تعارف

فہمیدہ ریاض ۲۸ جولائی ۱۹۴۶ کو میرٹھ، ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ فہمیدہ ریاض اعلیٰ پائے کی مصنفہ ، مترجم اور مقبول شاعرہ ہیں۔ پاکستان میں ان کی شاعری کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں جو کہ بہت مقبول بھی ہوئی ہیں۔

ادبی خدمات

فہمیدہ ریاض نے شاعری کے بہت سے مجموعوں کے علاوہ تین ممتاز مختصر ناول بھی لکھے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ماہر نفسیات ایرک فرام کے نفسیاتی اور سماجی تجربے پر مبنی کتاب سے ماخود ایک کتاب "ادھورا آدمی” بھی تحریر کی ہے۔ انہوں نے ایرانی جواں مرگ شاعرہ فروغ فرخ ذاد کے تمام مجموعوں سے منتخب نظموں کا ترجمہ "کھلے دریچے سے” کے نام سے ہمیں دیا ہے۔

اس کے علاوہ ان کی متعدد کہانیاں شائع ہوتی رہی ہیں۔ دو کتابیں انہوں نے انگریزی میں بھی لکھی ہیں۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ "بدن دریدہ” کے نام سے شائع ہوا ہے۔

نظم نگاری

ان کے پہلے شاعری مجموعے کے منظرِ عام پر آنے سے پہلے ان کی کئی نظمیں رسالہ "فنون” میں شائع ہوچکی تھیں۔ فہمیدہ ریاض کا شاعری کا پہلا مجموعہ "پتھر کی زبان” کے نام سے شائع ہوا تھا جس میں انھوں نے قارئیں کو بتایا تھا کہ جب تک کوئی نظم انھیں خود مجبور نہ کردے کہ وہ اسے لکھیں تب تک وہ کوئی نظم نہیں لکھیں گی۔ فہمیدہ ریاض نے غزل اس لیے نہیں لکھی کیوں کہ وہ ردیف و قافیے کی خاطر شعر نہیں کہنا چاہتی ہیں۔

فہمیدہ ریاض کا پہلا مجموعہ ۱۹۶۶ء میں شائع ہوا تھا جب وہ بامشکل بیس برس کی تھیں۔ اپنے پہلے شعری مجموعے کا دیباچہ انہوں نے حیدرآباد سندھ میں گورنمنٹ گرلز کالج کے ہاسٹل میں بیٹھ کر لکھا تھا۔

موضوع

فہمیدہ ریاض نے صرف اردو نہیں عالمی ادب میں بھی ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا جس سے ایک بالکل نیا راستہ پیدا ہوگیا۔ اس وقت فہمیدہ کی شادی ہوگئی تھی اور وہ چند برس کے لیے لندن چلی گئی تھیں۔ ۱۹۷۲ء میں آپ دوبارہ کراچی آگئیں جہاں آپ کی ایک بالکل مختلف زندگی کا آغاز ہوا۔ دوسری شادی کرنے سے پہلے فہمیدہ ریاض نے ایک مطلقہ ملازمت  پیشہ عورت کی زندگی گزار دی۔ ان کی اس دور کی شاعری  میں کتنے ہی موضوعات آرزو مندی، مامتا، ازدواجی محبت، حیض جیسے ممنوعہ موضوع، سماجی بندیشیں، تہذیبی دباؤ، یہ سب ایک پیچیدہ جال بنتے نظر آتے ہیں اور اس طرح کہ ان میں جرات مندی کے ساتھ نزاکت برقرار رہتی ہے۔

اپنی کئی نظموں مثلاً "گڑیا” یا "مقابلہ حسن” میں فہمیدہ اس کھیل کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں جو عشق کے نام پر عورت سے کھیلا جاتا ہے۔ وہ جسمانی آرزو کو "اشیائے صرف” بنانے کا پردہ چاک کرتی رہیں جن میں عورت کو گڑیا کی طرح گونگا اور بے جان بننے پر مجبور کردیا جاتا ہے کیونکر مردوں نے ان کے لیے یہی پسندیدہ کردار متعین کیا ہے۔ مردوں کا مطالبہ عورت سے بےجان جمال کا ایسا پیکر بن جانے کا ہے جو حقیقیت میں ممکن نہیں ہوتا۔

تصانیف

  • فہمیدہ ریاض کی چند مشہور تصانیف درج ذیل ہیں :
  • پتھر کی زبان
  • خط مرموز
  • گوداوری
  • کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے
  • کراچی
  • گلابی کبوتر
  • بدن دریدہ
  • دھوپ
  • آدمی کی زندگی
  • کھلے دریچے سے
  • حلقہ میری زنجیر کا
  • ادھورا آدمی
  • پاکستان، لٹریچر اینڈ سوسائٹی
  • قافلے پرندوں کے
  • یہ خانہ آب و گل
  • سب لعل و گوہر
  • تم کبیر

اعزاز

آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پاکستانی حکومت کی جانب سے آپ کو تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا ہے۔

آخری ایام

فہمیدہ ریاض 72 سال کی عمر میں 21 نومبر 2018ء کو اس دنیا سے چل بسیں۔ آپ کا انتقال لاہور میں ہوا۔

Advertisements