نظم ہمالہ کی تشریح

یہ نظم علامہ اقبال کے پہلے شعری مجموعے ‘بانگ درا’ کی پہلی نظم ہے جو 1901ء میں رسالہ مخزن کے پہلے نمبر میں شائع ہوئی۔ اس نظم میں وطن پرستی کے جذبات پوشیدہ ہیں اور منظر کشی کا کمال نظر آتا ہے۔ اس کی زبان فارسی رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ چونکہ یہ نظم وطن پرستی کے جذبے کے تحت لکھی گئی ہے اس لئے اس میں مبالغہ کا رنگ جگہ جگہ نمایاں ہے۔ یہ نظم 8 بندوں پر مشتمل ہے جن کی تشریح درج ذیل ہے۔

پہلا بند

شاعر کوہ ہمالیہ سے خطاب کرتا ہے کہ تو ہندوستان کی حفاظت کے لیے دیوار یا شہر پناہ کا کام دیتا ہے اور تو اس قدر بلند ہے کہ آسمان بھی تیری پیشانی کو جھک کر چومتا ہے۔ تو دنیا کی پیدائش کے وقت سے موجود ہے لیکن ابھی تک جوان ہے۔ تجھ میں کسی طرح ضعف یعنی بزرگی کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے تو جبلِ طور پر تجلی دیکھی تھی لیکن عقلمندوں کی نگاہ میں تو سراپا تجلی ہے یعنی تیرا وجود سرتاپا قدرت خداوندی پر شاہد ہے۔

دوسرا بند

بظاہر تو پہاڑ ہے لیکن دراصل قدرت نے تجھے ہندوستان کا محافظ بنا دیا ہے۔ تو اس قدر اونچا ہے کہ اگر تجھے دیوان قرار دیا جائے تو یہ آسمان اس دیوان کا پہلا شعر ہے اور تجھے دیکھ کر ہر شخص کے دل میں تیری عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ تیری چوٹیوں پر ہمیشہ برف جمی رہتی ہے اور یہ برف ایسی معلوم ہوتی ہے گویا تیرے سر پر فضیلت کی تاج باندھی ہوئی ہے اور یہ تاج اس قدر محترم ہے کہ آفتاب کو بھی شرماتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شاعر ہمارے دل پر کوہ ہمالیہ کی بلندی اور عظمت کا نقش جمانا چاہتا ہے۔

تیسرا بند

اے ہمالیہ! تیری چوٹیاں ستاروں سے باتیں کرتی ہیں یعنی بہت بلند ہیں۔ اگرچہ تو زمین پر قائم ہے لیکن وسعت کے لحاظ سے آسمان معلوم ہوتا ہے۔ تیری وادیوں میں جو ندیاں بہتی رہتی ہیں ان کا پانی نہایت شفاف ہے اور ہوا ان ندیوں کی سطح کو صاف کرتی رہتی ہے۔

چوتھا بند

بادل گویا ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں اور بجلیاں گویا بادل کے ہاتھوں میں تازیانے ہیں تاکہ وہ ہوا کو زیادہ تیز چلا سکیں۔ قدرت نے تجھے عناصر اربعہ کے لئے بمنزلۂ بازی گاہ (کھیل کا میدان) بنایا ہے۔ تیرے دامن میں بادل اس قدر تیزی کے ساتھ ہوا میں اڑتے ہیں جیسے فیل بے زنجیر۔

پانچواں بند

تیرے دامن میں صدہا اقسام کے پھول کھلے ہوئے ہیں جو ہوا کے جھونکوں سے ہلتے رہتے ہیں۔ ہر پھول اپنی اپنی پتی کی زبان سے یہ کہتا ہے کہ ہم تک کسی گلچیں کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا اور قدرت نے ہمارا گھر ایسے بلند مقام پر بنایا ہے کہ وہاں کسی کا گزر بھی نہیں ہوسکتا۔

چھٹا بند

اب ان اشعار میں شاعر منظر کشی کا کمال کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ پہاڑ کی بلندی سے جو ندی گاتی ہوئی آرہی ہے اس کا پانی اس قدر شفاف اور خوشگوار ہے کہ جنت کی نہروں کے پانی سے مشابہ ہے اور اس میں اردگرد کی چیزوں کا عکس بھی نظر آتا ہے۔ کبھی بڑے پتھروں سے بچ کر نکل جاتی ہے اور کبھی ان سے ٹکرا جاتی ہے۔
کیونکہ پہاڑی ندیوں کے بہنے سے بہت خوش آئند آوازیں پیدا ہوتی ہیں اس لئے شاعر نے ندی کو ایک گویّا ماہر موسیقی فرض کرکے اس سے خطاب کیا ہے کہ اے ندی! تیری طرح میرا دل بھی نغموں سے لبریز ہے میں تیرا ہمدم اور ہمراز ہوں اس لئے تو میرے دل کے ساز کو بھی چھیڑتی جا جس میں نہایت دلکش موسیقی پوشیدہ ہے۔
یہ بہت خوبصورت مصرعہ ہے۔ شاعر نے پہلے تو اپنے دل کو ساز سے تشبیہ دی ہے۔ پھراس ساز کو "عراق دلنشیں” قرار دیا ہے۔
"دل سمجھتا ہے تری آواز کو”اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو وہ جو اوپر بیان کیے گئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اقبال کے یہاں ندی زندگی کی علامت ہے یعنی وہ زندگی کو ندی یا جوئے آب سے تشبیہ دیا کرتے ہیں چنانچہ ایک دوسری نظم (فلسفہ غم) میں وہ لکھتے ہیں۔

ایک اصلیت میں ہے نہر روانِ زندگی
گر کے رفعت سے ہجومِ نوع انسان ہوگئی

اس معنی کو مدنظر رکھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اے ندی! میرا دل تیری حقیقت سے آگاہ ہے کیونکہ جس طرح تو مسلسل رواں ہے انسانی زندگی بھی اسی نہج پر بسر ہو رہی ہے۔ یعنی یہی حال حیات انسانی کا ہے۔

ساتواں بند

جب شام ہو جاتی ہے تو آبشاروں کی صدا بہت دلکش معلوم ہوتی ہے۔ پہاڑوں میں شام کی خاموشی، گفتگو سے بھی زیادہ دل پذیر ہوتی ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا درخت کھڑے کچھ سوچ رہے ہیں اور رنگِ شفق ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کسی نے پہاڑ کے رخسار پر پوڈر لگا دیا ہو۔

آخری بند

اس کے بعد جب شاعر ہمالیہ کی قدامت پر غور کرتا ہے تو قدرتی طور پر اس کا ذہن قدیم زمانے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور وہ اس زمانہ کا تصور کرتا ہے جب انسان فیشن اور بناوٹ سے بالکل ناواقف تھا۔

Advertisements