Advertisement

تعارف

فرحت اشتیاق پاکستانی مصنفوں میں سے مقبول ترین نام ہیں۔ وہ ناول و افسانہ نگار ، ڈرامانویس اور اسکرپٹ رائٹر ہیں۔ ۲۳ جون ۱۹۸۰ کو وہ کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کراچی اور جاپان سے حاصل کی۔ پچپن کا کافی عرصہ ملک سے باہر گزرا۔ انھوں نے جرنل ازم میں ماسٹرز کیا ہے۔

Advertisement

ادبی تعارف

پاکستان کے موجودہ ادبی و ثقافتی منظر نامے پر شہرت کے اعتبار سے ایسے لکھاریوں کی تعداد زیادہ ہے، جنہوں نے قلمی سفر کی ابتدا کسی نہ کسی ڈائجسٹ سے کی، جبکہ ان کے قارئین کی تعداد محدود تھی۔ پھر زمانہ بدلا، پاکستانی میڈیا میں انقلاب آیا، نت نئے چینل کھلے، ان میں ایک بڑی تعداد ایسے چینلوں کی تھی، جنہوں نے تفریحی صنعت کو فروغ دیا۔ ڈراموں کے چینل شروع کیے، جن سے ڈائجسٹ لکھاریوں کی قسمت بدل گئی۔ ڈرامے کے رجحان میں تیزی اور فلم کی بحالی نے ڈائجسٹ میں لکھنے والوں کو اپنے اندر ضم کرلیا۔

Advertisement

فلم

ڈائجسٹ کی دنیا میں ایسے بہت نام ابھر کر سامنے آئے جنہوں نے ناول نگاری کو موضوع بنا کر ڈرامے کے راستے سے شہرت حاصل کی، لیکن ابھی تک اس موجودہ زمانے کے ناول نگاروں میں سے صرف ایک ناول نگار فرحت اشتیاق ہیں، جن کے ناول ’’بن روئے آنسو‘‘ پر پاکستان میں ’’بن روئے‘‘ کے نام سے فلم بنی۔ انہوں نے گزشتہ برس ریلیز ہونے والی فلم ’’پرواز ہے جنوں‘‘ کی کہانی بھی لکھی تھی۔

Advertisement

موضوع

فرحت اشتیاق پاکستان کی ممتاز ترین اوربہترین مصنفہ ہیں۔ انکی تحریریں محبّت، قدروں، روایات اور رشتوں کے گرد گھومتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں ایک ڈرامائی سا قصہ بیان کیا گیا ہے۔

لکھنے کا آغاز

فرحت ایک انٹرویو میں اپنے بارے میں کہتی ہیں کہ لکھنے کا شوق مجھے بچپن سے تھا لیکن میں نے کبھی اسے اس انداز سے اہمیت دے کر نہیں سوچا تھا کہ مجھے باقاعدگی سے لکھنا اور اپنی تحریروں کو چھپوانا چاہیے۔ شعاع میں افسانہ نگاری کے مقابلے کے بارے میں پڑھ کر میرا دل چاہنے لگا کہ مجھے بھی اس مقابلے میں شرکت کرنی چاہیے۔ اپنے ناولٹ خوشبو، بدل، چاند، ہوا، شعاع میں پوسٹ کئے اور میرا بچپن کا بچھڑا اور بھولا ہوا شوق ایک دم ہی بیدار ہو گیا۔ ابتداء میں جب میں نے لکھنا اور اپنی تحریروں کو شائع کروانا شروع کیا تو میرا خیال تھا کہ یہ کچھ دنوں کا شوق ہے تھوڑے ہی دِن میں ، میں اس کام سے بور ہو کر اسے چھوڑ دونگی۔ مگر اب تک تو ایسا نہیں ہوا ہے اور میں بڑی مستقل مزاجی سے لکھتی چلی جا رہی ہوں۔ ان دنوں زندگی کا بچھونا لکھنا اور پڑھنا ہی بنا ہوا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انٹرویو دینا، اپنے بارے میں بات کرنا ہمیشہ سے میرے لئے بیحد کٹھن رہا ہے۔ میں ١٠٠٠، ۱۵۰۰ صفحات کا ناول بآسانی لکھ سکتی ہوں۔ مگر اپنے متعلق چند جملے لکھنا بھی میرے لئے جوے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔

Advertisement

تصانیف

فرحت اشتیاق نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جس میں نصف پر ڈراما بھی فلمایا گیا ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں؛

  • ہمسفر،
  • بن روئے،
  • متاع جاں ہے تو،
  • دل سے نکلے وہ لفظ،
  • دیار دل،
  • وہ جو قرض رکھے تھے جاں پر،
  • جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو قابلِ ذکر ہیں۔

حرفِ آخر

فرحت اشتیاق ۴۱ برس کی ہیں اور پاکستان میں کام کر رہی ہیں۔ وہ روشنیوں کے شہر کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement