Advertisement

کسی جنگل میں میں درخت کے نیچے ایک چوہا اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ اپنا زیادہ وقت آرام اور سستی میں گزارنے کا عادی تھا۔ بس ہر وقت یوں ہی پڑا رہتا اور کوئی کام نہ کرتا تھا۔ چوہے کی ماں اکثر سمجھاتی "بیٹا اچھے بچے کام کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، یوں سستی اور کاہلی کے ساتھ نہیں رہتے۔ تم چھوٹی سی چیونٹی کو نہیں دیکھتے جو سخت محنت کرتی ہے اور اپنے سے کئی گنا زیادہ بوجھ اٹھاتی ہے”

Advertisement

"اماں یہ چیونٹی کہاں رہتی ہے؟ مجھے اس کو دیکھنے کا بہت شوق ہے”

Advertisement

ماں نے کہا کہ گھر سے باہر نکلو گے تو پتہ چلے گا۔ جاو اگر چیونٹی کو دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو جاکر اس کو تلاش کرو اور دیکھو کہ وہ کس قدر محنت کرتی ہے اور اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتی ہے۔

Advertisement

چوہے کے دل میں چیونٹی کو دیکھنے کا شوق بڑھ گیا اور وہ ایک روز اپنی ماں سے اجازت لے کر چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے ایک جانور دکھائی دیا جو اپنی پشت پر بہت وزن اٹھائے جا رہا تھا۔ چوہے نے اسے چوٹی سمجھ کر سلام کیا۔ اس جانور نے بتایا کہ میں چیونٹی 🐜 نہیں بلکہ کچھوا ہوں۔

چوہا آگے بڑھا کچھ دور جا کر وہ ایک جانور کو دیکھ کر کہنے لگا بھائی چوٹی سلام۔ اس جانور نے جواب دیا کہ میں تمہیں چیونٹی نظر آتا ہوں؟ میں خرگوش ہوں۔ چوہا وہاں سے بھاگا۔ آگے پہنچا تو ہاتھی کو چونٹی سمجھ کر سلام کیا۔ہاتھی سونڈ اٹھا کر دھاڑا۔ چوہا ڈر کر بھاگ کھڑا ہوا۔

جب بھاگتے بھاگتے تھک گیا تو ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں اس نے قریب سے ایک آواز سنی۔ "بھائی ذرا احتیاط سے! یہ ہمارا راستہ ہے” چوہے نے نیچے دیکھا تو وہاں زمین پر ایک ننھا سا کیڑا تھا جس کے ساتھ ہی ایسے بہت سے کیڑوں کی ایک قطار تھی وہ اپنے منہ میں بڑے بڑے دانے پکڑے جارہے تھے۔

Advertisement

ان میں سے ایک کیڑا بولا۔ میاں چوہے ذرا ایک طرف ہو کر بیٹھ جاؤ۔ ہم کھانا اپنے گھر لے جارہے ہیں۔ چوہے نے حیران ہو کر کہا اتنا بڑا دانہ تم کیسے اٹھا کر لے جا رہے ہو۔ کیڑے نے جواب دیا ہم چھوٹے ضرور ہیں مگر اپنا ہر کام ہمت اور حوصلے سے کرتے ہیں اور مل جل کر کرتے ہیں۔ ہم سردیاں آنے سے پہلے ہی اپنے لئے خوراک کا بندوبست کر لیتے ہیں۔ہم میں بڑا اتفاق اور اتحاد ہے۔اس چیز میں بڑی دولت ہے۔

چوہے نے ایک ننھے سے کیڑے سے یہ باتیں سنیں تو بہت حیران ہوا اور کہنے لگا مگر تم لوگ کون ہو۔ ایک ننھے سے کیڑے نے آگے بڑھ کر جواب دیا "ہمیں چیونٹی کہتے ہیں” چوہا بہت خوش ہوا اور بولا بھئی چیونٹی واقع تمہارے بارے میں جو کچھ سنا تھا تم ویسی ہی نکلیں۔ تم لوگ اپنا کام بڑی محنت، لگن اور منظم ہو کر کرتی ہو۔

Advertisement

چوہا اپنے گھر واپس پہنچا اور اپنی ماں سے وعدہ کیا کہ آئندہ 🐜 چیونٹی کی نصیحت پر عمل کروں گا۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement