Advertisement

اقبال مغربی فکر سے اس حد تک متاثر تھے کہ وہاں عقل و حکمت کا دخل تھا۔ جبکہ اقبال کے خیال میں عشق زندگی کیلئے لازمی شے ہیں۔عشق ہر جگہ جاری و ساری ہے۔ دنیا کے ہر چیز فانی ہے۔ مگر عشق امر ہے۔ تغیر پذیر نہیں ہے ۔عشق حق کا ترجمان ہے۔ مسجد قرطبہ اسپین میں ہے۔ جو مسلمانوں اپنے اولین دور میں تعمیر کرائی تھی۔ اور شاندار دور حکومت کی ترجمان ہے۔ اقبال جب اس مسجد کو دیکھنے گئے تو بہت سے سوالات اس کے فن کے بارے میں کیے۔ ان کے خیال میں اس کی تعمیر خون جگر سے کی گئی ہے۔ اقبال کی یہ نظم لفظی و معنی کے اعتبار سے شاعرانہ فن کاشاہکار ہے۔اس کے ذریعہ وہ جہاں اس کے فن سے متاثر ہوئے۔ اسپین کی تہذیب و تمدن میں عرب تہذیب و تمدن کے اثرات رونما نظر آئے ہیں۔

Advertisement

اقبال نہایت فلسفیانہ انداز میں فرماتے ہیں کہ نثیب وفراز سب میں آتے ہیں۔ مگر وہ اس کو صاف صاف نہیں کہہ پاے ۔عشق کو اقبال نے فضیلت وہی ہے۔ دنیا کی تمام ترقیاں تبدیلیاں عشق کےباعث ہیں۔ اقبال اپنی اس نظم میں دنیا کی انقلابی تحریکوں کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آخر دنیا ایک نقط پر قیام کرے گی۔ جس سے اقبال واقف ہیں۔

Advertisement

اس نظم کے ذریعہ اقبال کا نظریہ فنی نظریہ عشق، نظریہ کائنات اور دنیاوی نظریات واضح ہوجاتے ہیں۔جہاں حکومت اور فلسفہ اس نظم میں ہے۔وہاں شعریت اورنغمگی بھی اس نظم کا زیور ہے۔ اگرچہ حکومت اور فلسفہ خشک موضوعات تصور کیے جاتے ہیں۔

Advertisement

عشق کے بارے میں لکھتے ہیں۔

عشق قصہ حرام عشق امیر نبود
عشق ہے ابن البیل اس کے ہزاروں مقام
عشق کی مضراب ہے نغمہ یار حیات
عشق سے نور حیات،عشق ہے راز حیات

آخر میں کہتے ہیں:

Advertisement
نقش ہیں سب نام تمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے ادارے جام خون جگر کے بغیر۔
Advertisement

Advertisement

Advertisement