Advertisement
سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے
منزل ہزار سخت ہو ہمت نہ ہاریے
مقسوم کا جو ہے سو وہ پہنچے گا آپ سے
پھیلائیے نہ ہاتھ نہ دامن پساریے
طالب کو اپنے رکھتی ہے دنیا ذلیل و خوار
زر کی طمع سے چھانتے ہیں خاک نیاریے
تنہائی ہے غریبی ہے صحرا ہے خار ہے
کون آشنائے حال ہے کس کو پکاریے
تم فاتحہ بھی پڑھ چکے ہم دفن بھی ہوئے
بس خاک میں ملا چکے چلئے سدھاریے
نازُک دلوں کو شرط ہے آتش! خیالِ یار
شیشہ خُدا جو دے تو پری کو اتاریے

تشریح

سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے
منزل ہزار سخت ہو ہمت نہ ہاریے

شمع کا گل، بتی جب کٹتی ہے تو وہ آواز نہیں کرتی بلکہ اس کی لو بڑھ جاتی ہے۔اسی طرح جب کوئی حل مُشکل کاٹ جاتی ہے تو حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔بس شاعر کہتا ہے کہ شمع کی طرح سر کٹا دیجئے مگر اُف نہ کیجیے اور منزل مقصود کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو،ہمت مت ہاریے۔اگر ایسا ہو سکا پھر منظر آسان ہو جائے گی۔

Advertisement
مقسوم کا جو ہے سو وہ پہنچے گا آپ سے
پھیلائیے نہ ہاتھ نہ دامن پساریے

شاعر کہتا ہے کہ جو کچھ مقدر میں ہوگا وہ خود بخود مل جائے گا لہذا سوال کے لئے ہاتھ پھیلانا اچھی بات نہیں ہے کہ مُقدر میں اگر نہیں ہو تو کہاں ملتا ہے۔ البتہ سُبکی ضُرور ہوتی ہے۔

Advertisement
طالب کو اپنے رکھتی ہے دنیا ذلیل و خوار
زر کی طمع سے چھانتے ہیں خاک نیاریے

شاعر کہتا ہے کہ طالب کو یعنی امید رکھنے والے کو دنیا ہمیشہ ہی ذلیل رکھتی ہے۔طلب گار کو بھی عزت نہیں ملتی۔لہذا یہ طلب ہی ہے، ہوس ہی ہے کہ وہ نالیوں سے خاک چھاننے پر مجبور کر دیتی ہے۔

Advertisement
تنہائی ہے غریبی ہے صحرا ہے خار ہے
کون آشنائے حال ہے کس کو پکاریے

شاعر کہتا ہے کہ جذبہ شوق میں اب ہم اس مقام پر آگئے جہاں غریب اُلوطنی،تنہائی،جنگل اور کانٹوں کے سِوا کچھ نہیں ہے۔اب ان میں سے کون ہمارے حال سے واقف ہے کہ جس کو آوازدیں،پُکاریں۔

نازُک دلوں کو شرط ہے آتش! خیالِ یار
شیشہ خُدا جو دے تو پری کو اتاریے

غزل کے مقطعے میں شاعر کہتا ہے کہ آتش محبوب کا خیال رکھنا کچھ بُری بات نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اگر خدا نے یہ نرم و نازُک آئینے جیسا دل دیا ہے تو پھر اس میں محبوب کی تمثال اتارنا لازم ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement