Advertisement

علم بیان کی رو سے یہ وہ کلمہ ہے، جس کے معنی مبہم اور پوشیدہ ہوں اور ان کا سمجھنا کسی قرینے کا محتاج ہو، وہ اپنے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں اس طرح استعمال ہوا ہو کہ اس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہوں۔ یعنی بولنے والا ایک لفظ بول کر اس کے مجازی معنوں کی طرف اشارہ کر دے گا، لیکن اس کے حقیقی معنیٰ مراد لینا بھی غلط نہ ہو گا۔ مثلاً ’’بال سفید ہو گئے لیکن عادتیں نہ بدلیں۔ ‘‘

Advertisement

یہاں مجازی معنوں میں بال سفید ہونے سے مراد بڑھاپا ہے لیکن حقیقی معنوں میں بال سفید ہونا بھی درست ہے۔

Advertisement

بقول سجاد مرزا بیگ:
’’ کنایہ لغت میں پوشیدہ بات کرنے کو کہتے ہیں اور اصطلاح علم بیان میں ایسے کلمے کو کہتے ہیں جس کے لازمی معنی مراد ہوں اور اگر حقیقی معنی مراد لیے جائیں تو بھی جائز ہو۔

Advertisement
سرپہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ
مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا

سر پہ چڑھنا سے مراد گستاخ ہونا، اپنے تئیں دور کھینچنا مراد ہے اور حقیقی معنی یعنی ٹوپی سر پر رکھنا مراد ہوسکتے ہیں۔ ‘‘

علم بیان کی بحث میں تشبیہ ابتدائی صورت ہے اور استعارہ اس کی بلیغ تر صورت ہے۔ اس کے بعد استعارہ اور مجاز مرسل میں بھی فرق ہے۔ استعارہ اور مجاز مرسل، دونوں میں لفظ اگرچہ اپنے مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن استعارہ مکمل مجاز ہوتا ہے اور اس میں لفظ کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہوتا ہے۔ جب کہ مجاز مرسل میں لفظ کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق نہیں ہوتا۔ اسی طرح مجاز مرسل اور کنایہ میں بھی فرق ہے، کنایہ میں لفظ کے حقیقی و مجازی معنی دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں جب کہ مجاز مرسل میں حقیقی معنیٰ مراد نہیں لیے جاتے، بلکہ مجازی معنیٰ ہی مراد لیے جائیں گے۔

Advertisement

کنایہ کی ایک مثال مشہور عرب شاعرہ حضرت خنساؓ کے قصیدہ کا یہ شعر ہے جو اس نے اپنے بھائی کے لیے کہا تھا:

طَوِیلُ النَجَادِ رَفِیعُ العِمَاد َکثیرُ الرَمَادِ اِذَا مَا شَتَا
’’ان کی تلوار کا نیام طویل تھا، ان کےستون اونچے تھے، اور سردی کے موسم میں ان کے ہاں راکھ بہت ہوتی تھی۔ ‘‘

Advertisement

طویل النجاد حقیقی اور مجازی دونوں معنی میں درست ہے۔ ان کی تلوار کا نیام حقیقت میں بھی طویل ہوسکتا ہے اور یہ ان کی بہادری اور لمبے قد کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح رفیع العماد کا مطلب ان کے گھر کے بلند ستون بھی ہوسکتے ہیں اور قبیلے میں ان کا بلند مقام بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔ اور کثیر الرماد یعنی چولہے میں بہت زیادہ راکھ ہونے کا بیان ان کی سخاوت کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے ہاں غریبوں کے لیے بہت زیادہ کھانا پکتا تھا اور اس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔

کنایہ کی اقسام

1. کنایہ قریب

کنایہ کوئی ایسی صفت ہو جو کسی خاص شخصیت کی طرف منسوب ہو اور اس صفت کو بیان کر کے اس سے موصوف کی ذات مراد لی گئی ہو۔ مثلاً عزیز لکھنوی کے بقول:

Advertisement
دعوے تو تھے بڑے ارنی گوئے طور کو
ہوش اڑ گئے ہیں ایک سنہری لکیرسے

اس شعر میں ’ارنی گوئے طور ‘سے حضرت موسیٰ علیہ السلام مراد ہیں۔ کنایہ کی اس قسم سے توجہ فوراً ہی موصوف کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔

2. کنایہ بعید

کنائے کی اس قسم میں بہت ساری صفتیں کسی ایک موصوف کے لیے مخصوص ہوتی ہیں اور ان کے بیان سے موصوف مراد ہوتا ہے۔ لیکن وہ ساری صفتیں الگ الگ اور چیزوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کو کنایہ بعید اور خاصہ مرکبہ بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً:

Advertisement
ساقی وہ دے ہمیں کہ ہوں جس کے سبب بہم
محفل میں آب و آتش و خورشید ایک جا

آب و آتش و خورشید کے جمع ہونے کی صفت شراب میں پائی جاتی ہے اور یہ صفات الگ الگ بھی موجود ہوسکتی ہیں۔

3. کنایہ سے صرف صفت مطلوب ہو

زندگی کی کیا رہی باقی امید
ہو گئے موئے سیاہ موئے سفید

اس شعر میں موئے سیاہ سے جوانی مراد لی گئی ہے اور موئے سفید بڑھاپے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

Advertisement

4. کنایہ سے کسی امر کا اثبات یا نفی مراد ہو

مثلاً یہ جملہ: زید و عمر دونوں ایک سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ یعنی دونوں اپنی شکل و صورت یا عادات و خصائل میں ایک جیسے ہیں۔

5. تعریض

لغت میں تعریض کے معنی ’چوڑا کرنا، وسیع کرنا، بڑا کرنا، مخالفت کرنا، مزاحمت کرنا، کنایہ سے بات کہنا، اشارہ سے کوئی بات جتانا، کسی معاملے کو مشکل بنا دینا ‘وغیرہ ہیں۔ اصطلاح میں تعریض کنائے کی اس قسم کو کہتے ہیں جس میں موصوف کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اگر کوئی بادشاہ رعایا پر ظلم کر رہا ہو تو یہ کہا جائے کہ بادشاہی اس کو زیبا ہے جو رعیت کو آرام سے رکھے۔ یعنی وہ بادشاہی کے لائق نہیں ہے۔ تعریض کو بالعموم کسی پر تنقید کرنے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی کوئی شخص کسی پر تنقید کرنا چاہتا ہے اور واضح طور پر اس کا نام بھی نہیں لینا چاہتا۔ اس میں کسی حد تک طنز کا مفہوم بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً داغ دہلوی کا شعر ہے:

Advertisement
ہمی بدنام ہیں جھوٹے بھی ہمی ہیں بے شک
ہم ستم کرتے ہیں اور آپ کرم کرتے ہیں

اس شعر میں داغ نے طنز کی صورت میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ آپ ہی دراصل جھوٹے ہیں اور ہم پر ستم کرتے ہیں۔
کنائے کی اس قسم کی مثال قرآن مجید کی اس آیت میں بھی موجودہے۔ ارشاد ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ۔ (آل عمران۲۱:۳)

Advertisement

’’ جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، جو خلق خدا میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوش خبری سنا دو۔ ‘‘ یہاں لفظ فَبَشِّرْهُمْ میں تعریض ہے۔ اس کا معنی’’ خو ش خبری سنا دو‘‘ ہے۔ جبکہ جہنم کا عذاب درحقیقت خو ش خبری نہیں، بلکہ بری خبر ہے، مگر اسے بطور تعریض خوش خبری کہا گیا ہے۔

Advertisement

6. تلویح

لغت میں تلویح کے معنی’ زرد بنانا، گرم کرنا، کپڑوں کو چمکدار بنانا، تلوار کو صیقل کرنا، اشارہ یا کنایہ کرنا ہیں۔ اصطلاح میں کنائے کی ایسی قسم جس میں لازم سے ملزوم تک بہت سارے واسطے ہوں تلویح کہلاتی ہے۔ اس کی مثال سودا کا یہ شعر ہے:

الغرض مطبخ اس گھرانے کا
رشک ہے آبدار خانے کا

یہاں مطبخ کا رشک آبدار خانہ ہونا کنایہ ہے نہایت بخل سے۔ کیونکہ آبدار خانہ ہونے کو آگ کا نہ جلنا لازم ہے اور آگ کے نہ جلنے کو لازم ہے کھانے کا نہ پکنا اور کھانا نہ پکنے کو یہ بات لازم ہے کہ صاحب مطبخ نہ خود کچھ کھاتا ہے اور نہ دوسروں کو کچھ کھلاتا ہے اور اس سے بخل ثابت ہوتا ہے۔

Advertisement

7. رمز

اردو لغت میں رمز کے معنی ’آنکھوں ‘ بھنوؤں وغیرہ کا اشارہ، ذومعنی بات، پہلو دار بات، مخفی بات، طعنہ دینا، اشارہ آنکھ منہ ابرو وغیرہ سےنوک جھونک، مخفی یا پوشیدہ بات‘ وغیرہ ہیں۔ ادبی اصطلاح میں رمز کنا یہ کی وہ قسم ہے جس میں زیادہ واسطے نہ ہوں، لیکن تھوڑی بہت پوشیدگی موجود ہو۔ مثلاً یہ شعر رمز کی ایک عمدہ مثال ہے:

Advertisement
سیاہی منہ کی گئی، دل کی آرزو نہ گئی
ہمارے جامہ کہنہ سے مئے کی بو نہ گئی

اس میں جامہ کہنہ سے شراب کی بو کا نہ جانا کنایہ ہے اس سے کہ بڑھاپے تک میخواری کرتے رہے۔

Advertisement

8. ایما و اشارہ

اگر کنائے میں واسطوں کی کثرت بھی نہ ہو اور کچھ پوشیدگی بھی نہ ہو تو اس کو ایما و اشارہ کہتے ہیں۔ جیسے سفید داڑھی والاسے بوڑھا آدمی مراد لیا جاتا ہے۔ اسی طرح میر کا یہ شعر ایما و اشارہ کی عمدہ مثال ہے:

شرکت شیخ و برہمن سے میر
اپنا کعبہ جدا بنائیں گے ہم

اپنا کعبہ جدا بنانا، سب سے علیحدہ رہنے کی طرف اشارہ ہے۔

Advertisement
تحریرمحمد ذیشان اکرم
Advertisement

Advertisement

Advertisement