Advertisement

مشہور شاعر اور ڈرامہ نگار آغا حشر کاشمیری 1879 کو بنارس(ہندوستان) میں پیداہوئے- بچپن میں آغا محمد شاہ کے نام سے جانے جاتے تھے- بعد میں آغا حشر کاشمیری بن گئے- حشر ان کا تخلص اور قومیت کے لحاظ سے کشمیری تھے سو کاشمیری کا اضافہ کیا- والد آغا غنی شاہ کی مداخلت اور تعلیمی کتب میں دلچسپی نہ رکھنے کے باعث انگریزی تعلیم حاصل نہ کرسکے- دینیات کی تعلیم حاصل کرتے رہے-

Advertisement

عربی اور فارسی پر عبور حاصل تھا- سولہ پارے حفظ بھی کرچکے تھے- بچپن سے ہی ان کی شخصیت شاعرانہ تھی- اور یوں بہت جلد شاعری سے منسلک ہوئے- نظم اور غزل دونوں میں طبع آزمائی کی اور خوب پزیرائی ملی-

Advertisement
جانتا تھا بے وفا کھا رہا ہے جھوٹی قسم
سادگی تو دیکھو پھر بھی اعتبار آہی گیا
جی میں تھا اےحشر اس سےاب نہ بولیں گےکبھی 
بے وفا جب سامنے آیا تو پیار آہی گیا

ان کی سحر کن شاعری کئی فنکار گا بھی چکے ہیں- جن میں ان کی بیوی اور بہنوئی بھی شامل تھیں-

Advertisement

اسٹیج ڈراموں میں دلچسپی کی وجہ سے اٹھارہ سال کی عمر میں ممبئی جاکر باقاعدہ کام شروع کیا- ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بچپن میں بھی بچوں کے ساتھ ڈرامے کھیلا کرتے تھے۔ ممبئی میں ایک کمپنی کے ساتھ ماہانہ 53 روپے کے غوض ملازمت اختیار کرلی- 

آغا حشر کشمیری نے پہلا ڈرامہ " آفتاب محبت” تحریر کیا لیکن اسٹیج نہ ہوسکا- بعد میں بنارس کے جواہر اکسیرا کے مالک عبدالکریم خان عرف بسم اللہ خان نے 60 روپے میں خرید کر چھاپ دیا- یہاں سے ان کی ترقی کا دور شروع ہوتا ہے-شروع میں ان کی ڈراموں کا معیار زیادہ بہتر نہ تھا- کیوں کہ اس وقت پست معیار کے ڈرامے زیادہ پسند کئے جاتے تھے- لیکن بعد میں ان کا معیار آسماں کی رفعتوں کو چھونے لگا- اور پھر اس فن میں ان کا کوئی ثانی پیدا نہ ہوا- اسی وجہ سے وہ ہندوستان کے شکسپئیر کہلائے جانے لگے-

1924 میں انہوں نے تھیٹریکل کمپنی کی بنیاد رکھی- جہاں سے انہوں نے کئی ڈرامے چلائے- ان ڈراموں کے لئے نظمیں بھی تحریر کیں-1934 میں انہوں نے ایک فلم کمپنی بھی بنائی-

Advertisement

آغا صاحب اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ڈرامے لکھا کرتے تھے- ان کے زیادہ تر ڈرامے شکسپئیر سمیت دیگر انگریزی ڈرامہ نگاروں کے ڈراموں سے اخذ تھے- اردو اور ہندی کے علاوہ فارسی کے تھیٹرز پر بھی ان کے ڈرامے کھیلے گئے- آغا صاحب نے تیس سے زیادہ ڈرامے لکھے تھے- ” آنکھ کا نشہ” کے نام سے ان کا ایک ڈرامہ جب اسٹیج پر چلایا گیا تو لوگوں کے دلوں پر اس کا گہرا اثر ہوا- اور کافی لوگوں نے شراب نوشی سے توبہ کرلی-

ان کے مشہور ڈراموں میں "شیریں فرہاد’‘ ’’عورت کا پیار ‘’ ’’یہودی کی لڑکی‘‘  ’’قسمت کا شکار’‘  ’’چنڈی داس’‘ ’’دل کی آگ’‘ ’’شہیدِ فرض’‘ ’’بلوا منگل ‘‘ ’’لوکش’‘  ’’رستم وسہراب’‘ او ر  ’’بھیشم پتاما’‘ "آنکھ کا نشہ” اسیرِحرص’‘ ’’مریدِ شک’‘ ’’صیدِ ہوس’‘  ، ’’شہیدِ ناز’‘  ’’سفید خون’‘ ’’خوابِ ہستی” شامل ہیں- 

آغا صاحب 28 اپریل 1935 کو لاہور میں انتقال کرگئے- اور یوں اردو ادب میں ڈراموں کا ایک بے مثال دور اختتام کو پہنچا-

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement