تعارف

اردو نثر میں بلند مقام رکھنے والے اسلامی تاریخ  کو خوبصورتی سے اپنے لفظوں میں پرونے والے نسیم حجازی کا اصل نام شریف حسین تھا۔ نسیم حجازی ان کا قلمی نام تھا جس سے مقبول عام ہوئے۔ شریف حسین ۱۹ مئی ۱۹۱۴ کو کمپنی  کے دور میں گرداس پور میں پیدا ہوئے۔ آزادی کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان آگئے۔ ان کے والد کا نام چودھری محمد ابراہیم تھا۔ ابتدائی تعلیم گرداس پور سے ہی حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور  آئے اور بی اے کیا اور اسی دورانیے میں ادب کا سفر کی ابتداء کی مختلف جریدوں میں اپنے افسانے شائع کروایا کرتے تھے۔

ادبی خدمات

نسیم حجازی یقینا ایک مبلغ ہیں، لیکن ان کا جذبۂ تبلیغ ہی انہیں بلاغتِ فن کی طرف متوجہ کرتا ہے اور وہ اپنے پیغام کو زیادہ سے زیادہ دل آویز بنانے کے لیے حُسنِ اظہار کی آخری حدوں تک جاتے ہیں۔ نتیجتاً ان کا اُسلوبِ نگارش سحر آفریں بن جاتا ہے۔ کم نظر ناقدین اسے پروپیگنڈا کہہ کر نظرانداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ درحقیقت ادب کے اسرار و رموز سے واقف نہیں، اور محض اپنے تعصبات و جذبات کو اصول و معیار سمجھتے ہیں۔ جب کہ نسیم حجازی کے ناولوں کے ساتھ ان کے قارئین کی ذہنی وابستگی درحقیقت ناول نگار کی مہارتِ فن کا ثبوت ہے۔

1940ء تا 1991ء نئی نسل کو ناول نگاری کے ذریعے مسلمانوں کے عروج و زوال، اسباب، سدِ باب اور عملی اقدام سے آگاہ کرتے ہوئے نسیم حجازی نے روز ِ اوّل سے معتبر مؤرخ کا کردار ادا کیا۔ وہ فن پر مکمل گرفت اور ناول کی تکنیک سے خوب واقف تھے۔ وہ علامہ اقبال اور قائد اعظم سے متاثر رہے۔ مسلمانوں کی سوئی روح کو بیدار کرنے میں نسیم حجازی کی نثر نے وہی کمال دکھایا، جو علامہ اقبال نے شاعری میں کیا۔

نسیم حجازی کے بعض کردار جذباتی مکالمے پیش کرتے ہیں اور طویل مکالموں سے قاری کو ہرگز بوریت کا احساس نہیں ہوتا، کیوں کہ وہ حقیقت سے بالکل دُور نہیں ہوتے۔ اُن کی ہر کتاب کے شروع ہوتے ہی حکمت و دانش کے موتی بھی ہر صفحے پر چمکتے مل جاتے ہیں۔نسیم حجازی کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ گہرا ہے، وہ جس ماحول کو پیش کرنا چاہتے ہیں اس کی جزیات و تفصیلات سے واقف ہیں اور حالات کے تجزیے میں انہیں ید ِطولیٰ حاصل ہے، ان کی سیاسی بصیرت تاریخی واقعات کے تمام مضمرات کھول کر سامنے رکھ دیتی ہے۔

فنی کمال کا اندازہ ’محمد بن قاسم‘ کے مطالعے سے کیا جاسکتا ہے کہ کس ہنر مندی و چابک دستی سے تاریخ مسخ کیے بغیر متاثر کن داستان سے حالاتِ جنگ میں بھی انسانی رشتوں کے احترام اور معاشرتی سرگرمیوں میں امن و محبت کا ماحول پیدا کیا۔ ’آخری چٹان‘ میں عالم ِ اسلام کے خلاف منگولوں کی تباہ کن یلغار کا تنہا مقابلہ کرکے سلطان جلال الدین شاہ خوارزم نے بغداد کی خلافت ِ عباسیہ پر منڈلانے والے خطرات کو ایک مدت تک روکے رکھا۔ ’قیصر و کسریٰ‘ اور ’قافلہ ٔ حجاز‘ میں اسلام کے دور ِ زرّیں کو ناول نگاری کا موضوع بنایا۔ مسلم اسپین (ہسپانیہ، قرطبہ اور غرناطہ) کا نوحہ
’یوسف بن تاشفین‘،
’شاہین‘،
’اندھیری رات کے مسافر‘،
’کلیسا اور آگ‘میں بیان کیا۔

تصانیف

  • نسیم حجاری کی مشہور تصانیف میں
  • محمد بن قاسم،
  • اور تلوار ٹوٹ گئی،
  • گمشدہ قافلے،
  • معظم علی،
  • اندھیری رات کے مسافر،
  • شاہین،
  • قیصر و کسرٰی ،
  • پردیسی درخت،
  • آخری چٹان،
  • آخری معرکہ،
  • انسان اور دیوتا،
  • کلیسا اور آگ،
  • یوسف بن تاشفین،
  • سفید جزیرہ،
  • ثقافت کی تلاش میں،
  • سوسال بعد،
  • داستان مجاہد قابل ذکر ہیں۔

اعزاز

1992ء میں پرائڈ آف پرفارمنس حاصل کیا۔

آخری ایام

علم و ادب کا یہ آفتاب 81 برس کی عمر میں 2 مارچ 1996ء کو راولپنڈی میں غروب ہوگیا۔ وہ اپنی تحریروں سے ہمیشہ کے لیے روشن سویرا طلوع کر گئے، جن کی چمک رہتی دنیا تک آنکھوں کو خیرہ کرتی رہے گی۔