غزل

نِگا ہِ ناز جسے آشنائے راز کرے
وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے
دِلوں کو فکرِ دو عالم سے کردیا آزاد
ترے جنوں کا خدا سِلسِلہ دراز کرے
خِرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خِرد
جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے
ترے ستم سے میں خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی
مجھے تو شامل ارباب امتیاز کرے
غم جہاں سے جسے ہو فراغ کی خواہش
وہ ان کے درد محبت سے ساز باز کرے
امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہ
تری نِگاہ کو اﷲ دل نواز کرے
ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔ
اب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے

تشریح

نِگا ہِ ناز جسے آشنائے راز کرے
وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے

غزل کے مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی ناز بھری نِگاہیں جسے محبت کے راز سے آشنا کریں،واقف کریں اسے اپنی قسمت کی یاوری پر ناز کرنا بجا ہے۔دراصل محبوب کبھی عاشق کو دل کی بات سے آگاہ نہیں کرتا اور ہمیشہ اسے تغافل برتتا ہے۔اب اگر وہ محبوب اُسے محبت کے رازوں سے آگاہ کرتا ہے تو عاشق کی قسمت بُلند ہوئی۔

دِلوں کو فکرِ دو عالم سے کردیا آزاد
ترے جنوں کا خدا سِلسِلہ دراز کرے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تیرے عشق میں ہم پر دیوانگی کی کیفیت طاری ہوگئی اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم دنیاوی باتوں سے بالکل بے فکر ہو گئے۔نہ ہمیں اس دنیا کی فکر رہی اور نہ دوسری دنیا کی۔گویا دونوں جہانوں سے ہم سرخرو ہوگئے۔لہذا وہ دعا کرتا ہے کہ تیرے جنوں کے سلسلے کو خدا اور بڑھائے ،دراز کرے تاکہ ہم دین و دنیا کی فکر سے آزاد رہیں۔

خِرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خِرد
جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

شاعر محبوب سے مخاطب ہے۔ کہتا ہے کہ آپ کا حُسن کرشمے کرنے والا ہے۔جو چاہے کر سکتا ہے۔یہ بھی اس کا کرشمہ ہے،کھیل ہے کہ یہاں ادراک کا نام دیوانگی اور دیوانگی کا نام سمجھ پڑھ گیا ہے۔گویا عاشق دیوانہ نہیں فرزانہ ہے اور اسے دیوانہ کہنے والا خود دیوانہ ہے۔
پروفیسر عابد پیشاوری کہتے ہیں؀

وہ معراجِ محبت کے لئے خود کو بُھلا بیٹھا
یہ دیوانے ہیں جو مجنوں کو دیوانہ سمجھتے ہیں
ترے ستم سے میں خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی
مجھے تو شامل ارباب امتیاز کرے

شاعر محبوب سے مخاطب ہے کہ اے محبوب میں تیرے ظلم و ستم پر خفا نہیں ہوں بلکہ بہت خوش ہوں اور اس کا سبب یہ بتایا ہے کہ چلیے اسی بہانے تم نے ہمیں ان لوگوں میں تو شامل کیا جن کے ساتھ امتیاز کیا جاتا ہے۔ دراصل محبوب کی بے تعلقی عاشق کے لیے ناگوارا ہوتی ہے۔تعلق کس قسم کا ہو، چاہے دوستی کی صورت میں ہو یا دشمنی کی صورت میں،عاشق کے لیے گوارا ہوتا ہے۔
غالب نے ایک جگہ کہا ہے؀

قطع کیجئے نہ تعلق ہم سے
گرنہیں کچھ تو عداوت ہی سہی
غم جہاں سے جسے ہو فراغ کی خواہش
وہ ان کے درد محبت سے ساز باز کرے

شاعر کہتا ہے کہ جس کسی کو دنیا کے دُکھوں اور غموں سے نجات حاصل کرنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ وہ عشق و محبت کی دنیا میں قدم رکھے۔محبوب کے درد محبت سے تعلق پیدا کرے۔کیوں کہ محبت کا درد ایسا درد ہے جو دنیا کے تمام دوسرے غموں سے نجات کا باعث ہوتا ہے کہ محبت کے غم کے بعد دنیا کے تمام غم کوئی معنی نہیں رکھتے۔

امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہ
تری نِگاہ کو اﷲ دل نواز کرے

شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے دیدار کی ایک جھلک پانے کے لیے ہر طرف عاشقوں کے گروہ کے گروہ کھڑے ہیں۔لیکن محبوب کی ایک جھلک ان کو نصیب نہیں ہوتی۔وہ مزید کہتا ہے کہ تمھاری نظر کو خدا دل نواز کرے۔عاشقوں کو تسلی دینے والی کرے۔کہ تو انھیں ایک نظر دیکھے اور ان کے دل کو سکوں ملے۔

ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔ
اب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب حسرتؔ تیرے کرم،تیری مہربانی کے لائق نہیں ہے۔وہ اس لائق نہیں کہ تو اس پر کرم کرے۔اب اگر تو اس پر کرم کرتا ہے،اسے یہ عزت بخشتا ہے تو تیری خوشی۔ورنہ تیرے کرم کا وہ حقدار نہیں ہے۔

Advertisements