Advertisement

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام حسرت موہانی ہے۔ یہ غزل کلیاتِ حسرت موہانی سے ماخوذ کی گئی ہے۔

تعارفِ شاعر :

حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام علی موسی کاظم سے ملتا ہے۔ آپ حق گو ، بے باک اور درویش مزاج انسان تھے۔ آپ جدید اندازِ غزل کے شاعر تھے۔ آپ کو رئیس المتغزلین بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے ایک رسالہ اردو معلی کے نام سے جاری کیا تھا۔ آپ کا کلام کلیاتِ حسرت کے نام سے موجود ہے۔ نکاتِ سخن آپ کی مشہور کتاب ہے۔

مصیبت بھی راحت فزا ہو گئی ہے
تری آرزو رہنما ہو گئی ہے

تشریح : حسرت موہانی اردو غزل کے ایسے شاعروں میں شامل ہیں جنھوں نے اردو غزل کی کشادہ دامانی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ انگریزوں کے خلاف سیاست میں حصہ لینے کی پاداش میں انھیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں لیکن دوران قید بھی شاعری کا شغل جاری رہا۔ اس شعر میں کہتے ہیں کہ مجھ پر آنے والی مصیبت میرے لیے مصیبت نہیں رہی بلکہ میں تو اس مصیبت سے بھی خوشیوں کا رس کشید کر لیتا ہوں۔ کوئی کام مسلسل کیا جاۓ تو انسان اس کا عادی ہو جاتا ہے، پھر انسان کو اس کام میں لطف آنے لگتا ہے۔ اسی طرح حسرت موہانی کہتے ہیں کہ مجھ پر آنے والی مشکلات اب میرے لیے خوشیوں کی طرح ہیں کیوں کہ میں ان مشکلات کو خاطر میں نہیں لاتا ہوں۔ حسرت کہتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ مصیبت میری جان لے لے گی۔ میرے لیے تو اس میں بھی خوشی کا پہلو نمایاں ہے۔ اس طرح تو میری اللہ تعالی سے ملنے کی آرزو پوری ہو جاۓ گی یعنی میری قسمت ہر حال میں میرے لیے اچھی ہی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تیری تمنا میری راہبر ہو گئی ہے، مجھے راستے کا نشان مل گیا ہے۔ میں ہنسی خوشی اس راستے پر چلا جا رہا ہوں کیوں کہ اس راستے کا اختتام ایک اچھی منزل پر ہے۔ وہ منزل اللہ تعالی سے وصال کی منزل ہے۔

Advertisement
یہ وہ راستہ ہے دیار وفا کا
جہاں باد صرصر، صبا ہو گئی ہے

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر منزل اچھی اور مرضی کے مطابق ہو تو راستے کی دشواریوں کو خاطر میں نہیں لایا جاتا بلکہ یہ مصیبتیں تو محسوس ہی نہیں ہوتیں۔ دل میں لگن اور شوق ہو، منزل پر پہنچنے کی تمنا ہو تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ محبوب کے در تک جانے والا راستہ نہایت مختصر اور آسان محسوس ہوتا ہے۔ یہ حقیقی محبت پر مبنی شعر ہے۔ حسرت موہانی کہتے ہیں کہ میں اللہ تعالی سے ملنا چاہتا ہوں اور اللہ تعالی سے ملاقات کی ایک ہی صورت ہے کہ میری یہ فانی زندگی ختم ہو جاۓ۔ میری زندگی کے دن پورے ہو جائیں اور میں رب تعالی کا دیدار کروں۔ ایک نہ ایک دن میری زندگی کے دن پورے ہو جائیں گے۔ اگر چہ یہ دن تکلیفوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن یہ دنیاوی تکلیفیں چند روزہ ہیں۔ میرے ذہن میں ایک اونچی منزل کا تصور ہے۔ اس لیے یہ دنیا کی تکالیف مجھے ڈرا نہیں سکتیں بلکہ میں تو ان تکالیف سے لطف اٹھاتا ہوں۔ مجھے تیز آندھی بھی صبح کی ٹھنڈی ہوا جیسی معلوم ہوتی ہے یعنی دنیا کی مصیبتیں بھی میرے لیے خوشی کا باعث بنتی ہیں۔

میں درماندہ اس بارگاہ عطا کا
گنہ گار ہوں، اک خطا ہو گئی ہے

تشریح : شاعر نے اس شعر میں حضرت آدم کے جنت سے نکالے جانے والے واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو انھیں جنت میں بھیج دیا اور کہا ’’جو چیز چاہو یہاں سے کھاؤ پیو لیکن خبردار اس درخت کے قریب مت جانا‘‘ مراد یہ کہ اس درخت کا پھل نہ کھانا لیکن شیطان نے حضرت آدم کو ورغلا دیا اور دھوکے سے منع کیے گئے درخت کا پھل کھانے پر مجبور کیا۔ حضرت آدم نے اس درخت کا پھل کھا لیا اور اللہ تعالی کی حکم عدولی کی پاداش میں جنت سے نکلنا پڑا اور انھیں زمین پر بھیج دیا گیا۔ شاعر کہتے ہیں کہ میں یعنی آدم اللہ تعالی کے دربار سے بچھڑا ہوا ہوں۔ ایک غلطی ہو گئی تھی یعنی غلطی سے منع کیے گئے درخت کا پھل کھا لیا جس کی وجہ سے آدم گنہ گار بن گیا۔ میں اپنی اس غلطی کی تلافی کر کے، اللہ تعالی کے حکم پر چل کر اس مقام پر دوبارہ پہنچنا چاہتا ہوں۔ وہی میرا اصل مقام ہے۔

ترے رتبہ دان محبت کی حالت
ترے شوق میں کیا سے کیا ہو گئی ہے

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کو اپنی پہچان کے لیے پیدا کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ تعالی کی محبت کی قدر و قیمت کو سمجھے۔ شاعر کہتے ہیں کہ میں یہ بات سمجھ چکا ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھے بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ اللہ تعالی نے ہر قدم پر میری رہنمائی کی ہے۔ وہ مجھ سے بڑی محبت رکھتا ہے کیوں کہ وہ میرا خالق ہے۔ میں اس بات کو سمجھ گیا ہوں۔ میں بھی اللہ تعالی سے بہت محبت رکھتا ہوں کیوں کہ میں اس کا بندہ ہوں۔ انسان جس سے محبت رکھتا ہے اس سے ملنے کی خواہش بھی وہ اپنے دل میں رکھتا ہے۔ میں بھی اللہ تعالی سے ملاقات کا شوق رکھتا ہوں۔ اس شوق میں ہر دم یہی آرزو کرتا ہوں کہ مجھے رب تعالی کا دیدار ہو جائے۔

پہنچ جائیں گے انتہا کو بھی حسرت
جب اس راہ کی ابتدا ہو گئی ہے

تشریح : اس غزل لے آخری شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہم اپنی منزل پر پہنچ ہی جائیں گے کیوں کہ ہمارے سفر کی ابتدا ہوگئی ہے۔ ہم نے سفر شروع کر لیا ہے۔ اس شعر میں حسرت نے انسانی زندگی کا فلسفہ بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کی واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ جو انسان اس دنیا میں آیا ہے اس نے واپس بھی جانا ہے۔ موت برحق ہے۔ کسی نے جلد تو کسی نے بدیر آخر کار اس دنیا سے جانا ہی ہے۔ حسرت کہتے ہیں کہ ہمیں ایک خاص وقت تک کے لیے اس دنیا میں قیام کرنا ہوتا ہے۔ ہم نے اللہ تعالی سے واپسی کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی یہ وقت کم ہونا شروع ہو جا تا ہے۔ الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ کم ہوتے ہوتے آخر ایک دن یہ وقت ختم ہو جاتا ہے۔ زندگی کا سفر تمام ہو جاتا ہے۔

سوال۱: درج ذیل سوالات کے جوابات لکھیے:

(الف) شاعر کے ہاں مصیبت کے”راحت فزا“ ہونے کی وجہ کیا ہے؟

جواب : شاعر کے ہاں مصیبت کے”راحت فزا“ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسکے محبوب کی آرزو شاعر کی رہنما ہوگئی ہے۔

(ب) کون سے راستے پر چلنے سے مصیبت خوشی میں تبدیل ہو جاتی ہے؟

جواب : دیارِ وفا کے راستے پر چلنے سے مصیبت خوشی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

(ج) شاعر منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے پر امید ہے، کیوں؟

جواب : شاعر منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے پر امید اس لیے ہے کیونکہ ان کے مطابق جب سفر کا آغاز ہوگیا ہے تو اختتام بھی ہو جائے گا۔

سوال۲: قوسین میں دیے گئے موزوں لفظ سے خالی جگہ پر کیجئے:

  • (الف) محبوب کی۔۔۔۔۔۔رہنما بن گئی۔ (محبت، جدائی، آرزو ✓)
  • (ب)غزل کے چوتھے شعر میں حالت بدلنے سے مراد حالت کا۔۔۔۔۔ہونا ہے۔ (غیر، بہتر✓، بدتر)
  • (ج) اس غزل میں ہم قافیہ الفاظ کی تعداد ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔ (چھے، سات، آٹھ✓)

سوال۳: حسرت موہانی کی غزل کے متن کی روشنی میں درست جواب پر نشان (✓) لگائیں۔

(الف) کون سی چیز راحت فزا ہو گئی ہے؟
(۱) رنج
(۲)مصیبت (✓)
(۳) ناکامی
(۴) حسرت

(ب) شاعر نے کس چیز کو رہنما ٹھہرایا ہے؟
(۱) وصلِ محبوب
(۲) وعظ کی نصیحت
(۳)محبوب کی تمنا (✓)
(۴)راہ وفا

(د) انتہا تک پہنچنے کی شرط کیا ہے؟
(۱)ابتدا کرنا (✓)
(۲)جہد مسلسل
(۳)ایثار
(۴)چاہت اور محنت

سوال۴: حسرت موہانی کی اس غزل کے قوافی اور ردیف الگ کرکے لکھیے۔

قوافی :
فزا
صبا
رہنما
وفا
عطا
خطا
کیا
ابتداء

ردیف : ہوگئی ہے