Back to: Urdu Tahqeeq Notes
ڈاکٹر عبادت بریلوی نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اینگلو عر بیک کالج دلی سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور آئے اور اورینٹل کالج لاہور سے منسلک ہو گئے اور ترقی کرتے ہوئے شعبہ اُردو کے صدر بن گئے۔ وہ اردو کے ایک نامور محقق تھے۔ اُن کی بیشتر کتابیں ہندو پاک کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ رہی ہیں لیکن بطور نقاد بھی اُن کی حیثیت مسلمہ ہے۔
ان کی تنقید کا انداز وضاحتی تجزیے کا ہے۔ ایسے تجزیے میں کسی مصنف کے ابتدائی احوال سے لے کر ارتقائی مرحلے سبھی کچھ زیر بحث آجاتے ہیں۔ اُن کا تجزیہ عام طور پر ہمدردانہ ہوتا تھا۔ وہ ادبی مسائل کی پیچیدگیوں میں نہیں الجھتے، بلکہ معنوی سطح پر رہتے ہوئے ادب پارے کا تمام احوال قاری کے سامنے رکھ دیتے تھے۔ وہ اپنے تجزیے کو درجہ بہ درجہ قاری کے سامنے کھولتے ہوئے اسے اپنے منطقی استدلال سے قائل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کے ہاں تحقیقی اور تنقید کا رشتہ زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔ ایک محقق کی حیثیت سے اُنھوں نے فورٹ ولیم کالج کے اساتذہ کے تصنیفی کارناموں اور غیر معمولی نوادر کو تلاش کیا۔
تصانیف:
اُردو تنقید کا ارتقاء، تنقیدی زاویے، غزل اور مطالعہ غزل، غالب کا فن، روایت کی اہمیت، جدید شاعری، جدید اردو ادب اور میر تقی میر وغیرہ