Advertisement
اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دل عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے
جگر مراد آبادی
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
قیصر القادری
ناراض ہوں ، تم جاو ، نہیں بولنا تم سے
اقرارِ محبّت کے بھی انداز بہت ہیں
میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا
سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے
کریشن بہاری نور
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement