تعارف

پنڈت رتن ناتھ در سرشار 1864 میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پنڈت بیج ناتھ در تھا۔ آپ ایک باعزت کشمیری پنڈت تھے۔ آپ کے سر سے باپ کا سایہ سے بہت جلدی اٹھ گیا۔ اس وقت آپ کی عمر چار برس کے قریب تھی۔ سرشار نے بچپن ماں کے زیر سایہ گزارا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے بیشتر لوگ ماں کے سایہ عاطفت میں ہی پرورش پاکر بڑے لوگ بنے۔ سرشار بھی ان میں سے ایک ہیں۔

تعلیم

ابتدائی تعلیم حسب روایت مدرسے سے شروع کی۔ اردو فارسی اور عربی پڑھی جس پر لکھنؤ کا ماحول ادبی تھا۔ سرشار ذہین طلبہ تھے، آسانی سے ادبی ذوق کا اکتساب کر لیا۔ کیئنک کالج قائم میں سرشار نے بھی داخلہ لیا۔انھوں نے انگریزی تعلیم فقط نویں جماعت تک حاصل کی جس سے ان کو کوئی ڈگری وغیرہ حاصل نہیں ہوئی۔ آپ نے انگریزی تعلیم کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں پڑھا تھا۔

ضلع کھیری میں کسی اسکول میں ملازمت اختیار کی۔ اسی زمانے میں کشمیری پنڈتوں کا ایک رسالہ نکلتا تھا آپ نے اس کے لئے کئی ایک مضامین لکھے۔ اسکول سے جلدی ملازمت چھوڑ کر آپ لکھنؤ چلے گئے۔ وہاں ایک اخبار میں ملازمت اختیار کی یہ آپ کی زندگی کا سنہرا موڑ تھا جلدی آپ اس اخبار کے ایڈیٹر بن گئے۔

ناول نگاری

چنانچہ سرشار کا عہد اصلاحی تحریکات کا دور ہے۔ یعنی معاشرتی ، مذہبی، سیاسی غرض ہر میدان میں اصلاح کے لیے قدم اٹھایا گیا ہے۔انتشار زدہ ذہن مقصد سے عاری تھے۔ نئی روشنی کے لئے ناخوشگوار ، تاریکی طلب اور دم گھٹنے والی روشنی کا دور کرنا ضروری تھا۔ سرشار کا عہد اصلاحات کا عبوری دور ہے۔ ہم نئی منزلیں، نئی راہیں دیکھتے ہیں، سرشار کے عہد کو سمجھنے کے لئے از حد ضروری ہے کہ ہم ان تحریکات کا بھی مختصر جائزہ لے لیں جو اس زمانے میں جاری تھیں۔

سرشار کے قصوں کا ماخذ کوئی پرانا فارسی یا سنسکرت کا قصہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کے درمیان کی کوئی چیز ان کی تمام تصنیفات طبع زاد ہیں۔ چنانچہ ان کے ناولوں کے مطالعے سے یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ انھوں نے قصہ گوئی کے مروجہ اصولوں میں سے بعض کو بالکل ترک کردیا اور بعض کو بہت کچھ کمی بیشی کے ساتھ اپنایا بات دراصل یہ ہے کہ زمانہ بدل چکا تھا۔

سرشار نے ایک وسیع اور سیکولر نقطہ نگاہ سے زندگی اور اس کے رنگا رنگ مظاہر کو دیکھا اور حقیقت کے ایک ایسے اسلوب کو رواج دیا جس میں خواص ہی نہیں، ہر طبقہ اور ہرپیشہ کے عام انسانوں کے زندگی اور معاشرت کی مصوری کو نمایاں اہمیت دی۔مذہب یا رنگ و نسل کی بنیاد پر وہ انسانوں میں کسی تقسیم کو گوارا نہیں کرتے۔ وہ انسان کو صرف انسان کی حیثیت سے اس کے تہذہبی رشتوں اور رویوں کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ وہ ماضی کی ان روایات اور قدروں کو عزیز رکھتے ہیں جو انسان کو اخلاقی استحکام بخشتی ہیں لیکن وہ ماضی کی ان زوال پذیر قوتوں اور بے جان قدروں کو کڑی تنقید کی نظر سے بھی دیکھتے ہیں جو اخلاقی اور تہذیبی کا اصل سبب ہے۔

سرشار نے قدیم فن کے خلاف بغاوت کی ہے۔ ان کے ناولوں میں صحیح معنی میں طبقاتی کش مکش ہے۔ نوابین اور سرمایہ دار ہیں جن کا اپنا سوچ بچار کا طریقہ ہے۔

تصانیف

  • سرشار کی تصانیف میں
  • فسانہ آزاد،
  • سیر کہسار،
  • جام سرشار،
  • کامنی،
  • خدائی فوج دار،
  • کڑم دھم،
  • بچھڑی ہوئی دلہن،
  • ہشو،
  • طوفان بے تمیزی،
  • پی کہاں،
  • شمس الضخٰی ،
  • والیس کی کتاب،
  • اس کے علاوہ الف لیلہ داستان کا اردو ترجمہ کیا ہے۔

آخری ایام

سرشار کی زندگی قیام حیدرآباد کے زمانے میں فراغت کی زندگی تھی۔ آئندہ شہرت اور ترقی کے دروازت کھلے ہوئے تھے لیکن بعض بری عادتوں سے وہ جلد اس دنیا سے سدھار گئے۔ انھیں مے نوشی کا چسکا تھا۔ کثرت سے مے نوشی نے ان کی صحت پر برے اثرات مرتسم کئے۔ 31 جنوری 1903 کو حیدر آباد میں ہی انتقال ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 55 سال کی تھی۔

Advertisements