Advertisement

تعارفِ نظم

یہ بند ہماری درسی کتاب کی نظم ”جیوے جیوے پاکستان“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام جمیل الدین عالی ہے۔ یہ نظم علی جی کی نغمہ نگاری سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر

جمیل الدین عالی ۱۹۲۵ میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ادب ان کا شوق بلکہ روح تھی۔ آپ نے غزلیں، نظمیں ، دوہے ، اخباری کالم اور سفر نامے لکھے۔ ان کی کتب ”دنیا مرے آگے، تماشا مرے آگے، نقار خانے میں، لاحاصل اور جیوے جیوے پاکستان “ اردو ادب کے عظیم شاہکار ہیں۔

Advertisement
جیوے، جیوے، جیوے پاکستان
پاکستان ، پاکستان، جیوے پاکستان
پاکستان ، پاکستان، جیوے پاکستان
جیوے۔۔۔۔۔۔۔جیوے
جیوے۔۔۔۔۔۔۔جیوے

اس نظم کے پہلے شعر میں نغمہ شروع کرنے کے لیے شاعر نے ایک دعا کی ہے کہ پاکستان ہمیشہ سلامت رہے اور اس دعا کو ہی بار بار لکھا گیا ہے۔

Advertisement
مہکی مہکی روشن روشن پیاری پیاری نیاری
رنگ برنگے پھولوں سے اِک سجی ہوئی پُھلواری
پاکستان، پاکستان، جِیوے پاکستان

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ پاکستان اور یہاں کے لوگ پیارے اور خوبصورت ہیں۔ وہ رنگ برنگے پھولوں سے انسانوں کو تشبیہ دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں پیارے پیارے اور الگ الگ لوگ رہتے ہیں۔

مَن پَنچھی جب پنکھ ہلائے کیا کیا سُر بِکھرائے
سُننے والے سنیں تو اُن میں ایک ہی دُھن لہرائے
پاکستان، پاکستان، جِیوےپاکستان

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب ہمارے دل کا پرندہ اپنے پر پھیلاتا اور ہلاتا ہے تو ایک انوکھا سُر آس پاس بکھر جاتا ہے اور اس دھن کو سننے والوں کو پاکستان کی سلامتی کی دعائیں سنائی دیتی ہیں۔

Advertisement
بکھرے ہوؤں کو، بچھڑے ہوؤں کو، اِک مرکز پر لایا
کتنے ستاروں کے جھرمٹ میں سورج بن کر آیا
پاکستان، پاکستان، جِیوےپاکستان

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ پاکستان نے بہت سارے بچھڑے ہوئے لوگوں کو ملایا ہے جو در بدر اپنے حق کے لیے بھٹک رہے تھے اور ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہمارا پیارا وطن پاکستان بہت سارے ممالک کے سمندر میں ایک چمکتے ہوئے سورج کی مانند آزاد ہوا ہے۔

جھیل گئے دکھ جھیلنے والے اب ہےکام ہمارا
ایک رہیں گے ایک رہے گا ایک ہے نام ہمارا
پاکستان، پاکستان، جِیوےپاکستان

اس نظم کے آخری شعر میں شاعر دراصل ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہمیں یہ وطن بہت ساری مشکلات اور پریشانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔ ہمارے بزرگ بہت قربانیوں کے بعد یہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اس لیے اب ہمیں چاہیے کہ ہم سب ایک ساتھ رہیں تاکہ ہمارا وطن ہمیشہ قائم و دائم رہے اور سلامت رہے۔

Advertisement

اس نظم کے سوالوں کے جوابات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 : درج ذیل جوابات میں سے درست جواب پر (درست)کا نشان لگائیے :

(الف) ہماری دُھن ہے :

  • (۱)ایمان
  • (۲)اتحاد
  • (۳)پاکستان ✔
  • (۴)ترقی

(ب) بچھڑے ہوؤں کو ایک مرکز پر لایا :

Advertisement
  • (۱)ہمارا قائد
  • (۲)ہمارا پرچم
  • (۳)ہمارا نغمہ
  • (۴)ہمارا وطن ✔

(ج) ایک ہے نام ہمارا سے مراد ہے :

  • (۱)ایران
  • (۲)پاکستان ✔
  • (۳)سعودی عرب
  • (۴)چین

(د) ستاروں کے "جھرمٹ” سے شاعر کی مراد ہے دنیا کے :

Advertisement
  • (۱)لوگ
  • (۲)براعظم
  • (۳)سمندر
  • (۴)ممالک ✔

سوال نمبر 3 : درج ذیل الفاظ اور مرکبات کے معنی لکھیے :

الفاظمعنی
مہکی مہکیخوشبودار
روشن روشنچمکتا ہوا
نیاریسب سے الگ سونے چاندی کے ذرات ملی ہوئی مٹی (مراد وطن کی مٹی)
پھلواریپھولوں کی کیاری
جھرمٹہجوم ، بِھیڑ

سوال نمبر 4 : درج ذیل الفاظ کو جملوں میں استعال کیجیے : جملے

الفاظجملے
پنچھیصبح سویرے پنچھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔
جھرمٹ مجھے جھرمٹ والی جگہوں پر جانا پسند نہیں ہے۔
دھن مجھے ملی نغموں کی دھن بہت اچھی لگتی ہے۔
مرکز لاہور میں مینارِ پاکستان لوگوں کی نظروں کا مرکز بنا رہتا ہے۔
دکھ پاکستان ہمیں بہت دکھ اور پریشانیاں اٹھانے کے بعد ملا ہے۔

سوال نمبر 5 : اس نغمے کا خلاصہ بیان کیجیے۔

جواب : اس نغمے میں جمیل الدین عالی لکھتے ہیں کہ ہمارا وطن پاکستان مکہتا ہوا ، روشن ، پیارا اور نیارا ہے۔ ہمارا وطن رنگ برنگے پھولوں اور پھلوں سے سجا ہوا ہے۔ جب ہمارے دل کا پنچھی اپنے پر لہراتا ہے تو ایک خاص قسم کی دھن پیدا ہوتی ہے اور وہ دھن جو کوئی بھی سنتا ہے اسے فقط جیوے جیوے پاکستان ہی سنائی دیتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہمارا ملک بچھڑے اور بکھرے ہوئے لوگوں کو ملانا کا سبب بنا ہے اور بہت سارے ممالک کی بھیڑ میں ایک چمکتاہوا سورج بن کر ہم سب کے سامنے آیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگ جنہوں نے بہت جدوجہد کے بعد یہ وطن حاصل کیا ہے انھوں نے بہت دکھ اٹھائے اس لیے اب ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک ساتھ مل کر رہیں تاکہ ہمارا وطن ہمیشہ سلامت رہے۔

Advertisement
Jeevay Jeevay Pakistan Lyrics | نظم جیوے جیوے پاکستان کی تشریح
Advertisement

Advertisement

Advertisement