مولوی نذیر احمد کے حالاتِ زندگی

مولوی نذیر احمد کی پیدائش 1837ء کو اترپردیش ضلع بجنور میں ہوئی۔لیکن ان کے پہلے سوانح نگار سید افتخار عالم نے بہت چھان بین کے بعد تاریخ ولادت 6 دسمبر 1836ء متعین کی ہے۔جمیل جالبی کے مطابق تاریخ پیدائش 1830 ہے۔ نورالحسن نقوی نے ان کی تاریخ پیدائش 1836 لکھی ہے۔ان کے والد کا نام سعادت علی خان تھا۔ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ، پھر مزید تعلیم کے لیے والد نے مولوی نصراللہ خان کے سپرد  کر دیا۔پھر مزید تعلیم کیلئے دہلی کا سفر کیا۔

دہلی میں اجمیری دروازے کے نزدیک ایک محلے میں پنجابی مسلمان آباد تھے اس وجہ سے یہ محلہ پنجابیوں کا کٹرہ کہلاتا تھا۔بعد کو اس محلا کا بیشتر حصہ ریلوے لائن کی نظر ہوگیا۔اس محلے کی مسجد میں ، جو  مسجد اورنگ باد کے نام سے مشہور تھی عربی کا مدرسہ قائم تھا۔یہاں مولوی عبدالخالق درس دیتے تھے اور قریب ہی ان کی رہائش گاہ تھی۔

یہاں نذیر احمد کو ایسے تجربے ہوئے جن کی تلخی آخر تک باقی رہی۔ابتدائی تعلیم کے بعد نذیر احمد مزید تعلیم کے لیے مولوی عبدالحالق کے پاس اورنگ باد میں آگئے تھے جہاں رہنے کا تو انتظام تھا لیکن کھانا محلے سے مانگ کر لانا پڑتا تھا۔

بقول نذیراحمد کے”پڑھنے کے علاوہ میرا کام روٹیاں سمیٹنا بھی تھا”۔اس کے علاوہ انہیں اپنے استاد مولوی عبدالخالق کے گھر کے کام بھی کرنے ہوتے تھے۔مولوی عبدالخالق کی پوتی بہت شریر تھی نذیر احمد جیسے ہی ان کے گھر آتے ان سے سیر دوسیرمصالے پسواتی تھی۔نذیر احمد کا ہاتھ ذرا بھی رکتا تو بھٹی سے انگلیوں پر مارتی تھی  لیکن بعد میں اتفاق سے اسی لڑکی سے ان کی شادی ہوگئی تھی۔جس کا نام صفیتہ النساء بیگم تھا۔

دلی کالج میں داخلہ

نذیر احمد کا داخلہ کالج میں حسن اتفاق سے ہوا تھا۔ اتفاق سے ایک دن ٹہلتے ٹہلتے وہ دہلی کالج تک جا پہنچے۔اس روز یہاں بہت رونق تھی۔عربی کے ایک مشہور عالم مفتی صدرالدین زبانی امتحان لینے آئے ہوئے تھے۔تماشا بینی کے شوق میں نذیر احمد بھی بھیڑ میں شامل ہوگئے۔ذرا دیر میں پرنسپل صاحب کسی کام کے لئے دروازے سے باہر نکلے اس دوران نزیراحمد پھسل کر گر پڑے۔پرنسپل صاحب نے دیکھا تو بڑھ کر دلجوئی کی اور یوں ہی پوچھ لیا کہاں پڑھتے ہو اور کیا پڑھتے ہو۔نذیر احمد نے جواب دیا معلقات پڑھتا ہوں۔پرنسپل صاحب کو تعجب ہوا اور انہوں نے نذیر احمد کا ہاتھ پکڑ کر مفتی صدرالدین کے پاس لے گئے اور مفتی صدرالدین کو کہا کہ اس بچے کا امتحان لو۔

مفتی صاحب نے مولوی نذیر احمد سے سوالات پوچھے اور مولوی نذیر احمد نے بڑے اعتماد سے تمام سوالوں کے جواب دیے۔اس طرح مولوی نذیر احمد کا داخلہ دلی کالج میں ہوا۔دہلی کالج کے زمانۂ تعلیم میں نذیر احمد کا پسندیدہ مضمون عربی تھا۔کالج کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مولوی صاحب پنجاب میں مدارس کے ڈپٹی انسپکٹر  مقرر ہوئے۔اس کے بعد تحصیلدار اور افسر بندوبست بھی مقرر ہوئے۔

✓چند ضروری باتیں

  • دہلی کالج میں مولوی نذیر احمد کے استاد مولوی امام بخش صہبائی،ماسٹر رام چندتھے۔
  • دلی کالج میں مولوی نذیر احمد کے ہم جماعت محمد حسین آزاد اور مولوی ذکاءاللہ تھے۔١٨٥٣ تک انہوں نے دہلی کالج میں تعلیم حاصل کی۔
  • خطاب: خان بہادر، شمس العلما(١٨٩٧ میں برطانیہ حکومت کی طرف سے ملا)
  • ١٩٠٢ میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے نذیر احمد کو ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری عطا کی اور پنجاب یونیورسٹی نے ڈی ڈی اوایل کی ڈگری عطا کی۔
  • وفات: نذیر احمد کی وفات ١٩١٣ء کو دہلی میں فالج کے حملے سے ہوئی۔

مولوی نذیر احمد کی ناول نگاری

اردو ناول پر نذیر احمد کا بہت بڑا احسان ہے کہ اردو میں ناول نگاری کی بنیاد انہی کے مبارک ہاتھوں سے پڑھی۔مولوی نذیر احمد نے بہت سی کتابیں لکھیں مگر ان کی شہرت کا اصل مدار ان کے ناولوں پر ہے۔یہ ناول اتنے پسند کیے گئے کہ حکومت کی طرف سے ان کو انعام و اکرام سے بھی نوازا گیا۔ آئیے ان کے سبھی ناولوں پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں۔

1-مراۃ العروس

ان کا پہلا ناول "مراۃالعروس”ہے۔یہ کتاب اپنی بیٹی کو  اردو سکھانے کے لیے  لکھ کر دیتے تھے۔ایک انگریز افسر کی فرمائش پر اس کو چھپایا گیا اور حکومت کی طرف سے انعام  بھی دیا گیا۔ عام لوگ اسے "اکبری اصغری کا قصہ” اور مولوی صاحب کو” اکبری اصغری والے مولوی صاحب” کہنے لگے تھے۔یہ ناول لڑکیوں کی تربیت کے سلسلے میں ہے۔اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک معمولی لڑکی کس طرح ایک گھرانے کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

یہ ناول ١٨٦٩ء میں شائع ہوا ۔اس میں اصغری اور اکبری دونوں بہنوں کا قصہ بیان ہوا ہے۔اکبری جیسا کہ نام سے ظاہر ہے بڑی بہن ہے۔لاڈ اور پیار نے اس کو بگاڑ دیا ہے۔ وہ ضدی اور پھوہڑ ہے۔اس کی شادی عاقل نام کے ایک آدمی سے ہوتی ہے۔اپنی عادتوں کی وجہ سے اکبری گھر کو دوزخ بنا دیتی ہے۔سسرال میں ہر ایک آدمی اس سے نفرت کرتا ہے۔

چھوٹی بہن اصغری اس کی ضد ہے۔ خوش مزاج، خدمت گزار اور سلیقہ مند ہے۔عاقل کے چھوٹے بھائی کامل سے اس کی شادی ہوتی ہے۔اس کے قدم رکھتے ہی یہ گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔ دراصل اس ناول میں مصنف یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جن بچیوں کی تربیت اچھی ہوتی ہے وہ زندگی میں بہت کامیاب رہتی ہیں۔سرسیداحمدخان اس ناول کے بارے میں لکھتے ہیں کہ” نذیر احمد نے مراۃالعروس لکھ کر زنانہ سوسائٹی پر ایک  اتہام باندھاہے”
*اس ناول کے دگر کردار: محمودہ، ماما عظمت،حسن آرا ۔

2- بنات النعش(١٨٧٢)

بنات النعش مراۃالعروس کے تین سال بعد شائع ہوئی۔اس کا موضوع بھی خانہ داری کی تربیت اور اخلاق کی تعلیم ہے۔اس کا مرکزی کردار حسن آرا ہے جو اصغری کے قائم کیے سکول میں تعلیم پا کر زندگی میں کامیابی حاصل کرتی ہے ۔ اس کتاب کے ذریعے معلومات عامہ کی تعلیم دی گئی ہے اسے مراۃالعروس کا حصہ دوم سمجھنا چاہیے۔

3- توبۃ النصوح

توبتہ النصوح مولوی نذیر احمد کا تیسرا ناول ہے جس کو ان کا شاہکار کہنا چاہیے۔ ١٨٧٧ء میں شائع ہوا۔یہ اولاد کی تربیت کے بارے میں ہے۔اس ناول کے ذریعے یہ حقیقت روشن کی گئی ہے کہ اولاد کی محض تعلیم ہی کافی نہیں ہے اس کی پرورش اس طرح ہونی چاہیے نیکی اور دینداری کے جذبات پیدا ہوں۔

نصوح  ایک خواب دیکھنے کے بعد اپنے پورے خاندان کی اصلاح پر متوجہ ہوتا ہے مگر اپنے بیٹے کلیم کی صلاح میں ناکام رہتا ہے۔نصوح نے اپنی اولاد کی تربیت ٹھیک طرح سے نہیں کی تھی شہر میں ہیضہ پھیلا نصوح خود بھی بیمار ہوا۔ اسی دوران اس نے خواب دیکھا کہ حشر کا میدان بپا ہے  ، ہر ایک کے اعمال کا حساب ہو رہا ہے۔ اس موقع پر نصوح  کی جھولی خالی ہے ، بیدار ہوا تو وہ اپنے خاندان کی اصلاح پر کمربستہ ہو گیا۔
یہ ناول بارہ فصلوں پر مشتمل  ہے۔ یہ ایک اصلاحی ناول ہے۔

  • اس ناول کے اہم کردار: نصوح خاندان کا سربراہ ہے۔
  • فہمیدہ نصوح کی بیوی ہے۔
  • کلیم نصوح کا بڑا بیٹا ہے۔
  • نعیمہ نصوح کی بڑی بیٹی ہے۔
  • حمیدہ نصوح کی منجھلی بیٹی ہے۔
  • صالحہ کلیم کی خالہ زاد بہن اور نعیمہ کی سہیلی۔
  • علیم نصوح کا منجھلا بیٹا ہے۔
  • مرزا ظاہردار بیگ کلیم کا پھکڑ دوست۔
  • فطرت

4- فسانہ مبتلا

فسانہ مبتلا مولوی نذیر احمد کا چوتھا ناول ہے  جو 1885 عیسوی میں شائع ہوا۔اس ناول کا موضوع تعداد ازدواج ہے، مطلب  ایک سے  زیادہ شادیاں کرنے کے کیا نقصانات ہوتے ہیں۔اس ناول میں اس کی خرابیاں ظاہر کی گئی ہیں۔

ناول کے مرکزی کردار مبتلا کی پرورش اچھے ڈھنگ سے نہیں ہوتی ہے۔والدین نے یہ سوچ کر اس کی شادی کر دی کہ شاید وہ شادی کے بعد سمجھ جائے مگر وہ ایک عورت ہریالی کو ماما کے بھیس میں گھر لے آیا تھا۔ آخر میں سب کو پتہ لگ جاتا ہے، سوتنوں کے جھگڑے بڑھتے ہیں، مبتلا گل کر مر  جاتا ہے۔

  • اس ناول کے کردار:- مبتلا، میر متقی، ہریالی،غیرت بیگم، سید ناظر سید حاضر اور عارف۔

5- ابن الوقت(١٨٨٨)

ابن الوقت مولوی نذیر احمد کا ایک دلچسپ ناول ہے  جو فسانہ مبتلا کے تین سال بعد شائع ہوا۔اس ناول میں انگریزی معاشرت کی اندھا دھند تقلید کی مذمت کی گئی ہے۔اس میں دکھایا گیا ہے کہ دوسروں کے رہن سہن کی نقل کرنے والا آخر پچھتاتا ہے۔

ابن الوقت جو اس ناول کا مرکزی کردار ہے انگریزوں کی نقالی کرتا ہے اس کا  بھائی حجتہ الاسلام نے اس کو بہت سمجھایا ہ مگر وہ باز نہیں آتا۔آخرکار  اس کو شرمندہ ہونا پڑا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ابن الوقت کے پردے میں سرسید پر چوٹ کی گئی ہے اور حجتہ الاسلام کے پردے کے پیچھے خود مولوی نذیر احمد ہیں۔

  • اس ناول کے دیگر گردار:- نوبل صاحب، مسٹر شارپ۔

6- ایامی(١٨٩١)

اس ناول کا موضوع بیوہ عورتوں کا عقد ثانی ہے۔ ہندستان میں بیوہ عورتوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا رہا ، مولوی صاحب اس ناول سے پہلے بھی اس کے خلاف آواز اٹھاچکے تھے۔مگر اس ناول میں انہوں نے بیوہ عورتوں کی مشکلات کو سامنے لانے کی کوشش ہے۔

آزادی بیگم جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی اس نے بیوگی کا درد سہا تھا اس لئے خود کو بیواؤں کی خدمت کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتی ہے اور مرنے سے پہلے ان کی حالت زار پر ایک دردناک تقریر کرتی ہے۔اس ناول میں گھریلو زندگی کے ایک اہم مسئلے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بقول جمیل جالبی۔”یہ اردو زبان کا پہلا ناول ہے جو بیواؤں کے موضوع پر لکھا گیا ہے اور اس طرح لکھا گیا ہے کہ کہانی اور اس کا بیان ہمارے دل میں اتر جاتا ہے”۔

  • اس ناول کے کردار:- آزادی بیگم ،خواجہ آزاد، ہادی بیگم۔

7- رویاے صادقہ (١٨٩٤)

یہ  ناول مولوی نذیر احمد کا آخری ناول ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار صادقہ ہے۔صادقہ بچپن میں خواب دیکھتی ہے  اور سب خواب سچ ہوتے ہیں اس وجہ سے مشہور ہو جاتا ہے کہ اس پر جن کا اثر ہے کوئی گھرانہ اسے بہو کے روپ میں اپنانے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ آخرکار علیگڑھ کا ایک طالب علم صادق اس کا ہاتھ مانگتا ہے اور اس کے والد کو ایک تسلی بخش خط لکھتا ہے۔ اس خط میں وہ اپنے مذہبی عقائد بیان کرتا  ہے۔ لڑکی کے والدین کو یہ رشتہ قبول کرنے میں تامل ہے لیکن صادقہ  اپنی سہیلی کے ذریعے ان سے کہلواتی ہے کہ رشتہ ہو کے رہے گا کیونکہ میرا خواب ہی کہتا ہے۔

صادقہ خواب دیکھتی ہے کہ کوئی بزرگ صادقہ کی الجھنوں کو سلجھا رہے ہیں اور دلیلوں سے اس کے شکوک کو دور کر رہے ہیں۔ یہ بزرگ دراصل سرسید ہیں جنہوں نے مذہب اسلام کو مطابق عقل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ صادقہ اپنے شوہر کو ان بزرگ کی ساری تقریر سناتی ہے۔

جذبۂ اصلاح

جزبۂ اصلاح مولوی نذیر احمد کے تمام ناولوں میں کار فرما ہے۔ ان کا ہر ناول کسی نہ کسی مقصد کے تحت لکھا گیا اور سرورق پر اس مقصد کا بالعموم اعلان بھی کردیا گیا۔نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے ناول،  ناول نہیں تمثیل ہیں۔  مگر یہ خیال درست نہیں ہے۔یہ البتہ درست ہے کہ ان کے ناولوں میں کچھ نقص پائے جاتے ہیں۔

ان کے سامنے اردو میں ناول کا کوئی نمونہ موجود نہیں تھا۔ اردو میں وہ اس صنف کا آغاز کر رہے تھے۔نذیر احمد کا کارنامہ یہ کچھ کم نہیں کہ خیالی اور فوق فطری دنیا سے دامن چھڑا کر اصلی دنیا اور حقیقی زندگی کی تصویر کشی کی۔اپنے ناولوں میں جابجا مسلم معاشرت کے مر قعے پیش کر دیے۔پلاٹ کی طرف وہ بہت خاص توجہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پلاٹ مربوط ہیں۔کردار نگاری میں بھی مہارت حاصل ہے۔مگر ان کے کردار یا تو صرف عیبوں کا مجموعہ ہیں یا صرف خوبیوں کا مجسمہ۔اس لئے پروفیسر آل احمد سرور کا ارشاد ہے کہ” ان کے کردار یا تو فرشتے ہوتے ہیں یا پھر شیطان، انسان نہیں ہوتے۔”

حقیقت نگاری

حقیقت نگاری مولوی نذیر احمد کے ناولوں کے سب سے اہم حصوصیت  ہے ۔نذیر احمد کے ناولوں میں حقیقی زندگی کی مرقعے نظر آتے ہیں اور اصلی دنیا کے انسان سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔

مکالمہ نگاری

مکالمہ نگاری میں نذیر احمد کو  ایسی مہارت  حاصل ہے کہ کم ناول نگاروں کو حاصل ہوگی۔ سبب یہ ہے کہ ہر طبقے کے لوگوں  سے ان کا واسطہ رہا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کس کردار کی زبان سے کیا مکالمات ادا ہوسکتے ہیں۔ انسانی نفسیات سے وہ گہری واقفیت رکھتے تھے۔

ظرافت

ظرافت مولوی صاحب کے مزاج میں رچی بسی ہوئی تھی۔ اس ظرافت نے  ان کے ناولوں کو  حد درجہ دلچسپ بنا دیا۔ اہل نظر کا ایک حلقہ ایسا ہے جو نذیر احمد کے ناولوں کی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہیں ناول تسلیم نہ کرتے ہوئے قصوں اور تمثیل کانام دیتا ہے۔مگر بعض خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود نذیر احمد کے ناول اردو فکشن کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہی کی بنیاد پر آگے چل کر اردو ناول کا قصر بلند تعمیر ہوا۔

نذیر احمد کی دیگر تخلیقات

  • انکم ٹیکس ایکٹ
  • تعزیرات ہند: انگریزی کتاب انڈین پینل کوڈ کا اردو ترجمہ۔
  • منتخب الحکایات۔
  • رسم الخط: اردو فارسی قواعد پر مبنی
  • چند پند: یہ کتاب نذیر احمد نے اپنے بیٹے بشیر کی نصیحت اور اصلاح کے لئے لکھی تھی۔
  • ضابطہ فوجداری۔
  • قانون شہادت۔
  • اس کے علاوہ مصائب غدر،تاریخ در تاجپوشی،صرف صفیر،الحقوا الفرائض،اجتہاد،مبادئ الحکمت،امہات الامتہ،مجموعہ بے نظیر۔ وغیرہ ان کی اہم تخلیقات ہیں۔
Advertisements