تعارف

اردو ادب میں ناول نگاری میں بہت اہم نام رکھنے والے شوکت صدیقی 20 مارچ 1923 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ شوکت صدیقی نے میٹرک کا امتحان امیر الدولہ اسلامیہ ہائی اسکول لکھنؤ سے سیکنڈ ڈویژن میں پاس کیا تھا۔ شوکت صدیقی نے نجی طور پر ایف اے 1940 میں مکمل کیا۔ انھوں نے سیاسیات میں دلچسپی ظاہر کی اور 1946 میں سیاسیات کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔انھوں نے 1950 میں ہندوستان سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہجرت کی اور یہیں سکونت اختیار کر لی۔

ادبی سفر

انھوں نے روزنامہ پاکستان اسٹینڈرڈ سے بحیثیت سب ایڈیٹر 1952 میں وابستہ ہوئے تھے۔ بعد ازیں انھوں نے ٹائمز آف کراچی میں ملازمت اختیار کر لی۔ مگر پھر انگریزی صحافت کو خیر آباد کہا اور اپنی قومی زبان اردو میں صحافت اختیار کر لی۔

ناول نگاری

شوکت صدیقی کے ناولوں میں بنیادی کرداروں سے ہی بڑا کام لیا جاتا ہے۔ ناول ”خدا کی بستی“ میں انھوں میں تین بچوں کو بنیاد بنا کر پاکستان کے ہر طبقے کے اعمال و افعال کا تجزیہ سماجی حقیقت نگاری کی طرح کیا ہے۔ متوسط طبقے کے لوگوں یا زیادہ نچلے طبقے کے کرداروں کے ذریعے ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتوں کے چہرے سے نقاب ہٹایا گیا۔

اُن کے کرداروں میں محبت بھی ہے لیکن وہ محبت نہیں جو دو افراد کے ہاں محدود ہو گئی ہے۔ وہ محبت جو انسان کی بے چارگی سے جنم لیتی ہے۔ ان کے کردار اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں مگر وہ ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے آنسو پونچھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ کردار چوری کرتے ہیں اور ڈاکے ڈالتے ہیں، یہاں تک کہ قتل بھی کرتے ہیں لیکن پھر بھی یہ برے نہیں، یہ ان کی مجبوریاں ہیں جو اُن کو جرم کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔

”خدا کی بستی“ اور ”جانگلوس“ میں 35 سال کا وقفہ تھا۔ یہ دونوں ناول اس ملک خداداد کی شہری اور دیہی معاشرے کی صورتِ حال کی عکس کشی کرتے ہیں۔ ہم اس جائزے سے یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ کی تشکیل کے ابتدائی برسوں میں جو اونچے طبقوں کی خصائص عیاں ہوئیں وہ چالیس برسوں بعد میں نہیں بدلیں۔ پاکستان مظلوم طبقات کی مخدوش حالت نہ گفتہ بہ ہے۔

اعزاز

شوکت صدیقی کو ان کے ناول ”خدا کی بستی“ پر آدم جی ادبی ایوارڈ دیا گیا۔ یہ وہی ناول ہے جو انگریزی سمیت 26 زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے اور یہ اعزاز بہت کم ناولوں کے حصے میں آیا ہے۔ انھیں ادبی خدمات کے لئے حکومت پاکستان سے تمغائے حسن کارگردگی بھی دیا گیا۔ انھیں 2002 میں کمال فن ایوارڈ دیا گیا۔ ستارہ امتیاز اور خواجہ غلام فرید ادبی ایوارڈ سے بھی انھیں نوازا گیا۔

تصانیف

آپ کی مشہور تصانیف میں آپ کے ڈرامے، کالم، ناول اور افسانے شامل ہیں۔

  • خدا کی بستی،
  • جانگلوس،
  • کیمیاگر،
  • کمیں گاہ،
  • چار دیوار،
  • تیسرا آدمی اور
  • راتوں کا شہر قابلِ ذکر ہیں۔

آخری ایام

شوکت صدیقی طویل علالت کے بعد 19 دسمبر 2006 کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کو کراچی میں ہی مدفن کیا گیا۔