Advertisement
عشق نے سیکھ لی وقت کی تقسیم
وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
ایک مدت سے تیری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
فراق گورکھپوری
دھیمے سروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑئیے
ٹہری ہوئی ہواؤں میں جادو بکھیریے
پروین شاکر
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement