مولوی ذکاء اللہ

0

مولوی ذکاء اللہ دلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ثناء اللہ تھا۔ تعلیم سے فارغ ہو کر کالج میں معلم ریاضی مقرر ہو گئے۔ پھر آگرہ کالج میں سات سال تک اردو اور فارسی کے معلم رہے۔ ۱۸۵۵ء میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس ہو گئے۔ گیارہ سال یہ فرائض انجام دے کر ۱۸۶۶ء میں نارمل اسکول دلی کے ہیڈ ماسٹر ہوئے۔ ۱۸۸۵ء میں پنشن حاصل کی۔ پھر عمر کے باقی ۲۴ سال خانہ نشین رہ کر تصنیف وتالیف میں گزار دیے۔

ان کی وفات کے بعد ڈپٹی نذیر احمد کا ایک مضمون ، ان کے متعلق ، رسالہ تمدن دہلی ( بابت اگست 1911ء) میں شائع ہوا تھا۔ اس میں مولوی ذکا اللہ کے بعض خاص حالات لکھے گئے ہیں۔ اس مضمون کا ایک اقتباس درج کیا جاتا ہے۔

بعض مسلمان یہ بھی پوچھ بیٹھے ہیں کہ مسلم یونیورٹی کس قسم کے عالم پیدا کرے گی جو پانچ یونیورسٹیاں آج تک پیدا نہ کر سکیں۔ آج کو مولوی ذکاء اللہ زندہ ہوتے ، تو میں انھیں کو پیش کر دیتا کہ مسلم یونیورسٹی درجہ تکمیل کو پہنچ کر، ان جیسے عالم پیدا کرے گی: کریم النفس، وسیع الاخلاق، منکسر المزاج ، روشن دماغ ، متنوع المعلومات، کثیر التصانیف ، خیر خواه عامہ خلق، فیاض طبع — راسخ الاعتقاد صلح کل، مرنجاں مرنج۔
تصانیف: تاریخ ہندوستان، کرزن نامه، آئین قیصری، فرهنگ فرنگ وغیره