غزل

دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا
ساغر کو رنگِ بادہ نے پُر نور کر دیا
مانوس ہو چلا تھا تسلّی سے حالِ دل
پھر تو نے یاد آ کے، بہ دستور کردیا
بے تابیوں سے چھپ نہ سکا ماجرائے دل
آخر حضور یار بھی مذکور کر دیا
اہل نظر کو بھی نظر آیا نہ روئے یار
یاں تک حباب یار نے مستور کر دیا
حسرتؔ! بہت ہے مرتبۂ عاشقی بُلند
تجھ کو تو مفت لوگوں نے مشہور کر دیا

تشریح

دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا
ساغر کو رنگِ بادہ نے پُر نور کر دیا

محبوب کا وصل یا دیدار ہونا تو خیر بڑی چیز ہے، اس کا خیال بھی عاشق کے دل کو تسکین بخشتا ہے۔غزل کے مطلع میں شاعر نے کچھ ایسا ہی خیال پیش کیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ میرے دل کو محبوب کے خیال نے مخمور کر دیا۔اس میں مستی کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔جس طرح پیالے کو شراب کا رنگ پُر نور بنا دیتا ہے اسی طرح محبوب کا خیال دل کو نور اور مستی کی کیفیت عطا کر دیتا ہے۔

مانوس ہو چلا تھا تسلّی سے حالِ دل
پھر تو نے یاد آ کے، بہ دستور کردیا

شاعر محبوب سے مخاطب ہے۔ کہتا ہے کہ تمھاری جُدائی سے دل کی بے قراری کی انتہا ہوگئی تھی۔ میں اس کو تسلیاں دیے جا رہا تھا، اس کا کچھ کچھ اثر بھی ہونے لگا تھا۔وہ ان تسلیوں سے مانوس ہونے لگا تھا۔انھیں پسند کرنے لگا تھا۔لیکن اے میرے محبوب تو پھر اسے یاد آگیا اور اس کی حالت پہلے جیسی ہی خراب ہوگئی۔

بے تابیوں سے چھپ نہ سکا ماجرائے دل
آخر حضور یار بھی مذکور کر دیا

عاشقی کی پہلی شرط ضبط ہے۔لیکن شاعر کہتا ہے کہ ہمارے دل کی بے قراری اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ ضبط کا کام تمام ہو گیا ہے۔ان بے قراریوں نے دل کی بات کو دل میں نہیں رہنے دیا۔اور دوسروں کی بات تو خیر کیا ہے انھوں نے آخر محبوب کے سامنے بھی دل کی حالت بیان کرکے ہمیں ہلکا کر دیا۔

اہل نظر کو بھی نظر آیا نہ روئے یار
یاں تک حباب یار نے مستور کر دیا

شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ صاحب نظر ہیں یعنی عشاق کو بھی میرے محبوب کا چہرہ نظر نہیں آیا۔میرے یار کے پردے نے ان کو ایسا مست کر دیا کہ وہ اس کے آگے دیکھ ہی نہیں پائے۔

حسرتؔ! بہت ہے مرتبۂ عاشقی بُلند
تجھ کو تو مفت لوگوں نے مشہور کر دیا

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ اے حسرت عاشقی کا مرتبہ بہت بُلند ہے۔اس مرتبے کو پہنچنا بہت شور ہے۔تجھے تو لوگوں نے ویسے ہی مشہور کر دیا ہے۔ورنہ تو اس مرتبے کو کہاں پہنچتا ہے۔

Advertisements