اور ہر جگہ توحید کا نغمہ بلند کرتا ہے۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ مومن لوگوں کی جماعتوں میں غیر اللہ یعنی بت پوشیدہ ہوتے ہیں۔ یہ بت کدے ظاہری صورت میں نہ ہوں تو مختلف خیالات کی صورت میں یہ مومنین کے دل و دماغ میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔جو انھیں توحید کی حقیقت سے بیگانہ کرتے ہیں۔ لیکن میں تو برہان اسلام کا پیغام دنیا کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً سناؤں گا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود یا حاکم نہیں جس کی پیروی کی جائے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement