Advertisement

تعارف

محمد حسن کا آبائی شہر مراد آباد (اتر پردیش) ہے۔ آپ یکم جولائی ۱۹۲۶ء میں پیدا ہوئے۔ محمد حسن کا شجرہ نسب حضرت محمد کے پھوپھی زاد بھائی اور عشرہ مبشرہ کے صحابی سیدنا زبیر سے ملتا ہے۔ چونکہ دس سال تک آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے اس لیے خوب دیکھ بھال کی گئی اور سائیکل جیسی سواری بھی آپ کی پہنچ سے دور رہی۔ ۱۹۵۷ء میں آپ کی شادی ہوئی۔  محمد حسن کے دو صاحب زادے اور ایک صاحبزادی تھیں۔ آپ کی دو بڑی بہنیں اور ایک چھوٹے بھائی تھے۔ آپ کو مچھلی بہت زیادہ پسند تھی۔ آم بھی مرغوب تھے۔

Advertisement

تعلیم

آپ نے قرآن کریم گھر پر پڑھا اور ابتدائی تعلیم مدرسے سے حاصل کی۔ آپ نے قواعد کی تعلیم ختم کرنے کے بعد مراد آباد کے مشن ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ ۱۹۳۹ء میں آپ نے ہائی اسکول کا امتحان سیکنڈ ڈیوزڏن سے پاس کیا۔  ۱۹۴۲ء میں پرائیوٹ  طور سے انٹر میڈیٹ کا امتحان سیکنڈ ڈیوزن سے پاس کیا۔ آپ علی گڑھ جانا چاہتے تھے اور والد مراد آباد میں پڑھانا چاہتے تھے، نتیجتاً آپ نے پرائیویٹ پڑھا۔ ۱۹۵۲ء میں آپ نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 

Advertisement

اخلاق

جن لوگوں کو ڈاکٹر صاحب کے آگے  زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا اتفاق ہوا ہے یا جو لوگ ان سے استفادہ حاصل کرتے رہے ہیں یا جن کو ان سے قربت کا شرف حاصل رہا ہے وہ لوگ جانتے ہیں کہ جلالت علم و دانش کے باوجود ڈاکٹر صاحب کے مزاج میں حد درجہ کی سادگی تھی۔  یہاں تک کہ پوشاک اور کھانے کے معاملے میں بھی خاص اہتمام نہیں کرتے تھے۔ معزز خاندان سے تعلق ہونے کے باوجود ایم اے پاس کرنے تک سوٹ نہیں پہنا۔ 

Advertisement

ادبی سرگرمیاں

محمد حسن کی ادبی سرگرمیوں کا زمانہ اس اعتبار سے بھی بہت دلچسپ تھا کہ ان پر جن لوگوں کے اثرات پڑے وہ سب اس عہد کے ادبی مزاج کی ساخت میں حصہ لے رہے تھے۔ محمد حسن  ترقی پسند تحریک سے گہری وابستگی کے ساتھ ساتھ اس کے باہر بھی نئی جہتوں کی تلاش میں تھے۔ وہ نقاد اور معلم بھی تھے، ان کے یہاں ایک تخلیق کار کی جرات مندی بھی تھی۔ جو ان کے مضامین کے علاوہ ان کے ڈراموں ، نظموں سے بھی ظاہر ہے۔ درس و تدریس کی بنا پر کئی یونی ورسٹیوں سے آپ کا براہ راست تعلق تھا۔ وہ جن خطوط پر طالب علموں کی ذہن سازی کرنا چاہتے تھے ، ان میں ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ ، تہذیب و سماجیات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد حسن کا غالب انسٹی ٹیوٹ سے بہت گہرا تعلق رہا ہے۔ وہ مختلف حیثیتوں سے ان کے علمی و ادبی کاموں میں شریک ہوتے رہے تھے۔ فنونِ  لطیفہ سے خاصا شغف تھا۔ 

ادبیات شناسی

”ادبیات شناسی“ یوں تو اساتذہ کے لیے لکھی گئی ہے لیکن اس کے مطالعے میں طالب علموں نے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ  اردو کی شعری و نثری اصناف کے اجزائے ترکیبی اور اس کے ارتقا پر محمد حسن کی منطقی گفتگو ہے۔ محمد حسن کے شاگردوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ ظاہر ہے کسی شخص نے ۱۹۵۰ء سے ۱۹۸۶ء تک لکھنؤ ، علی گڑھ مسلم ، دہلی ، کشمیر اور جواہر لال یونی ورسٹی میں بحثیت معلم کام کیا ہو تو اس کے شاگردوں کی تعداد کا شمار کرنا مشکل امر ہوگا۔

Advertisement

تصانیف

محمد حسن کی تصنیفات متنوع حیثیت کی حامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہمیت ڈراموں اور تنقید کو حاصل ہے۔ حسن صاحب کی چند تصنیفات و تالیفات کی فہرست مندرجہ ذیل درج ہے۔

  • ۱) ادبی تنقید
  • ۲) جلال لکھنؤی
  • ۳) اردو ادب میں رومانوی تحریک
  • ۴) ہندی ادب کی تاریخ
  • ۵) شعر نو
  • ۶) دہلی میں اردو شاعری کا تہذیبی اور فکری پسِ منظر
  • ۷) مطالعہ سودا
  • ۸) اقبال (ہندی)
  • ۹) نظیر اکبر آبادی (انگریزی)
  • ۱۰) جدید اردو ادب
  • ۱۱) عرض ہنر
  • ۱۲) شناسا چہرے
  • ۱۳) معاصر ادب کے پیش رو
  • ۱۴) ادبی سماجیات
  • ۱۵) پیسہ اور پرچھائیں
  • ۱۶) میرے اسٹیج ڈرامے
  • ۱۷) کہرے کا چاند
  • ۱۸) مور پنکھی
  • ۱۹) تماشا اور تماشائی
  • ۲۰) ضحاک
  • ۲۱) نئے ڈرامے
  • ۲۲) دیوان آبرو
  • ۲۳) مرزا رسوا کے تنقیدی مراسلات
  • ۲۴) کلیات سودا
  • ۲۵) تذکروں کا تذکرہ
  • ۲۶) انتخاب میر
  • ۲۷) انتخاب سراج
  • ۲۸) امراو جان ادا
  • ۲۹) انارکلی
  • ۳۰) گلمسسز آف فیض آباد
  • ۳۱) جوالا مکھی
  • ۳۲) گرونانک
  • ۳۳) ہندی کے یک بابی ڈرامے
  • ۳۴) مارکسی تنقید
  • ۳۵) قدیم اردو ادب کی تنقیدی تاریخ
  • ۳۶) مشرق و مغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ
  • ۳۷) تدریس اردو

آخری ایام

پروفیسر محمد حسن 84 سال کی عمر میں 24 اپریل، 2010ء کو دہلی، بھارت میں انتقال کر گئے۔ ان کی تدفین دہلی گیٹ کے قبرستان میں ہوئی۔ آپ کے انتقال سے ایک جرات مند ادیب کی جگہ خالی ہوگئی۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement