تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں۔

شاد اس مطالعے میں فرماتے ہیں کہ اس دنیا کا دستور بھی کیا ہے!میں یہاں خواہشات میں الجھا کر ی رہ گیاہوں۔جس طرح بچے کو کھلونے دیکھا مخص اس کا دل بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے اسی طرح اس دنیا میں انسان کا دل خواہشات اور آرزوں سے بہلایا جاتا ہے کیوں کہ یہاں سبھی خواہشات تو پوری ہو نہیں سکتیں۔بس خواہشات رات پوری ہونے کے دھوکے میں انسان کی زندگی گزر جاتی ہے۔انسان یہی سوچتا ہے کہ آج نہیں تو کل میری مراد پوری ہوگی لیکن اس فریب میں غیر محسوس طریقے سے پوری زندگی بیت جاتی ہے۔آخر میں احساس ہوتا ہے کہ خواہشات تو اپنی جگہ موجود ہیں اور زندگی ختم ہونے والی ہے۔اس لئے شاعر نے حادثات کو کھلونوں سے تشبیہ دی ہے۔اس سے کھیلتے کھیلتے زندگی ختم ہو جاتی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہو پاتے۔ بقول غالب؀
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے۔

ہیں اس کوچہ کہ ہرذرہ سے آگاہ
ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں۔

شاعر فرماتے ہیں کہ محبوب کی گلی کے ذرا ذرا سے واقف ہوں کیونکہ اس گلی سے لمبے عرصے سے گزرتا رہا ہوں۔گویا شاعر عشق کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہے اور کافی تجربے رکھتا ہے۔

دل مضطرب سے پوچھ اے رونق بزم
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہے ۔

شاعر رونق بزم سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ اے دنیا کی محفل کی رونق تو میرے بے چین دل سے پوچھ کے میں اس دنیا میں خود اپنی مرضی سے نہیں آیا بلکہ مجھے یہاں لایا گیا ہے۔ دنیا سے اکتاہٹ کا اظہار کیا گیا ہے مجھے دنیا میں رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔

کجا میں اور کجا اے شاد دنیا
کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں۔

شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ مجھے یہ دنیا راس نہیں ہے کہاں میری طبیعت اور کہا دنیا کا چلن۔ افسوس کہ انسان دنیا میں آنے سے پہلے کس آرام سے تھا لیکن اس دنیا جیسی ہر جگہ پر آنا پڑا اور میرے لیے تو یہ جگہ کسی بھی طرح موافق نہیں ہے۔

نہ تھا میں معتقد اعجازِ مے کا
بڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں۔

فرماتے ہیں کہ میں شراب کے معجزے اور کرشمے پر اعتقاد نہیں رکھتا تھا کہ شراب میں کوئی خاص تاثیر ہے۔ لیکن مجھے شراب نوشی کے لیے بہت مشکل سے تیار کیا گیا ہے. ورنہ مجھے شراب کے کسی معجز ے پر کوئی اعتقاد نہیں تھا۔