Advertisement
جس کو دیکھے اُسی کا ہو جائے
کس نے کہا کہ وہ ہمارا ہے مرشد
آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن
آیا میرا خیال تو شرما کے رہ گے
حسرت موہانی
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
حسرت موہانی
آواز میں ٹھہراؤ تھا آنکھوں میں نمی تھی
اور کہہ رہا تھا میں نے سب کچھ بھلا دیا
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement