غزل

حسن بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا
کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا
بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بے تابیاں
ہم تو سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا
پڑھ کے تیرا خط، میرے دل کی عجب حالت ہوئی
اِضطرابِ شوق نے اک حشر برپا کر دیا
ہم رہے یاں تک تری خدمت میں سرگرم نیاز
تجھ کو آخر آشنائے نازِ بے جا کر دیا
اب نہیں دل کو کسی صورت، کسی پہلو قرار
اس نِگاہ ناز نے کیا سحر ایسا کر دیا
عشق سے تیرے بڑھے کیا کیا دلوں کے مرتبے
مہر زرّوں کو کیا،قطروں کو دریا کردیا
تیری محفل سے اُٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اِشارہ کر دیا
سب غلط کہتے تھے لطفِ یار کو وجہِ سکوں
دردِ دِل اس نے تو حسرتؔ اور دُونا کر دیا

تشریح

حسن بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا
کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا

غزل کے مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب اپنے حسن سے بے خبر و بے پروا تھا۔اس لیے وہ اپنے بننے سنورنے پر بھی دھیان نہیں دیتا تھا۔لیکن میں نے اپنی آرزو اپنی تمنا کا اِظہار اس سے جب سے کیا یعنی میں نے جب اس سے کہا کہ میں تمھارا عاشق ہوں تو وہ مغرور ہو گیا۔وہ اپنے حسن سے بہ خبر ہو گیا اور زیادہ دھیان بننے سنورنے پر دینے لگا۔اب شاعر کہتا ہے کہ یہ غلطی میں نے کیوں کر کی۔کیوں اس سے اپنی تمنا کا اظہار کیا اور اس میں ادائے محبوبانہ پیدا کر دی۔

بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بے تابیاں
ہم تو سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا

اس شعر میں شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے محبوب تم سے ملنے کے بعد ہم سمجھتے تھے کہ ہماری بے قراری دور ہو جائے گی۔ مگر ہوا اس کے برعکس، تم سے ملنے کے بعد ہماری بے قراریاں مزید بڑھ گئیں۔ یہ خیال ہمارا غلط تھا کہ تم سے مل کر دل کو قرار مل جائے گا۔

پڑھ کے تیرا خط، میرے دل کی عجب حالت ہوئی
اِضطرابِ شوق نے اک حشر برپا کر دیا

محبوب عاشق سے بے پروا ہوتا ہے۔ وہ کبھی اس پر کرم نہیں کرتا۔ مگر اس شعر میں اس صورت کے برعکس محبوب نے اپنے عاشق کو خط لکھا ہے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تمھارا خط پڑھ کر میرے دل کی جو حالت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ بس یوں سمجھیے کہ شوق کی بے قراری نے میرے دل میں حشر کی برپا کر دیا۔گویا تمھیں پانے کی خواہش نے بے قراری کی اِنتہا کردی۔

اب نہیں دل کو کسی صورت، کسی پہلو قرار
اس نِگاہ ناز نے کیا سحر ایسا کر دیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ نہ جانے محبوب کی ناز بھری نِگاہ نے ایسا کون سا جادو کر دیا ہے کہ ہمارے دل کی حالت دگرگوں ہوگئی ہے۔ اب دل کو کسی بھی صورت، کسی بھی پہلو چین نہیں ہے۔

عشق سے تیرے بڑھے کیا کیا دلوں کے مرتبے
مہر زرّوں کو کیا،قطروں کو دریا کردیا

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تیرے عشق کے سبب سے اس کے مرتبے بلند ہو گئے ہیں کہ جو زرّہ تھے وہ مرتبے میں چمکتے سورج کی برابری کرنے لگے ہیں اور جو محض قطرے تھے یعنی جن کی حیثیت کچھ نہیں تھی وہ سمندر کی طرح وسعت پذیر ہوگئے ہیں۔جس میں بھی جنوں کی حد تک منزل کو پانے کی دُھن ہوتی ہے وہ بلآخر شاد و کامراں ہوتے ہیں۔

تیری محفل سے اُٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اِشارہ کر دیا

شاعر محبوب کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے محبوب رقیب کی یہ مجال تھی کہ وہ مجھے تیری محفل سے اُٹھا باہر نکال دیتا۔اس میں یہ ہمت کہاں تھی۔ہم تو خود تیری محفل چھوڑ کر چلے آئے۔کیونکہ ہم نے دیکھا کہ تم بھی ہماری موجودگی نہیں چاہتے ہو۔تم نے بھی آنکھ کے اشارے سے نکل جانے کو کہہ دیا اور ہم چلے گئے ورنہ رقیب میں یہ حوصلہ کہاں تھا۔

سب غلط کہتے تھے لطفِ یار کو وجہِ سکوں
دردِ دِل اس نے تو حسرتؔ اور دُونا کر دیا

غزل کے آخری شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ جو سب کہتے ہیں کہ اگر محبوب لطف و کرم کا شیوہ اختیار کرلے تو عشق کے دل کو سکون ملے گا، یہ غلط ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔بلکہ صورت اس کے برعکس ہوتی ہے۔کیوں کہ اے حسرتؔ محبوب کے لطف و کرم نے ہمارے درد دل کو پہلے سے بڑھا دیا ہے۔بلکہ دوگنا کر دیا ہے۔

Advertisements