تعارف

اردو ادب میں ادب کے فروغ دینے کو ماہ نامہ سہ نامہ ہفتہ وار ڈائجسٹ کا بڑا نام ہے۔اردو ادب میں ڈائجسٹ کا بہت اہم مقام ہے یہاں پر لکھ لکھ کر بڑے بڑے لوگ آگے نکلتے ہیں ان میں سے ایک نام ثروت نذیر کا ہے جن کا نام افق پر چمکتے ستارے کی مانند ہے۔ وہ عمرہ احمد نمرہ احمد اور ہاشم ندیم جیسے مشہور و مقبول مصنفیں کی ہم عصر مصنفہ ہیں۔ ثروت نذیر ۳۱ دستمبر کو پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں پیدا ہوئیں۔ آپ پلے رائٹر ، اسکرین رائٹر ، ناول نگار ، افسانہ نگار ہیں۔

انہوں نے بہت سارے ڈرامے لکھے ہیں جو ماضی میں بلاک بسٹر ہٹ تھے۔ ثروت نذیر ایک ڈراما نویس کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں، یہ دور جو طوفان بدتمیزی کا ہے اس میں انھوں نے عبدالقادر جیسا ڈراما لکھا جو کہ انتہائی مقبول ہوا۔ اس کے بعد ام الکثوم لکھا جس نے شہرت کے جھنڈے گاڑھے۔ ان کے لکھنے کے انوکھے انداز نے انھیں اور بھی مقبول بنایا ہے۔ ان کا تخیل کہانی کی بنت کاری قارین کو اپنے سحر میں جھکڑ لیتی ہے۔

ادبی تعارف

انہوں نے ماہنامہ کرن ڈائجسٹ ، شوعہ ڈائجسٹ اور دیگر رسائل و اخبارات میں بہت سے مشہور ناول لکھے۔ ثروت نذیر کہتی ہیں: بطورِ مصنف میرا یہ تجربہ ہے کہ ہم دو طرح کی کہانیاں لکھتے ہیں۔ ایک وہ کہانیاں ہوتی ہیں جو ہم لکھتے ہیں اور دوسری وہ کہانیاں ہوتی ہیں جو اپنا آپ ہم سے لکھواتی ہیں۔ دوسری طرز کی کہانیوں کو مصنف لاکھ چاہے اپنی مرضی کے مطابق نہیں بدل سکتا، وہ کہانیاں مصنف کی انگلی پکڑ کر اپنی مرضی سے چلتی ہیں اور مصنف کو چاروناچار ان کے پیچھے چلنا پڑتا ہے۔

اسلوب

ثروت نیازی آج کے خود غرض دور میں لوگوں کو دوسروں کے لیے جینا سکھاتی ہیں۔ ان کے ناولٹ میرا خزانہ میں انہوں نے استاد و علم کی عظمت کو اس سہل انداز میں بیان کیا ہے کہ پڑھنے والا عش عش کر اٹھے۔ ثروت نیازی آسان الفاظ میں مشکل بات کہہ دیتی ہیں۔ ثروت نیازی قاری کو اپنی کہانی کے سحر  میں جکڑنے کے فن سے خوب واقف ہیں لیکن وہ آسان لکھتی ہیں۔ وہ عام انسان کی زندگی کے واقعات کو قلم بند کرتی ہیں اور ان کے ذریعے انسان کو انسان بناتی ہیں۔

تصانیف

  • ان کی چند مشہور تصانیف کے نام درج ذیل ہیں ۔
  • گواہ رہنا ،
  • سچ کی پری ،
  • فیصلے کا لمحہ ،
  • صراط مستقیم،
  • روشن ستارہ،
  • میں عبد القادر،
  • ستم گر،
  • ام کلثوم،
  • محبت ایسا دریا ہے،
  • بے شرم،
  • سیتمگر۔

اعزازات

ثروت نذیر کو ہم ایوارڈز 2013 میں روشن ستارہ کے لئے بہترین مصنف ڈرامہ سیریل کا ایوارڈ ملا تھا۔

حرفِ آخر

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ثروت نیازی ہمارے درمیان موجود ہیں اور ادب کی خدمات میں زور و شور سے حصہ لے رہی ہیں۔

Advertisements