غزل

ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
میں وہ فتا دا ہوں کہ بغیر از فنا مجھے
نقش قدم کی طرح نہ کوئی اٹھا سکے
قاصد! نہیں یہ کام ترا، اپنی راہ لے
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
غافل! خُدا کی یاد پہ مت بھول زنہار
اپنے تئیں بُھلا دے اگر تو بُھلا سکے
یا رب! یہ کیا طلسم ہے؟ ادر اک وفہم یاں
دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے
اطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سے
یہ آگ وہ نہیں، جسے پانی بُجھا سکے
مست شراب عشق وہ بے خود ہے جس کو حشر
اے دردؔ ! چاہے لائے بخود، پر نہ لاسکے

تشریح

پہلا شعر

ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

شاعر کہتا ہے کہ اے خُدا یہ زمین و آسمان تیری وسعت کو نہیں پا سکتے۔ تیری وسعت کو پانا ان کے بس میں نہیں ہے۔ یہ صرف میرا دل ہے کہ جہاں تو سما سکتا ہے،جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے۔ شاعر نے زمین و آسمان کی کشادگی کو دل کے مقابلے میں ہیچ قرار دیا ہے۔

دوسرا شعر

میں وہ فتا دا ہوں کہ بغیر از فنا مجھے
نقش قدم کی طرح نہ کوئی اٹھا سکے

شاعر کہتا ہے کہ میں وہ گِرا پڑا انسان ہوں کہ مجھے کوئی اٹھا نہیں سکتا۔ جس طرح قدم کے نشان کو مٹائے بغیر اٹھایا نہیں جا سکتا، اسی طرح مجھے بھی موت کے بغیر کوئی اٹھا نہیں سکتا۔

تیسرا شعر

قاصد! نہیں یہ کام ترا، اپنی راہ لے
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

اے قاصد،اے نامہ بر یہ ٹھیک ہے کہ تو نامہ لے جاتا ہے لیکن مجھے اس کا پیام درکار ہے وہ تیرے بس کا نہیں، لہٰذا تو چلا جا۔یہ محبوب حقیقی کا پیام لانا تیرا کام نہیں ہے۔ اس کا پیام دل کے سوا کوئی دوسرا لا ہی نہیں سکتا۔

چوتھا شعر

غافل! خُدا کی یاد پہ مت بھول زنہار
اپنے تئیں بُھلا دے اگر تو بُھلا سکے

اے غفلت شُعار انسان خُدا کی یاد کو اپنے دل میں ہمیشہ رکھ۔اس کو کبھی مت بھلا۔ اگر بھلا سکتا ہے تو اس کی یاد میں خود کو بھلا دے۔

ساتواں شعر

مست شراب عشق وہ بے خود ہے جس کو حشر
اے دردؔ ! چاہے لائے بخود، پر نہ لاسکے

حشر گویا قیامت۔ اس دن قیامت کا شور ہوگا۔ اب شاعر کہتا ہے کہ اے دردؔ عشق کے شراب میں جو مست ہو گیا، جو بے خود ہو گیا، اس کو ہوش میں لانا ممکن نہیں ہے۔ قیامت کا شور بھی اس کو ہوش میں نہیں لا سکتا۔

Advertisements