علامہ اقبال کی نظم ساقی کی تشریح

علامہ اقبال کی یہ تین اشعار پر مشتمل مختصر سی نظم ان کے پہلے شعری مجموعہ "بانگ درا” میں شامل ہے۔اس نظم میں علامہ اقبال رہنمائے قوم سے مخاطب ہیں جو دنیا کی چند روزہ حکومت کے لئے لوگوں کو گمراہ کیے ہوئے ہیں۔ علامہ اقبال نے لفظ "ساقی” سے مراد ‘رہنمائے قوم’ لیا ہے۔

پہلا شعر

اس نظم میں علامہ اقبال نے رزمیہ انداز میں رہنمایان اور مصلحین قوم کو یہ مشورہ دیا ہے کہ جہاں تک قوم کو ذلیل و خوار کرنے کا تعلق ہے، یہ کام تو ہر شخص کر سکتا ہے اور ہوتا رہتا ہے، ہر خودغرض لیڈر قوم کو نشہ پلا کر گرا سکتا ہے۔ اگر آپ اپنے آپ کو ایک بڑا لیڈر اور رہنمائے قوم سمجھتے ہیں تو آپ گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لائیں اور ان کو ترقی کی راہیں سمجھائیں اور االلہ عزوجل اور اس کے رسولﷺ کی طرف بلائیں، تبھی آپ ایک بہترین لیڈر کہلانے کے مستحق ہونگے۔

دوسرا شعر

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ اے رہنمائے قوم اس حقیقت پر غور کر کہ سچے مسلمان تو دنیا سے اٹھتے جاتے ہیں لیکن کوئی شخص ان کی جگہ پُر کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھتا یعنی تیری محفل سونی ہوتی جا رہی ہے، اگر یہی عالم رہا تو ایک دن میخانہ خالی ہو جائے گا۔ پس تو کہیں سے آبِ حیات مہیا کر تاکہ تیری محفل قائم رہے اور میخانہ کی رونق برقرار رہے، یعنی اے رہنمائے قوم! تو مسلمانوں کو ووٹوں اور نوٹوں کے چکر سے نکال کر قرآن مجید اور حدیث نبوی ﷺ کی طرف متوجہ کر ورنہ تیری قوم اور تو سب ذلیل و خوار ہو جائیں گے۔

تیسرا شعر

اس شعر میں بھی علامہ اقبال رہنمائے قوم سے مخاطب ہیں کہ اے رہنمائے قوم! تیری ساری عمر تو ووٹ، الیکشن، اسمبلی اور جوڑ توڑ میں بسر ہوئی ہے، اب تو زندگی کی آخری منزل پر ہے، اس لیے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت پر کمر بستہ ہو جا اور کچھ آخرت کی فکر بھی کر لے۔

Advertisements