ناول آگ کا دریا قرۃ العین حیدر کا لکھا ہوا ایک ضخیم ناول ہے جو 1959ء میں شائع ہوا تھا۔ اس ناول کا عنوان جگر مراد آبادی کے اس شعر کے ایک مصرعے کا ٹکڑا ہے؀

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا ہی سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

ناول آگ کا دریا میں ‘شعور کی رو’ کی تکنیک کا ایک کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، حالانکہ اس سے پہلے سجاد ظہیر نے اپنے ایک ناول ‘لندن کی ایک رات’ میں اور خود قرۃ العین حیدر نے اپنے پہلے ناول ‘میرے بھی صنم خانے’ میں شعور کی رو کی تکنیک کا تجربہ کیا تھا۔ ناول "آگ دریا” کا قرۃالعین حیدر نے انگریزی میں ترجمہ the river of fire کے نام سے کیا تھا۔ناول آگ کا دریا کی کہانی کا آغاز اب سے ڈھائی ہزار سال پہلے کی ہندوستانی تہذیب کے دور سے ہوتا ہے جو شراوستی اور پارٹی پتر میں سرسبزوشاداب ہوئی اور تقسیم ہند کے واقعات کے تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں ہندوستانی تہذیب کو پیش کرتی ہوئی ختم ہو جاتی ہے۔قرۃالعین حیدر ناول آگ کا دریا کی وجہ تصنیف بتاتے ہوئے لکھتی ہیں کہ” ملک کیوں تقسیم ہو گیا۔تقسیم تاریخی حیثیت سے ناگزیر تھی اس سوال نے مجھے فلسفہ تاریخ کی سمت کھینچا۔ اس کا جواب دینے کی کوشش میں ایک ناول آگ کا دریا لکھا، دریا کو کوزے کا سمبل بنا کر میں نے تین ہزار سال کی پھیلی ہوئی اور الجھی ہوئی ہندوستانی تاریخ میں سے ہندوستانی شخصیت کی عظمت کو گرفت میں لانے کی کوشش کی”

ناول آگ کا دریا میں کسی ایک واقعے کا ذکر نہیں ملتا ہے بلکہ اس میں جنم جنم کے تسلسل کو پیش کیا گیا ہے۔یہ ناول پانچ ادوار اور 101 ابواب پر مشتمل ہے۔ ناول کے ابتدائی دور میں ہم ہندوستان کی تاریخ میں ڈھائی ہزار سال قبل کے فضا سے دوچار ہوتے ہیں۔ معاشرت، طرز فکر اور اقدار زندگی سب وہی ہیں جن سے اس دور کا انسان پہچانا جا سکتا ہے، اس دور کو ہم گوتم بدھ کا دور کہہ سکتے ہیں۔اس قدیم عہد کا گوتم بدھ فلسفی ہے وہ اپنے عہد کا نمایاں طالب علم ہے اور مروجہ علوم میں دسترس رکھتا ہے۔ دوسرے دور میں مسلمانوں کی آمد کے بعد تہذیب کے اس ساگر یعنی ہندوستان میں جو لہر اٹھی ہے اور جو تبدیلیاں آئی ہیں، اس کا بیان ہے۔اس دور کے مشہور رکن ابوالمنصور کمال الدین ہیں۔تیسرے دور میں اس کا بیان ہے کہ مسلمانوں کے انحطاط کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کے قدم ہندوستان میں جمنا کیسے شروع ہوتے ہیں،انگریز اس کے لئے کن تدابیر کو بروئے کار لاتے ہیں اور اس کے مقابلے میں مغلیہ شان و شوکت کا آخری محافظ کس تن آسانی اور اخلاقی پستی کا مظاہرہ کرتا ہے۔چوتھے دور میں عمل کا مرکز ہندوستان سے یورپ منتقل ہو جاتا ہے اور وہی نسل جو اوپر متوسط طبقہ کی نمائندگی تیسرے دور کے آخر میں لکھنؤ میں کر رہی تھی، لندن کیمبرج اور پیرس میں نظر آتی ہے۔پانچواں دور تقسیم ملک کے بعد کے ہندوستانی اور پاکستانی معاشروں سے متعلق ہے۔اس ناول کو پی ڈی ایف(pdf) کی صورت میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں۔

ناول آگ کا دریا pdf 1

Download Now

Advertisements