Advertisement
مت لکھ یوں اپنے خون سے ہر بار تحریر ان کے لیے اے دل
جو تیرا خلوص نہ پہچان سکے وہ تیرا خون کیا پہچانیں گے
‏تمہیں القاب جو میں نے دیے تھے، تم تلک رکھنا
‏کسی کو جان، جاناں، جانو کہہ کر مت بلانا تم
تمہارا خشک دامن موتیوں سے بھر دیا میں نے
‏کسی کے در پہ جا کر ، یہ خزانہ مت لٹانا تم
خود کو باوضو کیا تیرے تصور سے بھی پہلے
میں نے اس درجہ تیرے عشق کو پاکیزہ رکھا
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement