Back to: عامر سہیل
- نام کتاب: یادوں کے اجالے
- مصنف: ڈاکٹر شہناز فاطمی
- سال اشاعت: 2020
- ناشر: ارم پبلیشنگ ہاؤس دریا پور پٹنہ4
- انتساب: بھول بسری یادوں کے نام
- صفحات: 144
- غزلیں: 89
- نظمیں: 15
- متفرقات: متفرق اشعار 11
شہناز فاطمی اردو ادب میں اپنی ایک الگ حیثیت اور مقام رکھتی ہیں۔ شہناز فاطمی نے تقریباً ہر صنف سخن پہ اپنے ہاتھ صاف کیے ہیں جس طرح کہ ناول نگاری، افسانہ نگاری اور شاعری وغیرہ شہناز فاطمی کا پیدائشی نام شہناز بانو تھا۔ جو کہ 5 جنوری 1949 کو پیدا ہوئیں آپ ہندوستانی ہندی اور اردو زبان کی شاعرہ ہیں انہوں نے فاطمی نام اپنے تخیل کے طور پر استعمال کیا وہ سید سلطان احمد کی بیٹی ہیں اور ان کا تعلق ضلع منگیر بہار سے ہے۔ ان کے والد سید سلطان احمد اپنے وقت کے اردو کے مشہور شاعر تھے اور وہ عظیم شاعر خان بہادر سید علی محمد شاہ عظیم آبادی کے بیٹے تھے۔ اور بہار میں سول سروس ڈپٹی کلیکٹر کے طور پر کام کرتے رہے شہناز اردو کے مشہور شاعر رضا نقوی واہی کی بہو ہیں۔ ان کی تصنیف کی اگر بات کی جائے تو ان میں چاند کی ناول (2016)، ہر سنگارکے ساۓ شعری مجموعہ (2018)،کاسے کہوں ناول(2020)،کشکمش ناول(2020)،یادوں کے اجالے شعری مجموعہ (2020)،احساسات کے دائرے افسانوی مجموعہ (2021)،لمحوں کی کسک،سشما ناول اور ترتیب کردہ کتب میں شاہکار بہزاد اور باقیات واہی شامل ہیں۔
سماجی شعور
سماجی شعور کسی بھی معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ رہنے کا نام ہے سماجی شعور ایک ایسا تصور ہے جو کسی فرد ر یا معاشرے کے سماجی مسائل، اقدار اور ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہی اور احساسات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ شعور اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی ذات سے ہٹ کر دوسروں کے مسائل، انصاف اور اجتماعی بھلائی کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ لفظ “سماج” سنسکرت کے دو الفاظ سے مل کر بنا ہے “سم” اور “آج” ‘سم’ کے معنی “اکٹھا” اور “آج” کے معنی “رہنا” کے ہیں یعنی لفظ سماج کے لغوی معنی “ایک ساتھ رہنا کے ہیں” انگریزی میں سماج کے لیے سوسائٹی (society) کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی “اکٹھا ہونے” کے ہیں۔ “شعور” عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ “ش’ ع’ ر” ہے جس کے معنی “جاننا” اور “محسوس” کرنا کے ہیں اردو میں لفظ “شعور” کے معنی “سمجھ، بوجھ، احساس، دانائی اور آگاہی”وغیرہ کے ہیں یعنی سماجی شعور سے مراد حالات و مسائل کی آگہی ہے ۔اردو ادب کے مشہور تنقید نگار کلیم الدین احمد اپنی کتاب “فرہنگ ادبی اصطلاحات” میں سماجی شعور کی تعریف کچھ یوں لکھتے ہیں: سماجی شعور آگہی “Social consciousness”
اردو لغت میں سماجی شعور کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے: “سماجی شعور معاشرتی حالات و مسائل سے آگہی۔” انگریزی کی مشہور آن لائن لغت Collins کے مطابق سماجی: “شعور دار اصل ان مسائل سے اگاہی اور واقفیت کا نام ہے جو سماج میں موجود لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو متاثر کرتے ہیں مثلا غربت بے سرو سامانی صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان کی حتی الامکان مدد بھی کرنا” کولن سماجی شعور کے ضمن میں یوں لکھتے ہیں:
“سماجی شعور کو معاشرے کی آگاہی بھی کہا جاسکتا ہے جو کہ دراصل خود آگاہی کے تصور سے وابستہ ہے”۔
سماجی شعور دار اصل کسی انجمن تنظیم یا معاشرے کو درپیش مسائل کی گتھیاں سلجھانے اور اس کا حل پیش کرنے کی تدابیر کرنے کی ایک اجتماعی جدو جہد کا نام ہے۔ سماجی شعور کی اہمیت اگر ہم بات کریں تو سماجی شعور مذہب انسانی سماج میں سماجی شعور کی اہمیت اور اس کی افادیت مسلم ہے۔ یہ سماجی شعور ہی ہے جو ایک سماج کے لوگوں کو زندہ دل بناتا ہے لوگوں کے مسائل سے واقفیت ہونا ان کے دکھ درد میں شریک ہونا ان کی معاشرتی حالات کی آگاہی اور عملی طور پر مسائل کی گھتیوں کو سلجھانا ہی اصل میں وہ پیمانہ جو انسان کو حیوان سے اشرف المخلوقات کی طرف لے جاتا ہے۔
ادب میں سماجی شعور خود ادب بی ہے کیونکہ ادب سماج سے ہی جڑا ہے۔ادیب یا شاعر سماج کا حصہ ہونے کی بنا پر اپنی تخلیقات کی مدد سے سماج کے عکاسی کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ادیب اور شاعر کو معاشرے کی انکھ کہا گیا ہے معاشرے میں جس طرح کے حالات واقعات رونما ہوتے ہیں ادیب یا شاعر اس کو اپنی نثری تخلیق یا شاعری کی صورت میں ان کو تحریر کرتا ہے۔ اردو ادب پر شاعری کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اور شاعری کی تاریخ میں جتنے بھی شعراء نظر آتے ہیں ان سب کی شاعری میں سماجی مسائل اور معاشرے میں ہونے رونما ہونے والے حالات و واقعات نظر آتے ہیں جن سے سماجی شعور کی آگاہی یا ادراک ہوتا ہے۔
اگر ہم شہناز فاطمی کے شعری مجموعے “یادوں کے اجالے” میں سماجی شعور کی بات کریں تو ان کی شاعری میں ہمیں سیاسی، اقتصادی ،ماحولیاتی، ،اخلاقی اور ثقافتی شعور کی جھلک نمایاں نظر آتی ہیں اگر ہم ان کی شاعری کو سیاسی شعور کے حوالے سے دیکھیں تو ان کی شاعری میں سیاستدانوں کے فریب ان کے ظلم و ستم اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی مکاریاں نمایاں نظر آتی ہیں ان کا شعر ملاحظہ ہو:
| ہم کو سیاست دانوں نے کیا کیا پاٹھ پڑھایا ہے رنگ بہت ہے مہنگا یارو خون کی ہولی سستی ہے |
اس شعر میں سیاست دانوں کی دوغلی پالیسیوں اور معاشرتی ناہمواریوں پر گہرا طنز کیا گیا ہے اگر ہم اس کے پہلے مصرعے کو دیکھیں تو اس میں سیاست دانوں کی چالاکیوں اور فریب کاریوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سیاستدان ہمیں خوش نما خواب دکھاتے ہیں اور جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور ہمیں بے وقوف بناتے ہیں وہ عوام کو جذباتی نعروں نظریات میں الجھا کر اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم دوسرے مصرعے کی بات کریں تو اس مصرعے میں “رنگ” سے مراد خوشیاں ،خوشحالی، ترقی اور زندگی کی خوبصورتی ہے جو عام آدمی کے لیے مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ ناپید بھی ہے اور اگر دوسری طرف ہم “خون کی ہولی” کی بات کریں تو اس سے مراد یہ ہے کہ قتل و غارت،جنگ، دہشتگردی اور ظلم و ستم بہت عام اور سستا ہے۔ اور اس سے مراد یہ ہوا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت اور کوئی حیثیت نہیں اور جو خوشیوں اور جب کہ خوش حالی اور خوشیاں مخصوص طبقوں کے لیے مخصوص ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ شعر ہمارے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی حالات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔جہاں عام آدمی مشکلات میں پس رہا ہے وہی اقتدار پر بیٹھے لوگ عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اسی طرح شہناد فاطمی ثقافتی اور تاریخی ورثہ کے حوالے سے یوں کہتی ہیں:
| بھول کر اپنے اقتدار و اسلاف کو اب ہمارے قدم بے نشاں ہو گئے |
اس شعر میں سماجی زوال اور اپنی روایات و تاریخ کے علاوہ اخلاقیات اصول اور اپنے اسلاف یعنی آباؤ اجداد بزرگوں، ماضی کے عظیم لوگوں کو بھول چکے ہیں ہم اپنی منزل سے بھٹک گئے ہیں اور ہمارے پہچان مٹتی جا رہی ہے۔ہمارے جو اسلاف تھے ان میں محنت، محبت ایمانداری،علم دوستی اور قربانی جیسے اوصاف تھے مگر اج کے لوگ ان چیزوں کو فراموش کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے اصولوں کے ساتھ ساتھ اپنے ورثے کو چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے ہماری شناخت ختم ہوتی جا رہی ہے اور ہم ایک بے سمت قوم بن چکے ہیں۔جس کی وجہ سے ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف آرہے ہیں اس شعر میں سماجی شعور کے عکاسی کی گئی ہے کیونکہ یہ شیر معاشرتی زوال اور اقدار کے کھو جانے پر روشنی ڈالتا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے اسلاف کی یاد کو تازہ کرنے ہمیں مجبور کرتا ہے۔ اس کے بعد اخلاق کے اقدار اور شرم و حیا پر شعر ملاحظہ ہو:
| اب حیا کی بات کرنا بھی عبث ہےدوستو بڑھ رہی شوخی، تبسم اور حیا جاتا رہا |
اگر ہم اس شعر میں دیکھیں تو سماجی شعور میں موجود اخلاقی اقدار اور شرم و حیا کی بات کی گئی ہے اس کے علاوہ معاشرتی تبدیلیوں اور اخلاق کے زوال جو کہ سماجی شعور کی بنیادی جز ہیں ان کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس شعر میں شہناز فاطمی کہتے ہیں کہ اب تو حیا کی بات کرنا بھی بیکار ہے فضول ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں اگر آپ حیا عزت اور وقار کی بات کریں گے تو اپ کو لوگ بے ڈھنگی نگاہوں سے دیکھیں گے۔ یہاں اب شرم و حیا جیسے اوصاف کی بات کرنا کوئی معانی نہیں رکھتا ۔اس کی بڑی وجہ معاشرتی تبدیلی ہے اس شعر میں شوخی اور تبسم کو بے باکی اور لاپرواہی کے علاوہ حد سے زیادہ آزادی کے استعارے کےطورپر استعمال کیا گیا ہے۔ اس شعر میں اخلاقی زوال کی نشاندہی، معاشرتی تبدیلیوں اوران کے رویوں میں تبدیلی، عوامی بے حسی اور حیا کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح ایک اور شعر ملاحظہ ہو:
| اب تو ہے ہر سمت عریاں زندگی کے ولولے کھو گئی شرم و حیا خوف خدا جاتا رہا |
اس شعر میں بھی شہناز فاطمی سماجی شعور کی عکاسی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب ہر طرف زندگی کی عریانی کے چرچے ہیں یعنی ہمارے ہاں اخلاقی، سماجی اور روحانی بے راہ روی بہت زیادہ ہوتی جا رہی ہے وہ قدریں جو کبھی انسانی وقار کی ضامن ہوا کرتی تھی معاشرتی توازن کی بنیادیں تھی وہ اب جاتی رہی ہیں۔ انسان اپنی ازادی کے چکر میں آخرت کو بھول چکا ہے جہاں اس کو سرخرو ہونے کے لیے نیک اعمال کی ضرورت ہے۔ اس شعر میں ہمیں معاشرتی تبدیلیوں کے علاوہ اخلاقی بگاڑ پر بھرپور تنقید، روحانی و مذہبی پہلو اور خود احتسابی کا پیغام ملتا ہے۔اس کے علاوہ شعر ملاحظہ ہو جس میں معاشرتی نا ہمواری طبقاتی فرق اور معاشرے میں انصاف کی کمی کو بیان کیا گیا ہے:
