Advertisement

تعارفِ نظم

یہ بند ہماری درسی کتاب کی نظم ”گرمی کی شدت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام میر انیس ہے۔ یہ نظم کلیاتِ انیس سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر

میر انیس کا نام میر ببر علی اور انیس تخلص تھا۔ آپ فیض آباد (ہندوستان) کے سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انیس نے ہزاروں نوحے اور بہت سے سلام تحریر کیے۔ آپ نے "واقعہ کربلا” کو اپنے اشعار میں نہایت کمال سے منظر نگاری، کردار نگاری اور مکالمہ نگاری کی صورت میں پیش کیا ہے۔

Advertisement
وہ لُو، وہ آفتاب کی حِدَّت، وہ تاب و تَب
کالا تھا رنگ دھوپ سے دن کا مثال ِ شب
خود نہرِ عَلقَمَہ کے بھی سُوکھے ہوئے تھے لب
خیمے جو تھے حَبابوں کے تَپتے تھے سب کے سب
اُڑتی تھی خاک، خشک تھا چَشمہ حَیات کا
کَھولا ہُوا تھا دھوپ سے پانی فُرات کا

اس شعر میں شاعر کربلا کے واقعی سے پہلے گرمی کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہا اس دن بہت لُو تھی۔ اس دن سورج بہت زیادہ گرم تھا اور اس کی تپش جسم کو جھلسا دینے والی تھی۔ گرمی اس قدر شدید تھی کی دھوپ سے دن کا رنگ بھی رات کی طرح کالا ہوگیا تھا۔ نہرِ علقمہ بھی سوکھ چکی تھی اور تمام خیمے بھی بہت زیادہ گرم تھے۔ پانی کا چشمہ بھی خشک ہونے لگا تھا فرات کا پانی بھی سورج کی تپش سے کھول اٹھا تھا۔ غرض شاعر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس دم ناقابلِ برداشت اور جسم کو جھلسا دینے والی گرمی ہورہی تھی۔

Advertisement
آبِ رواں سے مُنھ نہ اٹھاتے تھے جانور
جنگل میں چُھپتے پِھرتے تھے طائر اِدھر اُدھر
مَردُم تھے سات پردوں کے اندر عَرَق میں تر
خس خَانَہ مِثَرہ سے نکلتی نہ تھی نَظَر
گَر آنکھ سے نکل کے ٹھہر جائے راہ میں
پڑ جائیں لاکھ آبلے پائے نِگاہ میں

شاعر گرمی کی شدت کا احوال بیان کرتے ہوئے بتارہے ہیں اس دن اس قدر شدید گرمی تھی کہ جانور پانی سے اپنا سر نہ اٹھاتے تھے۔ ابھی وہ سر اٹھاتے کہ ان کا گلا دوبارہ خشک ہوجاتا اور وہ مسلسل پانی پی رہے تھے۔ طائر یعنی چھوٹے چھوٹے پرندے بھی جنگل میں اپنے لیے سائے تلاش کررہے تھے تاکہ گرمی سے بچا جاسکے لیکن گرمی سے بچ نہیں پا رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ آنکھیں سات پردوں میں چھپی ہوئی تھیں اور نظر پلکوں سے باہر نہیں نکلتی تھی۔ اگر اس روز پلکوں سے باہر نظر جتی تو اس میں اسی وقت لاکھ ابلے پڑجاتے۔

کوسَوں کسی شجر میں نہ گُل تھے نہ بَرگ وبَار
ایک ایک نَخل جل رہا تھا صورتِ چَنار
ہنستا تھا کوئی گُل نہ مہکتا تھا سَبزہ زار
کانٹا ہوئی تھی پھولوں کی ہر شاخ ِ باردار
گرمی یہ تھی کہ زِیست سےدل سب کے سرد تھے
پتَے بھی مثل ِ چہرہ ٔ مَدقُوق زرد تھے

اس شعر میں شاعر پودوں پر گرمی کی شدت کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دور دور تک کسی درخت پر کوئی گُل، کوئی پھل موجود نہیں تھا۔ نہ ہی وہاں کوئی سبزہ تھا اور نہ کوئی ہریالی بلکہ پھولوں کی ہر شاخ گرمی کی شدت سے سوکھ کر کانٹا بن چکی تھی۔ اس شعر کے آخر میں گرمی اور دل کے سرد ہونے کو اکٹھا کرنا بھی ہنر مندی ہے۔ اس طرح کی مثالیں ہمیں میر انیس کے پاس جا بجا ملتیں ہیں۔

Advertisement
شیر اُٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کَچھار سے
آہُو نہ مُنھ نکالتےتھے سبز ہزار سے
آئینہ مہر کا تھا مُکَدَّر غُبار سے
گَردُوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بُخار سے
گرمی سے مُضطَرب تھا زمانہ زمین پر
بُھن جاتا تھا جو گِرتا تھا دانہ زمین پر

اس نظم کے آخر بند میں شاعر گرمی کے ناقابلِ حد تک بڑھنے کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جنگل بھی دھوپ اور گرمی کی وجہ سے نڈھال ہوچکے تھے اور اب اپنے کچھار سے باہر بھی نہیں آرہے تھے۔ نہ ہی کوئی اور پرندہ یا جانور نظر آرہا تھا بلکہ سب ہی اپنے اپنے گھونسلوں اور گھروں میں گرمی کی شدت سے بچنے کی سر توڑ کوشش کررہے تھے۔ اور پھر گرد کو بھی زمین کی تپش بہت محسوس ہورہی تھی یوں لگتا تھا جیسے گرد و زمین کو بخار ہوگیا ہو۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس روز اتنی گرمی تھی کہ اگر اناج کا کوئی دانہ زمین پر گر جاتا تو زمین و سورج کی تپش سے اسی وقت بُھن جاتا۔

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 : درج ذیل الفاظ اور تراکیب کے معنی بتائیے :

الفاظمعنی
حدتگرمی
طائرچھوٹے چھوٹے پرندے
خانہ مژہآنکھوں کی پلکیں
برگ و بار پتے اور پھل
مکدرمیلا

سوال نمبر 3 : خالی جگہوں میں مناسب الفاظ لکھ کر مصرعے مکمل کیجیے۔

  • (الف) اڑتی تھی (خاک) خشک تھا چشمہ حیات کا۔
  • (ب) جنگل میں چھپتے پھرتے تھے (طائر) ادھر ادھر
  • (ج)خیمے جو تھے (حبابوں) کے تپتے تھے سب کے سب
  • (د)گرمی یہ تھی کہ (زیست) سے دل سب کے سرد تھے

سوال نمبر 4 : آپ اس طرح کا کوئی شعر سنائیے جس میں تشبیہ دی گئی ہو۔

ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں
(منیر نیازی)

اس شعر میں انسان مشبہ اور سانپ مشبہ بہ ہے۔

Advertisement

سوال نمبر 5 : درج ذیل جوابات میں سے درست جواب پر (درست) کا نشان لگائیے :

(الف) کسی مرنے والے کی یاد میں کہی گئی نظم کہلاتی ہے :

  • (۱)غزل
  • (۲)مرثیہ ✔
  • (۳)مناجات
  • (۴)قصیدہ

(ب) علقمہ ہے :

Advertisement
  • (۱)نہر ✔
  • (۲)دریا
  • (۳)چشمہ
  • (۴)سمندر

(ج) "دل سرد ہونا” قواعد کے لحاظ سے ہے :

  • (۱)استعارہ
  • (۲)تشبیہ ✔
  • (۳)محاورہ
  • (۴)روز مرہ

(د) کتاب میں دی ہوئی نظم "گرمی کی شدت”میں بند ہیں :

Advertisement
  • (۱)دو
  • (۲)تین
  • (۳)چار ✔
  • (۴)پانچ

(ہ) میر انیس کی نظم میں گرمی کا ذکر ہے :

  • (۱)دمشق کی
  • (۲)کربلا کی ✔
  • (۳)کوفے کی
  • (۴)مکےکی
Advertisement

Advertisement

Advertisement