ڈاکٹر سید عبداللہ کی حیات اور ادبی خدمات

0

ڈاکٹر سید عبد اللہ ضلع ہزارہ کے گاؤں منگلور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ قرآن مجید کے ساتھ اردو کی درسی کتب، حساب، خوش خطی، ابتدائی فارسی اور خطوط نویسی کی تعلیم گھر پر پائی۔ پھر مقامی سکول میں داخلہ لے کر مڈل پاس کیا۔ ۱۹۲۳ء میں میٹرک کا امتحان انھوں نے اسلامیہ ہائی سکول لاہور سے پاس کیا۔ ۱۹۲۳ء میں ایف اے اور ۱۹۲۶ء میں بی اے کرنے کے بعد ۱۹۲۷ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے ایم اے فارسی کیا۔

یہاں انھوں نے پروفیسر حافظ محمود شیرانی، قاضی فضل حق اور پروفیسر اسمعیل جیسے اساتذہ سے فیض پایا۔ ۱۹۳۲ء میں ایم اے عربی کا امتحان بھی امتیاز سے پاس کیا۔ ۱۹۳۲ء میں ہی جرمن سرٹیفکیٹ اور ۱۹۳۳ء میں لائبریری سرٹیفکیٹ کے امتحان پاس کیے۔ سید عبد اللہ پنجاب یونیورسٹی میں عریبک اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۲ء میں اسی شعبے میں پروفیسر اور پھر صدر شعبہ مقرر ہوئے۔ انھیں اردو سے بے پناہ لگاؤ تھا اور وہ دن رات، بلکہ آخری سانس تک اردو کے نفاذ کے لیے کوشاں رہے۔ وہ شعبۂ اردو دائرہ معارف اسلامیہ میں اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے کہ ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ کئی ماہ اس مرض میں مبتلا رہنے کے بعد آخر یہ نامور استاد، ادیب، صحافی، عالم اور محسن اردو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

تصانیف:

نقد میر، سرسید اور ان کے رفقاء، وجہی سے عبدالحق تک، مباحث اور اشارات تنقید وغیرہ۔