| کسی بچے کو نہیں ملتی ہے سوکھی روٹی کسی بچے کے لیے ناز و نعم ہوتا ہے |
اب اس شعر میں دیکھا جائے تو بھوک بے بسی اور اس کے ساتھ ساتھ امیر طبقے کی عیش و عشرت کی بات کی گئی ہے جو کہ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہے اس شعر میں معاشرتی ناہمواری طبقاتی تفریق اور معاشرے میں انصاف کی کمی کو بیان کیا گیا۔ اس شعر میں غربت اور بھوک کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس دنیا میں ایسے لاکھوں بچے ہیں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو غربت کی زندگی فاقہ کشی، غذائے قلت اور بنیادی ضروریات کی کمی پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس میں سوکھی روٹی صرف کھانے کی علامت نہیں بلکہ معاشی بدحالی اور سماجی ناانصافی کی نشان دہی کرتی ہے۔دوسرے مصرعے میں شاعرہ عیش و عشرت اور امیری کی تصویر کشی کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ کچھ بچے تو ایسے ہیں جو عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ان کے شاندار لباس، مہنگے کھانے اور بے شمار ان کو جو سہولیات مؤثر ہیں لیکن دوسری طرف مڈل کلاس طبقے کے پاس رہنے کو اچھا گھر نہیں ہے وہ چھت جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں ان کے پاس پہننے کو اچھے کپڑے نہیں ہیں۔ یہ شعر طبقاتی فرق اور مسائل وسائل کی غیر مساوی تقسیم کو واضح کرتا ہے۔ سماجی اور سیاسی شعور کی عکاسیی کرتے ہوئے ایک اور شعر ملاحظہ ہو:
| کچھ اور بھی لٹیرے کھڑے تھے دیار میں گھر ایک جو بچا تھا اسے بھی گرا دیا |
یہ شعر بھی سماجی اور سیاسی شعور کے عکاسی کرتا ہے شعر میں لفظ “لٹیرے” استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ان لوگوں کے لیے جو سماج کو نقصان پہنچاتے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں جو انسانی فلاح میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں اس شعر میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ لٹیرے یعنی ظالم انسان زندگیوں کا استحصال کرنے والے یا وہ طاقتیں موجود تھیں جنہوں نے سماج کو نقصان پہنچایا لیکن جو واحد گھر “گھر”(استحکام امید اور مثبت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے)کہ گھر کسی بھی مثبت سماجی قدر اصول یا کسی فرد کی آخری امید کی علامت ہوتا ہے یہ شعر اس بات کے عکاس کرتا ہے کہ جب معاشرے میں مکمل بگاڑ آ جاتا ہے تو معاشرہ مکمل طور پر تباہی کی طرف چلا جاتا ہے اور اگر کچھ بچا ہوتا ہے تو وہ کسی ظالم، بے انصاف اور طاقتور لوگوں کی نظر ہو جاتا ہے اس شعر میں یہ درس بھی دیا گیا کہ اگر ہم اپنے حق کے لیے اواز بلند نہیں کریں گے تو طاقتور طبقہ ہمارا اسی طرح استحصال کرتا رہے گا اور ایک دن ہم اپنا بچا کچا سب کچھ کھو بیٹھیں گے۔
مزید شعر ملاحظہ ہو جس میں بدامنی لاقانونیت اور ظلم و ستم کو بیان کیا گیا ہے:
| ہر روز قتل و خون کا بازار گرم ہے لگتا ہے کوئی رہنما آج بھی نہیں |
یہ شعر ایسے سماج کی عکاسی کرتا جہاں بدامنی لاقانونیت اور ظلم و ستم کا لوگ شکار ہیں جہاں قیادت کی عدم موجودگی یا نااہلی کے باعث کوئی بہتری نظر نہیں آتی دیکھائی دے رہی۔
اس شعر میں عوامی احساسات بے بسی اور حکمرانوں کی غفلت کو نمایاں کیا گیا ہے اور لوگوں کو اس حقیقت کا ادراک کراتا ہے کہ اگر رہنمائی کا فقدان رہا تو مزید حالات ناساز ہو سکتے ہیں یہ شعر مزاحمتی انداز رکھتا ہے جو عوام کو اچھے رہنماؤں اور حالات بدلنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ اسی طرح شہناز فاطمی اپنی غزلوں کے علاوہ نظموں کے ذریعے بھی سماجی شعور کی عکاسی کرتی ہیں ان کی نظم : “بھارت کو گلستان بنا دو”
| نہ ہندو بنا دو نہ مسلمان بنا دو تم ساری ہی دنیا میں بس انسان بنا دو |
اس شعر میں انسان دوستی کا درس دیا گیا ہے کہ ان کو مذہبی تعصب سے آزاد ہو کر انسانیت کو فروغ دینا چاہیے نہ کہ مذہب کو جس طرح استادوں کے استاد مرزا غالب نے فرمایا کہ:
| بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا |
غالب کی طرح شہناز فاطمی نے جو مضمون آفرینی کی ہے اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نےعمیق مشاہدے اور تجربے کوبظاہر بڑے آسان میں الفاظ ہمارے سامنے پیش کیا ہے ۔پھر اپنے تجربے کو مستند ثابت کرنے کے لیے جو دلیل پیش کی ہے وہ انتہائی کمال کی ہے ۔ کہ مذہب سے پہلے انسانیت ہے ناکہ مذہب پہلے ہے۔ ان کی ایک اور نظم ملاحظہ ہو:
“ایک مزدور جو۔۔۔۔۔۔۔”
| ایک مزدور جو۔۔۔۔۔ نکل پڑا ہے گھر سے گھر کی اور خود کو بچانے بھوک سے بے روزگاری سے اور مہاماری سے ایک مزدورجو۔۔۔۔۔۔ سلگتی ہوئی دھوپ میں راتوں کی نیند میں زخمی پاؤں سے چل رہا بھٹک رہا ایک مزدورجو۔۔۔۔۔۔ خودکوتپا کر تپتی دوپہر میں پسینےسےنہاکر بناتارہا بنا ڈالا ہمارے لئے بڑے بڑے گھر اے۔ سی کمرے خوبصورت چھت مگر نہیں بنا پایا خود کے لیے سر چھپانے کو چھت اسی لیے وہ چل پڑا سر چھپانے داناپانی پینے پھر اپنے گھر کی طرف ایک مزدور کو ہمارا تہ دل سے سلام |
ہر عہد سے جڑا ہوا شاعر اپنے عہد کے سیاسی و سماجی، اخلاق، معاشرتی اور اقتصادی معاملات کے بارے میں ایک اپنا منفرد نقظہ نظر رکھتا ہے اور وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے اپنے عہد کے سماجی نظریات کو دوسروں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتا ہے شہناز فاطمی نے بھی اسی طرح اپنے اس دور کی سماجی اقدار، سماجی رویوں، سماجی بے ثباتی اور اس سماج میں ہونے والی ناانصافی اور تبدیلیوں کو قلم بند کیا ہے جو کہ ان کے عمیق مشاہدے اور تجربے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حوالہ جات
- اُردو لغت ،وفاقی وزارت تعلیم حکومت پاکستان 1190
- کلیم الدین احمد ،پروفیسر،”فرہنگ ادبی اصطلاحات” نئی دہلی: ترقی اُردو بیورو،1986 ص 179
- چالس کولن،پروفیسر، “امریکن جرنل آف سوشیالوجی”، جلد 12 ،ص675
- شہناز فاطمی،ڈاکٹر،”یادوں کے اجالے”پٹنہ:ارم پبلیشنگ ہاؤس 2020 ص 40
- ایضاً ص 42
- ایضاً ص 43
- ایضاً ص 43
- ایضاً ص 52
- ایضاً ص 93
- ایضاً ص 101
- ایضاً ص 132
- ایضاً ص 136
| تحریر | عامر سہیل |