غزل

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا،تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیش تر،وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتں، وہ مزے مزے کی حکایتں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی بیٹھے سب ہیں جو روبرو، تو اشارتوں ہی میں گُفتگُو
وہ بیان شوق کا برملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگے
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم بھی تم بھی چاہ تھی،کبھی ہم میں تم میں بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نِبہاہنے کا تو ذکر کیا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح

پہلا شعر

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا،تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تم چاہے ستم کرو یا ہمیں رنج، تو تمھاری مرضی۔ مگر ایک زمانے میں ہم دونوں میں آشنائی تھی۔ایک دن تم میں اور ہم میں ایک عہد ہوا تھا یعنی یہ وعدہ ہوا تھا کہ ہم زندگی بھر ساتھ نبھائیں گے۔ تمھیں چاہے یاد ہو یا نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے۔

دوسرا شعر

وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیش تر،وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اے محبوب بہت پہلے جو مجھ پر تمہارے لطف و عنایت تھے،وہ مہربانیاں جو میرے حال پر تمھاری تھیں،میں انھیں کہاں بھولا ہوں۔تمھیں وہ یاد ہو کہ نہ ہو لیکن مجھے وہ سب یاد ہے۔

تیسرا شعر

وہ نئے گلے وہ شکایتں، وہ مزے مزے کی حکایتں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اے محبوب وہ ہم دونوں میں شکوے شکایتیں، وہ مزے دار باتیں اور پھر وہ بات بات پر تمھارا روٹھ جانا اور میرا منانا تمہیں چاہے یاد ہو یا نہ ہوں مگر مجھے سب یاد ہے۔

چوتھا شعر

کبھی بیٹھے سب ہیں جو روبرو، تو اشارتوں ہی میں گُفتگُو
وہ بیان شوق کا برملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اے محبوب تمہیں یاد ہے کہ جب سب چھوٹے بڑے سامنے بیٹھے ہوتے تھے تو اس ڈر سے کہ کہیں ہماری محبت کا راز کسی پر فاش نہ ہو، ہم اشاروں ہی میں گفتگو کرتے تھے اور ان اشاروں اشاروں میں سب کے سامنے محبت کا بیان کر دیتے تھے۔تمہیں پتہ نہیں یاد بھی ہے کہ نہیں لیکن مجھے سب یاد ہے۔

پانچواں شعر

کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگے
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اگر کہیں اتفاق سے ہم دونوں ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے تھے تو دونوں ایک دوسرے سے ہر گھڑی وفا جتانے کے لیے بےقرار رہتے تھے اور اپنے رشتے داروں کی ڈانٹ ڈپٹ کا گِلا کرتے تھے۔ہمیں تو سب یاد ہے، تمھیں چاہے یاد ہو یا نہ ہو۔

جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

غزل کے مقطعے میں شاعر محبوب کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ اے محبوب آپ کو یاد ہو چاہے نہ ہو مگر میں مومنؔ وہی آپ کا عاشق ہوں جسے کبھی آپ اپنا آشنا کہتے تھے اور با وفا خیال کرتے تھے۔

Advertisements