Advertisement

خواجہ حیدر علی آتش کی کی غزل گوئی پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تعارفِ غزل

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام خواجہ حیدر علی آتش ہے۔ یہ غزل دیوانِ آتش سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر

خواجہ حیدر علی آتش دلی میں پیدا ہوئے۔ شاعری میں آپ مصحفی کے شاگرد بنے تھے۔ بادشاہ آپ کو ازرہِ قدردانی اسی روپے ماہانہ دیتے تھے۔ ان کی شاعری میں زبان کالطف اور الفاظ کی چاشنی ہے۔ آپ کا کلام دیوانِ آتش کے نام سے موجود ہے۔

Advertisement
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میرے محبوب کے منھ سے میرے بارے میں کیسے گفتگو ادا ہوئی ہے اور وہ میرے بارے میں ایسا کچھ کیسے سوچ سکتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ میرے محبوب کی بےاعتباری کے باعث ہمارے درمیان کیسی کیس گفتگو ہوئی اور کیسے کیسے کلام ہمارے درمیان آئے۔

Advertisement
زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ زمین کیسے کیس گُل کھلاتی ہے اور آسماں کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے۔ دراصل شاعر یہاں ہمارے معاشرے کی حقیقت بیان کررہے ہیں کہ ہمارا زمانہ بہت جلدی جلدی تبدیل ہوتا ہے اور اپنے نئے نئے رنگ دکھاتا ہے۔

نہ گورِ سکندر ، نہ ہےقبرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسےکیسے

اس شعر میں شاعر انسان کی زندگی کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنے وقت کے بڑے بڑے ناموں کو آج کوئی نہیں جانتا، اب نہ سکندرِ اعظم کی قبر موجود ہے نہ ہے دارا کی۔ چاہے کوئی کتنا بھی عقل مند اور بہادر کیوں نہ ہو ہر شے کو زوال ہے اور کسی بھی شخص کو تادیر یاد نہیں رکھا جاتا ہے۔

Advertisement
غم وغصہ و رنج و اندوہ و حِرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسےکیسے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ غم ، غصہ ، رنج و ملال ، اندوہ اور دکھ ، تکلیف میرے نصیب میں لکھ دی گئی ہے اور یہ ہی اب میرے دوست اور مہربان ہیں۔ اب مجھے ہمیشہ اپنی زندگی ان سب کے ساتھ ہی گزارنی ہے کیونکہ یہ سب مجھے مل چکے ہیں اور مجھ پر مہربان ہیں۔

کرے جس قدر شکر نعمت وہ کم ہے
مزے لوٹتی ہے زباں کیسے کیسے

اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم جس قدر اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ ہماری زبان اللہ تعالیٰ کی بنائی گئی چیزوں کے مزے لوٹتی ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر وقت اپنے رب کے شکر گزار رہیں۔

Advertisement

اس سبق کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 : درج ذیل جوابات میں سے درست جواب پر (درست) کا نشان لگائیے :

(الف) لفظ آتش کے لغوی معنی ہیں :

  • (۱) پیاسا
  • (۲) تسلی دینے والا
  • (۳) پجاری
  • (۴) آگ ✔

(ب) پہلے شعر میں لفظ کلام کے معنی ہیں :

Advertisement
  • (۱) پیغام
  • (۲) شعر
  • (۳) خیال
  • (۴) گفتگو ✔

(ج) لفظ "گل کھلانا” قواعد کے لحاظ سے ہے :

  • (۱) اسم صنت
  • (۲) مرکب اضافی
  • (۳) مرکب عطفی
  • (۴) محاورہ ✔

(د) لفظ اندوہ کے معنی ہیں :

Advertisement
  • (۱) شکر
  • (۲) قدر
  • (۳) خوشی
  • (۴) غم ✔

سوال نمبر 3 : خالی جگہوں کو درست لفظ سے پر کیجیے :

  • (الف) نہ گورِ سکندر نہ ہے ( قبر) دارا
  • (ب) زمینِ چمن (گُل) کھلاتی ہے کیا کیا
  • (ج) کلام آتے ہیں (درمیاں) کیسےکیسے
  • (د) کرے جس قدر (شکرِ) نعمت وہ کم ہے

سوال نمبر 4 : درج ذیل الفاظ کے معنی لکھیے :

الفاظمعنی
دہنمنھ
گورقبر
گمانشک
حرماںدکھ
رنجملال

سوال نمبر 5 : آپ اس طرح کے تین شعر تلاش کیجیے جن میں اصل یا حقیقی لفظ استعمال کرنے کے بدلے کنائے میں بات کی گئی ہو۔

شعر نمبر ۱
زمینِ چمن گُل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
شعر نمبر ۲
دل زمانے کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہوگا کہ رہ گیا ہوگا
شعر نمبر ۳
نہ گورِ سکندر نہ ہے قبرِ دارا
مِٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
Advertisement

Advertisement

Advertisement