وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

0

غزل

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا،تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتں، وہ مزے مزے کی حکایتں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگے
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی
تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا،تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تم چاہے ستم کرو یا ہمیں رنج، تو تمھاری مرضی۔ مگر ایک زمانے میں ہم دونوں میں آشنائی تھی۔ایک دن تم میں اور ہم میں ایک عہد ہوا تھا یعنی یہ وعدہ ہوا تھا کہ ہم زندگی بھر ساتھ نبھائیں گے۔ تمھیں چاہے یاد ہو یا نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے۔

وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیش تر،وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اے محبوب بہت پہلے جو مجھ پر تمہارے لطف و عنایت تھے،وہ مہربانیاں جو میرے حال پر تمھاری تھیں،میں انھیں کہاں بھولا ہوں۔تمھیں وہ یاد ہو کہ نہ ہو لیکن مجھے وہ سب یاد ہے۔

وہ نئے گلے وہ شکایتں، وہ مزے مزے کی حکایتں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اے محبوب وہ ہم دونوں میں شکوے شکایتیں، وہ مزے دار باتیں اور پھر وہ بات بات پر تمھارا روٹھ جانا اور میرا منانا تمہیں چاہے یاد ہو یا نہ ہوں مگر مجھے سب یاد ہے۔

کبھی بیٹھے سب ہیں جو روبرو، تو اشارتوں ہی میں گُفتگُو
وہ بیان شوق کا برملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اے محبوب تمہیں یاد ہے کہ جب سب چھوٹے بڑے سامنے بیٹھے ہوتے تھے تو اس ڈر سے کہ کہیں ہماری محبت کا راز کسی پر فاش نہ ہو، ہم اشاروں ہی میں گفتگو کرتے تھے اور ان اشاروں اشاروں میں سب کے سامنے محبت کا بیان کر دیتے تھے۔تمہیں پتہ نہیں یاد بھی ہے کہ نہیں لیکن مجھے سب یاد ہے۔

کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگے
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اگر کہیں اتفاق سے ہم دونوں ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے تھے تو دونوں ایک دوسرے سے ہر گھڑی وفا جتانے کے لیے بےقرار رہتے تھے اور اپنے رشتے داروں کی ڈانٹ ڈپٹ کا گِلا کرتے تھے۔ہمیں تو سب یاد ہے، تمھیں چاہے یاد ہو یا نہ ہو۔

ہوئے اتفاق سے اگر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلہ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح :

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں کہ اگر کبھی ہم دونوں اتفاق سے مل گئے تو وہاں تم فوراً ہمیں اپنی وفا جتانے لگانے اور نہ صرف یہ بلکہ تم ایک اتفاقیہ ملاقات کو بھی اپنے حق میں استعمال کر کے ہم سے گلہ کرنے لگے اور ہمیں ملامت کرنے لگے ۔ آخر میں شاعر اپنے محبوب کو کہتے ہیں کے ہمارے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے چاہے تمھیں یاد ہو یا نہ یاد ہو۔

کبھی ہم میں تم میں چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح :

اس شعر میں شاعر گزرے زمانے کی باتوں کو یاد کر کے اپنے محبوب کو کہتے ہیں کے ایک وقت تھا جب ہم دونوں میں ایک دوسرے کے لیے چاہ موجود تھی اور ہمارے وجود میں محبت پنپتی تھی۔ وہ کہتے ہیں ایک ایسا وقت بھی ہم نے دیکھا جب تم سے اور مجھ سے ایک دوسرے کی راہیں شروع ہو کر ہم پر ہی وہ راہ ختم ہوجایا کرتی تھی پھر وہ آخر میں اپنے محبوب کو کہتے ہیں تمھیں یاد ہو یا نہ یاد ہو لیکن سچ یہی ہے کہ ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جب ہم دونوں ایک دوسرے کے آشنا ہوا کرتے تھے۔

کہا میں نے بات کوٹے کی مرے دل سے صاف اتر گئے
تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میں نے کوٹے کی بات کی اور تمھیں کہا کہ تم میرے دل سے اتر گئے ہو تو میں سمجھتا تھا تم مجھ سے باز پرس کرو گے لیکن تمھیں تو شاید یاد نہ ہو پر سچ یہی ہے کہ تم نے ہمارے تعلق کو بچانے کی تگ و دو بالکل نہ کی اور کہا اگر میں تمھارے دل سے اتر گیا ہوں تو میری بلا سے ایسا ہوجائے۔

سنو ذکر ہے کئی سال کا کیا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح :

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو یاد دلاتے ہیں کہ کئی سال پہلے کا ذکر ہے جب تم نے مجھ سے ایک وعدہ کیا تھا اور میں تمھیں وہی وعدہ آج یاد دلا رہا ہوں اور اس وعدے کو نبھانے کا ذکر کررہا ہوں چاہے تمھیں اپنا وعدہ یاد ہو یا نہ یاد ہو لیکن میں چاہتا ہوں تم اس وعدے کا ذکر سنو اور اسے نبھاؤ بھی۔

وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی کا بات
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ وصل کی رات مجھے میسر آئی لیکن اس کا انجام مجھے آج تک یاد ہے ۔ مجھے اس وصل کی رات ہمارے درمیان ہر بات کا بگڑنا بھی اچھی طرح یاد ہے اور تمھارا میری کسی بات کو نہ ماننا بھی میں نہیں بھولا ہوں ۔ شاعر کہتے ہیں تمھاری ہر بات میں “نہیں” کی ادا بھی مجھے یاد ہے چاہے تمھیں یہ سب باتیں یاد ہوں یا تم انھیں بھول چکے ہو۔

جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

غزل کے مقطعے میں شاعر محبوب کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ اے محبوب آپ کو یاد ہو چاہے نہ ہو مگر میں مومنؔ وہی آپ کا عاشق ہوں جسے کبھی آپ اپنا آشنا کہتے تھے اور با وفا خیال کرتے تھے۔